445
چاند سی ہو بہو تری صورت
دل کی ہے آرزو تری صورت
ہم کسی اور کے نہیں طالب
حاصل ِ جستجو تری صورت
ميں تجھے ڈھونڈنے کہاں جاؤں
ہر طرف کو بکو تری صورت
لوگ محفل میں تھے مگر جاناں
تھی مرے چار سو تری صورت
سارے منظر ہوئے ہیں بے معنی
جب سے ہے روبرو تری صورت
گنگنانے لگا ہے باغوں میں
بلبل ِ خوش گلو تری صورت
عاصم ممتاز
