104
کیا بنانا تھا کہ کاغذ پہ بنا لیں آنکھیں
اتنی پیاری تھیں کہ آنکھوں سے لگا لیں آنکھیں
اب تو کہتے ہو کہ بس ایک نظر ایک نظر
کیا کرو گے جو کبھی اس نے اٹھا لیں آنکھیں
ان کی آمد پہ لگا سانس رکی جاتی ہے
دل بچھایا کبھی رستے میں بچھا لیں آنکھیں
جانے کیا سوچ کے پورا نہیں دیکھا ہم نے
جانے کیا سوچ کے اس نے بھی چرا لیں آنکھیں
رک گیا آج کوئی بات جو کرتے کرتے
دونوں ہاتھوں میں صغیر اس نے چھپا لیں آنکھیں
صغیر احمد صغیر
یہ غزل انڈیا میں گائی گئی ہے
