100
دل کو کر دیتا ہے تسخیر سمجھتا ہوں میں
عشق کو پاؤں کی زنجیر سمجھتا ہوں میں
اب مرے خواب میں آنے کی اجازت ہے تمہیں
اب تو ہر خواب کی تعبیر سمجھتا ہوں میں
روح اب تک ہے معطر گُلِ تازہ کی طرح
عشق کو مُشکِ ابد گیر سمجھتا ہوں میں
تو اگر مجھ کو پکارے تو ٹھہرتا ہی نہیں
ایک لمحے کو بھی تاخیر سمجھتا ہوں میں
عدنان اثر
