خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا"میرے پاس تم ہو”
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقید

"میرے پاس تم ہو”

ایک کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 26, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 26, 2020 0 تبصرے 731 مناظر
732

"میرے پاس تم ہو”

رعونت، تکبر اور قدرے خبط میں مبتلا، انتہائی کج فہم مگر خود ساختہ عقل و بینش کا ممبع ایک حادثاتی طور پر وقوع پزیر ہونے والا ڈرامہ نگار جس کی باتوں اور انداز سے یوں لگتا ہے کہ وہ فہم و ادراک اور علم و فراست کا کوئی قدیم یونانی دیوتا ہے اورجس کے قلم سے نکلا ہوا ہر لفظ ستائش اور پزیرائی کا حقدار ہے، جو بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ڈائریکٹر کی کیا جُرائت کہ میرا لکھا بدل سکے، اداکار!! ارے وہ کہاں اس قابل کہ میرے لکھے پر مشورہ بھی دے سکے ــــــــ اس قدر گھٹیا اور سطحی سا موضع لیکر اِتراتا پھرے گا اور بہت سستا سا روائیتی اختتام اپنے ڈرامے کا کرے گا، مجھے اور مُجھ جیسے لاکھوں ادب کے طالبعلموں کو اس کا ادراک تو تھا مگر وہ یوں اپنی تہذیب، ثقافت ، مذہب ، معاشرت اور قلم کی حُرمت کو پامال کرے گا اس کا شائبہ تک نہیں تھا- جس معاشرے میں باقاعدہ تعلیم کا فقدان ہو اور جہاں کی درسگاہیں بھی علمی معیار کی تنزلی کیساتھ ساتھ بنیادی تربیت کی اہمیت و حساسیت سے نا آشناہوں، وہاں ایسے سستے موضوعات ہی نمو پاتے ہیں- وگرنہ تو ہندو پاک کو عصمت چُغتائی، قرۃالعین حیدر، امرتا پریتم ، کرشن چندر، منٹو، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، بانو آپا, عطا الحق قاسمی، مستنصر حسین تارڑ، امجد اسلام امجد اور نہ جانے کتنے ہی بڑے بڑے کہانی کار قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئے جنہوں نے اپنی تحریوں سے تہذیبِ انسانی ، غیر مرعی کیفیات اور معاشرتی ریوں کی ایسی دلکش لفظی تزئین وتجسیم کی کہ قارئین اور ناظرین کے قلوب و اذہان آج تک انہیں حسین اور طلسماتی منظروں کی گرفت میں ہیں- الفاظ اور اُن کی تکریم سے آگہی فطرت کا ایسا خوبصورت انعام ہے جس کے باعث کوئی بھی لکھنے والا اپنی بڑی سے بڑی تخلیق میں بھی برکت اور مذید توفیق کا طالب ہوتا ہے وہ لفظ کی شدت اور ملائمت کا فکری شعور رکھنے کے ساتھ ساتھ اُس کی اثرپزیری اور اُس کے استعمال کے ہُنر سے بھی واقف ہوتا ہے-

ساری دنیا کے ادیب اور قلمکار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ الفاظ مرہم ہیں گھاؤ نہیں، الفاظ عزت و توقیر کے علمبردار ہیں بے حُرمتی اور بے توقیری کے نہیں، الفاظ خوشی و انبساط کا گہوارہ ہیں یاسیت اور دُکھ کا جہنم نہیں، الفاظ دل میں لہلانے والے وہ خوش رنگ پھول ہیں جن کی مہکار کئی زمانوں تک اندر کے موسموں کو ہرا بھرا اور معطررکھتی ہے نا کہ جن کی تمازت اور کُھردرا پن احساس کو چھلنی کر کے رکھ دے- یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر میں مزاحمتی ادب وہ پزیرائی حاصل نہیں کر سکا جو مقبولیت اور ستائش محبت بھرے گیتوں، اشعار، کہانیوں اور محبت کے مضامین کا احاطہ کرنے والے الفاظ کا مقدر ہوئی- سخت اور بدنما الفاظ کے زریعے شہرت کی خواہش ذہنی بیماری تو ہوسکتی ہے تخلیق نہیں ـ یہ الفاظ ہی ہیں جو کسی کی بھی شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں انہیں کی روشنی میں پرورش، تعلیم، ماحول اور رحجانات کا تعین کیا جاتا ہے- ایسے الفاط اگر قرطاس پر نمودار ہوں تو وہ قاری کی بینائی جُھلسا رہے ہوتے ہیں ـ ڈرامے کی کہانی اور بالخصوص برقی میڈیا پر ڈرامے کیساتھ جُڑے بہت سے عوامل اُس میں کشش اور توجہ کا باعث ہوتے ہیں، خود فنکاروں کا سراپا، سیٹ، روشنیاں، ادائیگی ، بیک گراؤنڈ میوزک، اور ملبوسات عام فہم ناظر کی توجہ بٹائے رکھتے ہیں اور ایک سطحیت کا حامل لکھاری اسی چالاکی کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے- رنج و الم سے کراہتی اور دکھوں پر ماتم کناں ایک عورت حقیقی زندگی میں اور حقیقی دُکھ پر وہ توجہ حاصل نہیں کر سکتی جو پردہ سکرین پر ایک حسین و جمیل خاتون، اعلی لباس زیب تن کیئے عمدہ میک اپ کیساتھ حاصل کرہوتی ہے حالانکہ اُس کا غم بھی نقلی ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی میں ماہم ہی خلیل الرحمن قمر کے گھر کے ماحول کی اصل عکاس ہے جو شہوار کو معاف تو کر دیتی ہے مگر اُس کو اُس کی غلطی کا احساس دلانے کیلئے ہر لمحہ اُس کی تضحیک اور عزتِ نفس کو مجروح کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے- وہ اسی طرح مہوش کو نواز کر بھی اُس کی تذلیل کرتی ہےـ ایسے لوگ دکھاوے کے حساس اور تہذیب یافتہ تو ہو سکتے ہیں مگر ان کا اندر حیوانیت سے لبریز ہوتا ہےـ شائد کسی ایسی ہی ماہم نے اُس کو بھی پروان چڑھایا کہ وہ عورت کو "دوٹکے کی” یا ” دوسرے درجے کی عورت” کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا- دانش کے روپ میں وہ ایک ایسا کمینہ صفت بدلہ لینے والا نظر آتا ہے کہ جو عام خود ساختہ مہذب لوگوں کی طرح مُنہ سے تو اظہار نہیں کرتا مگر آسائیشوں کے حصول اور معاشی فراوانی ہی کو دوسرے کیلئے سزا اور پچھتاوا سمجھتا ہےـ شہوار اُس کی استحصالی سوچ کا آئینہ دار ہے اورمہوش بھی کوئی اُس کے اندر ہی کی محرومی معلوم ہوتی ہے جس کے حصول کیلئے وہ کسی حد تک بھی گِر سکتا ہےـ رومی جس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ وہ خود ہے، نظر اندازی اور غُربت کا شکار گھروں کے درجنوں بچے گلی محلوں میں ایسی ہی پیغام رسانی کر رہے ہوتے ہیں ـ اُستانی بھی ہمیشہ ہی سے کمزور اور غیر شائستہ لوگوں کا آسان ہدف رہی ہے سو اُس نے یہاں بھی عورت کی تقدیس اور پیغبرانہ پیشے کا تمسخر اُڑایا-نفسیات میں احساسِ کمتری کا علاج تو ممکن ہے مگر احساسِ برتری کا شکار لوگوں کو ٹھیک کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، وہ ابو جہل ہو یا فرعون ایسی ہی لاعلاج بیماری کیوجہ سے نشانِ عبرت بنےـ متین کے روپ میں وہ اپنے گناہوں کا کفارہ اور اپنی بد عملیوں کا بھوندا اعتراف کرتے ہوئے نظر تو آتا ہے مگر اُس کی توجہیات بھی تراشتا ہےـ

