386
گمان پڑتا یہی ہے کہ رہبری ہوئی ہے
یہ اپنی راہ کسی راہ سے جُڑی ہوئی ہے
ہزار ابرِ محبت یہاں برس بھی چکے
بس ایک شاخِ تمنّا نہیں ہری ہوئی ہے
گزشتہ شب سے وہ ہے شہر میں کہیں موجود
فضا میں خوشبوئے وابستگی رچی ہوئی ہے
ملی تھی ہم کو، خدا سے ، بہشت کے بدلے
مگر یہ زندگی معیار سے گِری ہوئی ہے
اُفق پہ پھیلا ہوا ہے فراقِ یار کا رنگ
اداس شام مری گود میں پڑی ہوئی ہے
اٹھا لے ہاتھ مرے چارہ گر کہ اس دل میں
صلیبِ حسرتِ غم مستقل گڑی ہوئی ہے
صائمہ آفتاب
