خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااسلامی اِنقلاب اور ادب
آپکا اردو بابااردو تحاریرمقالات و مضامین

اسلامی اِنقلاب اور ادب

ایک اردو مقالہ از خورشید گیلانی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019 0 تبصرے 323 مناظر
324

اسلامی اِنقلاب اور ادب

اظہار مافی الضمیر کو خوبصورت پیرایہ مل جائے تو اسے ادب کہتے ہیں۔ خواہ وہ نثر ہو یا نظم، کلام میں دل کی گہرائیوں میں سرایت کرجانے کی قوت ہو، الفاظ جچے تلے ہوں ، مفہوم واضح ہو ، تراکیب سبک اور رواں ہوں ، مضمون اچھوتا اور دلنشیں ہو ، جملوں کی بندش کا خاص اہتممام ہو تو ایسا ادب "ادبِ عالیہ” کہلاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ بھلی بات جو بہت سوں کو بھلی لگے ، ادب شمار ہوتی ہے۔
تمام ادبی حلقوں میں یہ بحث کب سے جاری ہے اور اب تک موجود ہے کہ ادب درحقیقت "ادب برائے ادب” ہوتا ہے یا "ادب برائے مقصد”۔ ہمارے خیال میں دنیا کی کوئی چیز جس خلاق فطرت نے کوئی سا قالب بخشا ہے ، بے مقصد نہیں۔ خواہ وہ چکنے پتھر پر رینگتی چیونٹی ہو یا اتھاہ اندھیروں میں سانس لینے والا کوئی کیڑا، ان میں سے کوئی بھی بلاضرورت اور بلاجواز نہیں۔ فطرت کی ہزاروں حکمتیں اس میں پوشیدہ ہوں گی خواہ ان کا انکشاف ہوا یا ابھی تک ذہنِ فطرت میں پردہ کشائی کی منتظر ہوں۔ تو پھر کیوں کر "ادب” ایسی چیز جس کا براہ راست تعلق فرد کے دل اور معاشرے کے دماغ سے ہو بے مقصد ہوسکتی ہے؟ منہ سے نکلا ہوا کوئی سا جملہ بھی بے مقصدیت سے خالی نہیں ہوتا، گو کسی پر طنز ہو یا خود کلامی!
تو وہ صنف جسے الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کے لئے دماغ پگھلے ، ذہن گھنٹوں تک سوچ میں ڈوبا رہے ، رات کی نیند اچاٹ جائے اور دن محویت اور مراقبے میں بسر ہوں تب نوکِ قلم اور زبان کسی لفظ سے آشنا ہو ، کیسے بے مقصد اور خالی از منفعت ہوسکتی ہے؟
ہاں وہ لوگ جو خود اپنے وجود کی مقصدیت کے منکر ہوں تو ان کا ادب تو کجا ہر قول و فعل بے مقصد ہی ہوگا ۔ جب وجود ہی بے معنی ہے تو اس کے تعینات اور اعتبارات کیا مفہوم پائیں گے؟
آزاد خیالی کی حدِ انتہا الحاد کہلاتی ہے ، لیکن نکتہ وروں نے الحاد کو بھی ایک مسلک مانا ہے ، مادیت اور اس کے مظاہر میں سرتاپا غرق ادیب کوئی بھی جملہ سپردِ قلم کرے گا تو اس کا ادب بھی بامقصد ہوگا ، خواہ وہ کتنا پست اور منفی کیوں نہ ہو ، سو یہ بات طے ہے کہ "ادب براے ادب” ایک اپج ضرور ہے خلا میں بسنے والے دماغوں اور رائی کا پربت بنانے والے ذہنوں کی ، حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی علمی اور منطقی اعتبار ثابت نہیں ہوتا۔
ادب معاشرے کی آنکھ ، کان ، زبان اور ذہن ہوتا ہے ، انسانی زندگی میں پھیلے ہوے ہزاروں بے جوڑ و سنگین واقعات ، طبقاتی امتیازات ، روزمرہ کے معمولات ، رموز و کنایات ، سنگین حادثات ، فطرت کی نوازشات ، یہ سب کچھ ایک ادیب کو دکھائی اور سنائی دیتے ہیں ، جس سے اس کا ذہن منفی یا مثبت طور پر متاثر ہوتا ہے ، ان مناظر کو وہ زبان عطا کرتا ہے اور پھر سے وہ معاشرے کو لوٹا دیتا ہے۔ ادیب کی بات حقائق سے ہم آہنگ ہو تو معاشرہ اسے اپنے اندر جذب کرلیتا ہے کبھی تو وہ چیزیں کھمبی کی طرح یکایک اگ آتی ہیں اور کبھی معاشرہ دانہ گندم کی طرح ایک خاص عمل سے گزار کر ذرا توقف کے بعد نشوونما دیتا ہے۔ اگر وہ ادیب اپنے اظہار کو حقائق کے قریب نہیں کرسکا تو اس کے الفاظ محتاج معانی رہ جاتے ہیں ، کچھ مدت کے بعد بھعلی بسری داستان بن جاتے ہیں۔
چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ "عہد جاگیر” کے ادب اور "دورِ سرمایہ” کے ادب میں امتیازی فرق ہے ، اسی طرح مادی معاشرے اور روحانی قدروں پر استوار سوسائٹی کا ادب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے ، ملوک و سلاطین اور سلطانی جمہور کا ادب دو مختلف سمتیں رکھتا ہے ، افریقی و یورپی ادب میں نمایاں اختلاف ہوگا ، اگر "ادب براے ادب” کا فلسفہ تسلیم کرلیا جائے تو نئی دنیا اور وہ بھی خلا میں بسا کر ہی اسے سچ ثابت کیا جاسکتا ہے ورنہ جہاں حق اور باطل ، ظالم اور مظلوم ، حاکم اور محکوم برسر پیکار ہوں گے ، ادب کبھی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا۔
چونکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی بنیادوں سے لے کر کنگروں تک اسلام ہی اسلام ہے اس لئے اس کا ادب "اسلامی ادب” کہلائے گا ، اگر اشتراکی ادب ، ترقی پسند ادب ، رومانوی ادب ، تجریدی ادب ایسی اصطلاحیں قابل قبول ہیں تو "اسلامی ادب” کی اصطلاح ہر لحاظ سے صحیح اور جامع ہے۔
کوئی بھی ہمہ گیر اِنقلاب کسی معاشرے میں اس وقت تک برپا نہیں ہوتا جب تک کہ قوم کے اذہان اس کے لئے پوری طرح تیار نہ ہوں ، یہ ذہنی تیاری نثری اور منظوم ادب کے بغیر ممکن نہیں۔ ادیب قوم کے خفتہ جذبات کو بیدار کرتا ، لطیف حساسات کے تار ہلاتا ،معاشرتی تضادات کو ابھارتا اور لوگوں میں تبدیلی کی آگ بھڑکاتا ہے۔ فاسق و فاجر معاشرے میں لوگوں کی حسِ لطیف منجمد ہوکر رہ جاتی ہے ، وڈیروں کا ظلم و ستم لوگوں کو جذبات سے عاری کردیتا ہے ، حکومت کی ناانصافیاں اور آمرانہ چالیں لوگوں میں اکتاہٹ کی حد تک یکستانیت پیدا کردیتی ہیں جس کے نتیجے میں عوام اپنے حقوق تک فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ نہ ان میں جینے کی خواہش رہتی ہے نہ پنپنے کی امنگ اور نہ ہی آگے بڑھنے کی صلاحیت ! ۔ اس موقع پر ادب انسانوں کو زندگی کے نئے تقاضوں ، جاندار رویوں ، صحت بخش سوچ اور حیات آفریں ذوق عطا کرکے معاشرے کی قدریں بدلنے پر آمادہ کرتا ہے۔
کوئی بھی انسانی سوسائٹی حکومتی قوانین کے بل بوتے پر حرکت نہیں کرتی بلکہ معاشرے کے قالب مین سوچ ، فکر ، ذوق خود آگہی ، حسِ لطیف ، اور جوہرِ انسانی کی روح اسے زندہ رکھتی اور عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ ادب کا انہی صفات اور صلاحیتوں سے براہ راست تعلق اور ادب ہی یہ فر رابطہ ہوتا ہے ، حکومتی قوانین زیادہ سے زیادہ معاشرے کا اوپری ڈھانچہ قائم رکھنے کے لیے کارآمد ثابت ہوتے ہیں ورنہ ان کا انسانوں کی تعلیم و تربیت ، ذہن سازی ، فکر انگیزی ، احساس فرض اور دوسری مثبت صلاحیتوں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
ادب ہی یہ فریضہ سر انجام دیتا ہے اور مثبت نتائج پیدا کرتا ہے۔ ذہن کے دور دراز گوشے ، دلی اتھاہ گہرائیاں ، دماغ کے لطیف ترین پردے ، سوچ کا آخری نقطہ ، فکر کی پنہائی اور عقل کی بلند ترین سطح صرف ادب ہی سے اثر لیتی ہے ، جب انسان کی داخلی کیفیت بدل جاتی ہے تو معاشرے کی خارجی صورت اپنے آپ اِنقلاب سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔
ادیب ہی جنگوں کے لئے ذہن بناتے ہیں اور امن کی راہیں ہموار کرتے ہیں ، ادیب ہی طبقاتی کشمکش کو آخری مراحل میں داخل کرکے اسے اِنقلاب کے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی اِنقلاب کے لیے ادب اور ادیب کا بنیادی کردار نظر آتا ہے۔