دانش کا دوست خالصتاََ مادیت پرست اور اُس کی بیوی خیل الرحمن کے گرد ہی موجود کوئی کردار ہے جو مذہب اور معاشرت سے ناواقف طلاق جیسی شرعی پابندی کے باوجود مہوش کے دل میں دانش سے دوبارہ ملنے اور اُس کے واپس پلٹ آنے کی اُمید روشن کر رہی ہےـ ایسی لغویات پر اِترانا کسی سلیم العقل شخص کا شعار تو ہر گز نہیں ہو سکتاـ اُس پر مُستزاد یہ کہ وہ کہتا تھا کہ کمزور دل حضرات میرے لکھے اس منفی کیفیات کے عکاس ڈرامے کی آخری قسط پاس دوائیاں رکھ کر دیکھیں ـ کیسا مکار اور ” دوسرے درجے” کا سیلز مین ہے جو مٹی مِلا گُڑ کا شربت شہد بنا کر بیچ رہا تھا- کیونکہ اس ساری تشہیر کے پیچھے ایک بہت بڑا سرمایا دار گروپ کارفرما تھا جو اپنی پراڈکٹ بیچنے کیلئے اس لکھاری کو اُردو ڈرامے کا سب بڑا سرخیل ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھاـ اب اِس ” دوٹکے کے ڈرامے کےاختتام” پر جب وہ کوئی ایسا تیر نہیں چلا سکا سواۓ ایک شخص کو مرتا ہوا دکھا کر لوگوں کی خوف بھری ہمدردیاں سمیٹنے کے، تو اُسے چاہیئے کہ انہیں گھٹیا جملوں کو تماچے بنا کر اپنے ہی چہرے پر برسائے تاکہ پھر کوئی ” دوٹکے” کا نچلے درجے کا لکھاری معصوم ، سادہ لوح اور کم پڑھے لکھے لوگوں کا وقت برباد نہ کرے اور اُن کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے اُن کیلئے ڈرامے کو صرف ہلکی پھلکی تفریح ہی سے تعبیر کرے نہ کہ کوئی مافوق الفطرت شے ثابت کرنے کی شعبدہ بازی کرے

محبوب صابر
 سیالکوٹ
25-01-2020

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہِلے ہوئے لوگ
  • کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟
  • انٹرویو شہزاد نیّرؔ
  • سیب، طاقت اور قوت کا خزانہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ نہیں راستہ نہیں معلوم
پچھلی پوسٹ
جینے والی قضا

متعلقہ پوسٹس

دنیا میں کچھ لوگ

دسمبر 2, 2025

بھرے ہیں دم جو

فروری 25, 2025

وہ بے بسی کہ جسم میں

نومبر 8, 2025

ادھورے پن کی رفتہ رفتہ

اکتوبر 7, 2025

موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر

جنوری 16, 2026

سوراج کے لیے

جنوری 23, 2020

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

طمانچہ

نومبر 29, 2019

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

ابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی

جنوری 13, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شی مین

مئی 10, 2020

موم بتی کے آنسو

جنوری 15, 2020

رِدائے شب نہیں رہی

مئی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں