561
بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار میں
پہنچیں گے سرورکونین کے دیار میں
جسے چاہیں دونوں جہاں میں عطاکریں
یہ عظمت بھی ہے نبی کے اختیار میں
اتفاق میں برکت ہے اتحاد میں بھی
نقصان ہی نقصان ہے دوستوانتشار میں
چہرہ ء مصطفی دیکھنے سے جی نہیں بھرتا
یہ کہہ رہے تھے صدیق اکبرغار میں
باطل کے سامنے سرجھکتاہی نہیں
درس ملاہے یہ حسین کے انکار میں
آقاکی غلامی میں جولطف ہے
نہیں ہے دنیاکے کسی اقتدار میں
اداکریں سنت رسول کی اس طرح بھی
گھو میں مدینے کی گلیوں میں بازار میں
پسندتھی ہمارے اسلاف کوگوشہ نشینی
ہم چاہتے ہیں نام ہولکھا اشتہار میں
پریشان رہتے ہیں جوانہیں بتادو
تسکین قلب ملتی ہے محفل سرکار میں
الفت محبوب کے چرچے خوب ہیں لیکن
نظرآئے محبت رسول کی کردار میں
مانگی ہیں بخشش امت کی دعائیں صدیق
شفاعت بھی کریں گے روزشماربھی
محمدصدیق پرہار