دوسرے اِنقلابات چونکہ وقتی اور یک رخے ہیں اس لیے ان کے حوالے سے ادب کی بھی مخصوص نوعیت سامنے آتی ہے جبکہ اسلام بذات خود ایک دائمی ، کامل ، ہمہ گیر ، مثبت اور اِنقلاب پرور دین ہے ، بناء برین اسلامی ادب کا دائرہ اتنا ہی وسیع ، اثرات اتنے ہی پائیدار ، نقطہ نگاہ اتنا ہی بلند اور نصب العین اتنا ہی آفاقی اور کائناتی بن جاتا ہے۔
اسلام بیک وقت بدی کے مقابلے میں نیکی ، ظلم کے معاملے میں عدل ، طبقات کے مقابلے میں مساوات ، جبر کے مقابلے میں آزادی ، آمریت کے مقابلے میں شورائیت ، استحصال کے مقابلے میں انصاف اور جہالت کے مقابلے میں علم کا داعی ہے اس لئے اسلامی ادب کے موضوعات میں اخلاقیات ، اجتماعیات ، سیاسیات ، معاشیات اور سوانح و شخصیات سبھی کچھ شامل ہوتا ہے ۔ایک ہمہ گیر اِنقلاب کی تیاری کے لئے تمام شعبہ ہائے علم زیر بحث آتے ہیں۔
ادب ہی کے ذریعے ملک کی ناخواندہ اکثریتی کو مائل بہ تعلیم کیا جاتا سکتا ہے ، ادبی تحریریں ہی استحصال ، ظلم ، جبر اور آمریت کے خلاف جذبات ابھارتیں اور انہیں اِنقلاب کے راستے پر ڈال سکتی ہیں ، اِنقلاب سے پہلے ادب کی زبان میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ ایک جنت نظیر سوسائٹی کا نقشہ کھینچتی اور لوگوں کو روحانی اور ذہنی طور پر ایسی سوسائٹی کی تشکیل پر آمادہ کرتی ہے۔ جب اِنقلاب کا وقوع حقیقت ثابت ہوتا نظر آتا ہے تو ذہنوں کی زمین پہلے سے بالکل تیار ہوچکی ہوتی ہے ، ایک ادیب کسی مثالی معاشرے کی نقشہ کھینچتے ہوئے لوگوں کے جذبات کو متوجہ کرنے کا شاندار سلیقہ رکھتا ہے کہ اِنقلابی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں نیکی غالب اور بدی مغلوب ہو ، بھوک ، ننگ ، بیماری اور جہالت کا نام و نشان نہ ہو ، حقوق طلبی کے مقابلے میں فرائض کی ادائیگی عمومی رویہ ہو ، کسی کے ضمیر پر بوجھ اور کسی کے ذہن پر تالے نہ پڑے ہوں ، کوئی آقا اور کوئی بندہ نہ ہو ، عدل کا پلڑا کسی کی جانب جھکا ہوا نہ ہو ، کچھ ہاتھ سے دینے والے اور کچھ لینے والے نہ ہوں ، جہاں زر اور زمین قدر عزت نہیں بلکہ اہلیت اور صلاحیتِ معیار عظمت ہو۔ بلاشبہ ادب کو اسلامی اِنقلاب کی منزل کے حصول کے لئے سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

از
روحِ اِنقلاب
صاحبزادہ خورشید گیلانی رحمۃ اللہ علیہ​

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا
  • شبدوں کے سنہری رتھ پر سوار شاہ زادی
  • یوم نسواں، تبدیلی کا تخم
  • گھر کا پتہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چند تصویرِبُتاں
پچھلی پوسٹ
پڑیئے گر بیمار

متعلقہ پوسٹس

تربوز سے تپتی دھوپ میں ٹھنڈک کا احساس

نومبر 14, 2021

گلچیں

دسمبر 1, 2019

ڈیجیٹل دور میں تعلیم کا نیا رخ

ستمبر 19, 2025

مخلص نہیں ہیں آپ شکایت نہ کیجیے

ستمبر 19, 2020

اپنا کردار نبھایا ہے سمندر میں نے

مئی 22, 2020

چند تصویرِبُتاں

دسمبر 15, 2019

عید کی جوتی

دسمبر 30, 2017

روشنی کا راستہ

اپریل 16, 2025

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

بس اور کچھ نہیں

دسمبر 10, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی

مارچ 15, 2025

مرد کی آمریت

ستمبر 20, 2020

سبق آموز واقعات ( دوسرا اور...

جولائی 30, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں