خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکیا کورونا کسی نئے نظام کی تشکیل چاہتا ہے ؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کیا کورونا کسی نئے نظام کی تشکیل چاہتا ہے ؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 15, 2020 0 تبصرے 61 مناظر
62

کیا کورونا کسی نئے نظام کی تشکیل چاہتا ہے ؟

دنیا کے حالات دیکھتے ہی دیکھتے بد تر ہوتے جا رہے ہیں ، جس کی سب سے بڑی وجہ معیشت کا مسلسل غیر مستحکم ہونا ہے، کاوربار ی دنیا بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے ۔ بظاہر حالات کے قابو میں آنے کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دے رہے ۔ ایک طرف نیوزی لینڈ نے کورونا پر قابو پالینے کا حتمی اعلان کردیا اور اس خوشخبری کی وجہ نیوزی لینڈ میں نئے کورونا کیس کا سامنے نا آنا ہے ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ خبر کسی خوشگوار ہوا کے جھونکے سے کم نہیں لیکن اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ نیوزی لینڈ کی کل آبادی لگ بھگ اڑتالیس لاکھ ہے جوکہ پاکستان کے شہر لاہور کی کل آبادی سے بھی کم ہے ، یاد دہانی کیلئے دوبارہ لکھا جارہا ہے کہ صرف لاہور شہر کی آبادی نیوزی لینڈ (پورے ملک ) کی کل آبادی سے کہیں زیادہ ہے ۔ تقریباً دو ہفتے (پندرہ دن) مکمل بندش(لا ک ڈاءون) کورونا سے نمٹنے کیلئے سب سے اہم قدم ہے جسے اٹھانے کیلئے انتہائی مستحکم معیشت کیساتھ آپکے نظام میں پائیداری اور عوام کا مکمل اعتماد ہونا بہت ضروری ہے اور یہ اسلئے ضروری ہے کہ عوام کو یقین ہو کہ ان تک لاک ڈاءون کے دوران غذائی اجناس بغیر کسی بد عنوانی کے پہنچتا رہے گا ۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ بندش کا مطلب مکمل بندش ہے کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اب جن ممالک کی آبادی مختصر ہے اورانکی معیشت کسی حد تک مستحکم تھی وہ ممالک کوروناکی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات سے بروقت اقدامات کی بدولت قدرے سنبھل گئے ۔ دوسری طرف دنیا کے وہ ممالک جہاں معیشت انتہائی مستحکم تھی لیکن آبادی کا تنا سب زیادہ ہونے کی وجہ سے انتہائی اقدامات نا اٹھا سکنے کی بدولت بے تحاشہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، مالی نقصان تو اپنی جگہ ہے لیکن انسانی جانوں کے نقصانات میں ابھی تک کمی نہیں آپا رہی ہے ۔

آئیں امریکہ میں ہونے والے نسلی فسادات پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں جہاں گوروں کالوں کا ایک دائمی تنازع ایک بار پھر اپنی بھرپور جوبن پر پہنچا ہوا ہے جس کے پیچھے ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ نامی شخص کا پولیس کی حراست میں بیہیمانہ قتل بنا ۔ اس قتل کا سبب کچھ بھی ہو لیکن جو آگ امریکہ میں اس قتل سے لگی ہے اتنی آسانی سے بجھے گی نہیں بلکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی چلی جائی گی اور بہت قوی امکان ہے کہ کسی نئے نظرئیے کو بھی جنم دےدے ۔ آمریکہ ابھی تک کورونا کہ کاری واروں کی بھرپور زد میں ہے اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوکہ عملی طور پر ابتک کورونا کو اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں تھے کل انہوں نے یقینا انتہائی دباءو میں آکر اپنے چہرے پر ماسک سے ڈھنپا جب وہ ایک ہسپتال کا دورہ کر رہے تھے ۔ ہر روز امریکہ کی کسی نا کسی ریاست میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھائی دے رہا ہے اور اسی طرح سے اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ محسوس یہ کیا جاتا رہا ہے کہ امریکی عوام اپنے صدر کی طرح یہ سمجھ رہی تھی کہ کورونا وائرس کو بھی بارود سے ختم کردینگے یا انکی فوج اس وائرس پر با آسانی قابو پالے گی لیکن حسب معمول انکی فوج کی طرف انکا صحت کا نظام بھی اس وائرس پر قابو پانے میں ابتک قطعی طور پر ناکام رہا ہے ۔

