425
میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی
محبتوں کی پرستار ہو کے نکلی تھی
مرے ہی دام لگانے پہ تل گئے کچھ لوگ
میں بس خوشی کی خریدار ہو کے نکلی تھی
وہ ایک خواب کے بدلے میں لے گیا نیندیں
میں جس کے پیار میں لاچار ہو کے نکلی تھی
تمام شہر مرا ہاتھ تھامنے آیا
میں اپنے آپ سے بیزار ہو کے نکلی تھی
مرے نصیب پہ سایہ رہا اماوس کا
میں چاندنی کی طلبگار ہو کے نکلی تھی
پڑے ہیں چہرے پہ بےرحم وقت کے چھینٹے
اگرچہ زندگی تیار ہو کے نکلی تھی
قدم قدم پہ نشانہ بنی زمانے کا
جو مثلِ رونقِ بازار ہو کے نکلی تھی
منزّہ سیّد
