595
رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے
کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے
ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچ ہے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے
لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا !
کیا کہوں اے مرے دل میں اتر جانے والے
جانے والے ترے مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہو گئے تعبیر بتانے والے
ہر نیا زخم کسی اور کے سینے کا سعود
چھیڑ جاتا ہے مرے زخم پرانے والے
سعود عثمانی