پاکستان ایک معجزاتی مملکت ہے اور گزشتہ ستر (۰۷) سالوں سے اس ملک کو کھانے والے کھاتے جا رہے ہیں لیکن اللہ کے فضل و کرم سے یہ ملک جوں کا توں چلے جا رہاہے ، ایسے اور بہت سارے دلائل موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے کورونا کے حوالے سے کئے گئے اقدامات بھی ایسے ہی معجزوں سے وابسطہ رہے ۔ یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ لفظ معجزے کیوں استعمال کیا گیا ہے ، تو اسکی دلیل یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی باضابطہ تھنک ٹینک(سوچ بچار کرنے والا ادارہ) نہیں ہیں اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ملک میں قابل اور اہل لوگ نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے ہ میں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ، ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب ، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر شمشاد اختر اور دیگر قابل قدر شخصیات سے نوازا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے ان جہاں دیدہ شخصیات سے جز وقتی کام لئے ہیں اور پھر انہیں ایک طرف کردیا ہے ۔ بد قسمتی سے اس ملک کے حکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ صرف اپنے ناموں کی تختیاں لگوانے کے شوقین رہے ،تختی کہاں لگائی جا رہی ہے اور کیوں لگائی جا رہی ہے اس سے ملک اور قوم کیا فائدہ ہوگا اس سے سروکار نہیں رکھا گیا ۔ پاکستان میں سیاست کو وراثتی جاگیر سمجھا جاتا رہا ہے ، نسل در نسل سیاست میں رہنے والے خاندان یہ بھول ہی گئے ہیں کہ یہ اپنے گھر کا باورچی خانہ کسی اور کے خرچے پر چلا رہے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ ۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں شامل لوگوں کی اکثریت ان ہی شکلوں پر قائم ہے جو دیگر سیاسی جماعتوں کو داغ رفاقت دے کر یہاں آئے ہیں ، ان سب کا کہنا یہ ہے کہ اب وہ ملک و قوم کیلئے اور سب سے بڑھ کر پاکستان میں انصاف کی بحالی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں اور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اس سے بھی بڑھ کر وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے کام نا کرنے والوں کو یا جن کی وزارتوں سے کوئی تخلیقی یا عوامی فلاح و بہبود کا کام نہیں کیا جا رہا ایسے وزراء کو تبدیل کیا جا رہاہے اور اگر کوئی وزیر کسی قسم کی بد عنوانی میں ملوث پایا جا رہا ہے تو اسکے خلاف انکوائری بھی کی جا رہی ہے ، ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ وزیر ان اقدامات پر کسی قسم کا منفی رد عمل بھی دیتے نہیں دیکھائی دے رہے ۔ موجودہ حکومت کے وجود میں آنے کی سب سے بڑی وجہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ ہے اور حکومت کسی حد تک اپنے اس نعرے کی پاسداری کرتی دیکھائی دے رہی ہے تقریباً سیاستدان عدالتوں کے چکر لگاتے دیکھائی دے رہے ہیں گوکہ اپنی بیگناہی اور حکومت پر تہمتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن پیشیوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا عدالتی نظام بھی انصاف کی فراہمی میں اپنی قابل قدر مثالیں قائم نہیں کرسکا ہے اور بہت سارے معاملات میں جرائم پیشہ افراد مختلف وجوہات کی بناء پر رہائی پاتے چلے جا رہے ہیں ۔ پاکستانی حکومت خصوصی طور پر وزیر اعظم عمران خان صاحب کی ذاتی دلچسپی کی بدولت آج پاکستانی قوم ارطغرل غازی ڈرامہ اردو میں دیکھ رہے ہیں ، جہاں یہ ڈرامہ ہمارے قومی نشریاتی چینل یعنی پاکستان ٹیلی وژن پر دیکھایا جا رہا ہے وہیں لوگوں کی دلچسپی انہیں یوٹیوب پر لے گئی اور دیکھنے والے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں ۔ یقینا یہ ایک مثبت اقدام ہے کم ازکم ہماری نسلوں کو یہ تو پتہ چلے کہ ہماری تاریخ ہے کیا اورکس طرح سے سلطنت عثمانیہ تشکیل پائی کس طرح سے خدا کی مدد اپنے کاموں میں لگے لوگوں کیلئے آتی رہی ہے اور کس طرح اللہ تعالی پر بھروسہ کرنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔ مذکورہ ڈرامے نے دراصل آگہی کے سمندر میں دھکیل دیا ہے اب جو لوگ اس ڈرامے کی حقیقت کو پہنچ جائینگے یقینا وہ نا صرف پاکستان سے خیرخواہ ہوجائینگے بلکہ بہت ممکن ہے امت کی تشکیل کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوجائیں ۔ بہت حد تک یقین ہے کہ کورونا کی بدولت بہت ساری تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں جن میں سب سے اول تو دنیا میں بگڑا ہوا طاقت کا توازن بہتر ہوتا چلا جائے گا جس کی بدولت بہت حد تک ممکن ہے کہ سپر پاور کا کھیل ہی ختم ہوجائے ، دوئم یہ کہ معاشیات کا نظام بھی جو چند ملکوں کی قید میں ہے ان سے آزاد ہوکر وسعت پاجائے اور گروپ آٹھ اور گروپ بیس کی تعداد میں ہر ممکن اضافہ کرنے کی ضرورت پیش آجائے، سوئم یہ کہ انصاف کی صحیح معنوں میں بالادستی قائم ہوجائے ۔ جہاں جہاں دراندازی کی گئی ہے اسے فل فور واپس کیا جائے اور ان زبوں حال ممالک کی تشکیل نو کو یقینی بنایا جائے ۔ کالے گورے کی صدیوں پر مہیت جنگ کو بھی ختم کیا جائے اور یہ جنگ ہر ملک میں برابری کی نمائندگی کی مر ہون منت قائم کی جاسکتی ہے ۔ ترکی نے ایک بہت بڑا عملی کارنامہ پیش کیا ہے کہ ہیگیا صوفیا ء کو واپس چوراسی سال بعدمسجد کا رتبہ دے دیا گیا ہے جو کہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے ۔ قوی امکان ہے کہ جب دنیا سے کورونا جائے (جسکا ابھی کوئی علم نہیں ) تو دنیا کو یکسر بدل کر جائے اور عدل اور انصاف کا بول بالا کر کے جائے، باقی قارئین خوب سمجھ سکتے ہیں کہ عدل و انصاف کا بول بالا کیسے قائم ہوسکتا ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تہذیب و تمدن
  • اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
  • سزا
  • آنکھوں میں جتنے چاہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سب سے بہترین گفتگو
پچھلی پوسٹ
اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا کالم

متعلقہ پوسٹس

چھوکری کی لوٹ

اپریل 5, 2020

عالمی سطح پر جنونیت کیا گل کھلا رہی ہے

اکتوبر 9, 2017

ٹاور آف سائیلنس

جنوری 20, 2021

وہ جو ملتا ہے کچھ فائدہ دیکھ کر

جنوری 1, 2023

خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے

نومبر 30, 2019

جھکی جھکی آنکھیں

جنوری 17, 2020

تمام رات مرے گھر

جولائی 6, 2025

پانی میں ستی

مارچ 15, 2023

بڑھتی ہوئی ویڈیو گرافی

نومبر 19, 2025

عشقیہ کہانی

جنوری 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کافی

دسمبر 7, 2019

ایلف شفق کا ناول: حوا کی...

نومبر 29, 2020

زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان...

نومبر 19, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں