خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےہرنام کور
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ہرنام کور

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2013
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2013 0 تبصرے 329 مناظر
330

ہرنام کور

نہال سنگھ کو بہت ہی الجھن ہورہی تھی۔ سیاہ و سفید اور پتلی مونچھوں کا ایک گچھا اپنے منہ میں چوستے ہوئے وہ برابر دو ڈھائی گھنٹے سے اپنے جوان بیٹے بہادر کی بابت سوچ رہا تھا۔ نہال سنگھ کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کھلا میدان تھا جس پر وہ بچپن میں بنٹوں سے کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔ کسی زمانے میں وہ گاؤں کا سب سے نڈر اور جیالا جوان تھا۔ کماد اور مکئی کے کھیتوں میں نے اس کئی ہٹیلی مٹیاروں کو کلائی کے ایک ہی جھٹکے سے اپنی مرضی کا تابع بنایا۔ تھوک پھینکتا تھا تو پندرہ گز دور جا کے گرتی تھی۔ کیا رنگیلا سجیلا جوان تھا۔ لہریا پگڑی باندھ کر اور ہاتھ میں چھوی لے کر جب میلے ٹیلے کو نکلتا تو بڑے بوڑھے پکار اٹھتے۔

’’کسی کو سندر جاٹ دیکھنا ہے تو سردار نہال سنگھ کو دیکھ لے۔ ‘‘

سندر جاٹ تو ڈاکو تھا۔ بہت بڑا ڈاکو جس کے گانے ابھی تک لوگوں کی زبان پر تھے لیکن نہال سنگھ ڈاکو نہیں تھا۔ اس کی جوانی میں دراصل کرپان کی سی تیزی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں اس پر مرتی تھیں۔ ہرنام کور کا قصہ تو ابھی گاؤں میں مشہور تھا کہ اس بجلی نے کیسے ایک دفعہ سردار نہال سنگھ کو قریب قریب بھسم کر ڈالا تھا۔ نہال سنگھ نے ہرنام کور کے متعلق سوچا تو ایک لحظے کے لیے اس کی ادھیڑ ہڈیوں میں بیتی ہوئی جوانی کڑکڑا اٹھی۔ کیا پتلی چھمک جیسی نار تھی۔ چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ جن کو وہ ہر وقت چوستی رہتی۔ ایک روز جب کہ بیریوں کے بیر پکے ہوئے تھے۔ سردار نہال سنگھ سے اس کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ وہ زمین پر گرے ہوئے بیر چن رہی تھی اور اپنے چھوٹے چھوٹے لال ہونٹ چوس رہی تھی۔ نہال سنگھ نے آوازہ کسا۔ کیہڑے یار دا تتا ددھ پیتا۔ سڑگیاّں لال بُلّیاں؟ ہرنام کور نے پتھر اٹھایا اور تان کر اس کو مارا۔ نہال سنگھ نے چوٹ کی پروا نہ کی اور آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑ لی۔ لیکن وہ بجلی کی سی تیزی سے مچھی کی طرح تڑپ کر الگ ہو گئی اور یہ جا وہ جا۔ نہال سگھ کو جیسے کسی نے چاروں شانے چت گرادیا۔ شکست کا یہ احساس اور بھی زیادہ ہو گیا۔ جب یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی۔ نہال سنگھ خاموش رہا۔ اس نے دوستوں دشمنوں سب کی باتیں سنیں پر جواب نہ دیا۔ تیسرے روز دوسری بار اس کی مڈبھیڑ گوردوارہ صاحب سے کچھ دور بڑکی گھنی چھاؤں میں ہوئی۔ ہر نام کور اینٹ پر بیٹھی اپنی گرگابی کو کیلیں اندر ٹھونک رہی تھی۔ نہال سنگھ کو پاس دیکھ کر وہ بدکی۔ پر اب کے اس کوئی پیش نہ چلی۔ شام کو جب لوگوں نے نہال سنگھ کو بہت خوش خوش اونچے سروں میں۔ فی ہر نام کورے، اونارے۔ گاتے سنا تو ان کو معلوم ہو گیا۔ کون سا قلعہ سر ہوا ہے۔ لیکن دوسرے روز نہال سنگھ زنا بالجبر کے الزام میں گرفتار ہوا اور تھوڑی سی مقدمے بازی کے بعد اسے چھ سال کی سزا ہو گئی۔ چھ سال کے بجائے نہال سنگھ کو ساڑھے سات کی قید بھگتنی پڑی۔ کیونکہ جیل میں اسکا دو دفعہ جھگڑا ہو گیا تھا۔ لیکن نہال سنگھ کو اس کی کچھ پروا نہ تھی۔ قید کاٹ کر جب گاؤں روانہ ہوا اور ریل کی پٹڑی طے کرکے مختلف پگڈنڈیوں سے ہوا ہوا گوردوارے کے پاس سے گزر کر بڑکے گھنے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے کیا دیکھا کہ ہرنام کور کھڑی ہے۔ اور اپنے ہونٹ چوس رہی ہے۔ اس سے پیشتر کہ نہال سنگھ کچھ سوچنے یا کہنے پائے۔ وہ آگے بڑھی اور اس کی چوڑی چھاتی کے ساتھ چمٹ گئی۔ نہال سنگھ نے اس کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور گاؤں کے بجائے کسی دوسری طرف چل دیا۔ ہر نام کور نے پوچھا۔

’’کہاں جارہے ہو؟‘‘

نہال سنگھ نے نعرہ لگایا۔

’’جو بولے سو نہال ست سری اکال۔ ‘‘

دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ نہال سنگھ نے ہرنام کور سے شادی کرلی اور چالیس کوس کے فاصلے پر دوسرے گاؤں میں آباد ہو گیا۔ یہاں بڑی منتوں سے چھ برس کے بعد بہادر پیدا ہوا اور بیساکھی کے روز جب کہ وہ ابھی پورے ڈھائی مہینے کا بھی نہیں ہوا تھا۔ ہر نام کور کے ماتا نکلی اور وہ مر گئی۔ نہال سنگھ نے بہادر کی پرورش اپنی بیوہ بہن کے سپرد کردی جس کی چار لڑکیاں تھیں چھوٹی چھوٹی۔ جب بہادر آٹھ برس کا ہوا تو نہال سنگھ اسے اپنے پاس لے آیا۔ چار برس ہو چلے تھے کہ بہادر اپنے باپ کی نگرانی میں تھا۔ شکل صورت میں وہ بالکل اپنی ماں جیسا تھا اسی طرح دبلا پتلا اور نازک۔ کبھی کبھی اپنے پتلے پتلے لال لال ہونٹ چوستا تو نہال سنگھ اپنی آنکھیں بند کرلیتا۔ نہال سنگھ کو بہادر سے بہت محبت تھی۔ چار برس اس نے بڑے چاؤ سے نہلایا دھلایا۔ ہر روز دہی سے خود اس کے کیس دھوتا۔ اسے کھلاتا۔ باہر سیر کے لیے لے جاتا۔ کہانیاں سناتا۔ ورزش کراتا مگربہادر کو ان چیزوں سے کوئی رغبت نہ تھی۔ وہ ہمیشہ اداس رہتا۔ نہال سنگھ نے سوچا اتنی دیر اپنی پھوپھی کے پاس جو رہا ہے۔ اس لیے اداس ہے۔ چنانچہ پھر اس کو اپنی بہن کے پاس بھیج دیا اور خود فوج میں بھرتی ہو کر لام پر چلا گیا۔ چار برس اور گزر گئے۔ لڑائی بند ہوئی اور نہال سنگھ جب واپس آیا تو وہ پچاس برس کے بجائے ساٹھ باسٹھ برس کا لگتا تھا۔ اس لیے اس نے جاپانیوں کی قید میں ایسے دکھ جھیلے تھے کہ سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔ اب بہادر کی عمر نہال سنگھ کے حساب کے مطابق سولہ کے لگ بھگ تھی مگر وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا چار برس پہلے تھا۔ دبلا پتلا۔ لیکن خوبصورت۔ نہال سنگھ نے سوچا کہ اس کی بہن نے بہادر کی پرورش دل سے نہیں کی۔ اپنی چار لڑکیوں کا دھیان رکھا جو بچھیریوں کی طرح ہر وقت آنگن میں کڈکڑے لگاتی رہتی ہیں۔ چنانچہ جھگڑا ہوا اور وہ بہادر کو وہاں سے اپنے گاؤں لے گیا۔ لام پر جانے سے اس کے کھیت کھلیان اور گھر بار کا ستیاناس ہو گیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے نہال سنگھ نے ادھر دھیان دیا اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں سب ٹھیک ٹھاک کرلیا اس کے بعد اس نے بہادر کی طرف توجہ دی۔ اس کے لیے ایک بھوری بھینس خریدی۔ مگر نہال سنگھ کو اس بات کا دکھ ہی رہا کہ بہادر کو دودھ، دہی اور مکھن سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جانے کیسی اوٹ پٹانگ چیزیں اسے بھاتی تھیں۔ کئی دفعہ نہال سنگھ کو غصہ آیا مگر وہ پی گیا۔ اس لیے کہ اسے اپنے لڑکے سے بے انتہا محبت تھی۔ حالانکہ بہادر کی پرورش زیادہ تر اس کی پھوپھی نے کی تھی مگر اس کی بگڑی ہوئی عادتیں دیکھ کر لوگ یہی کہتے تھے کہ نہال سنگھ کے لاڈ پیار نے اسے خراب کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح محنت مشقت نہیں کرتا۔ گو نہال سنگھ کی ہرگز خواہش نہیں تھی کہ اس کا لڑکا مزدوروں کی طرح کھیتوں میں کام کرے اور صبح سے لے کر دن ڈھلنے تک ہل چلائے۔ واہگوروجی کی کرپا سے اس کے پاس بہت کچھ تھا۔ زمینیں تھیں۔ جن سے کافی آمدن ہو جاتی تھی۔ سرکار سے جو اب پنشن مل رہی تھی۔ وہ الگ تھی۔ لیکن پھر بھی اس کی خواہش تھی۔ دلی خواہش تھی کہ بہادر کچھ کرے۔ کیا؟ یہ نہال سنگھ نہیں بتا سکتا تھا۔ چنانچہ کئی بار اس نے سوچا کہ وہ بہادر سے کیا چاہتا ہے۔ مگر ہر بار بجائے اس کے کہ اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ اس کی بیتی ہوئی جوانی کے دن ایک ایک کرکے اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگتے اور وہ بہادر کو بھول کر اس گزرے ہوئے زمانے کی یادوں میں کھو جاتا۔ لام سے آئے نہال سنگھ کو دو برس ہو چلے تھے۔ بہادر کی عمر اب اٹھارہ کے لگ بھگ تھی۔ اٹھارہ برس کا مطلب یہ ہے کہ بھرپور جوانی۔ نہال سنگھ جب یہ سوچتا تو جھنجھلا جاتا۔ چنانچہ ایسے وقتوں میں کئی دفعہ اس نے اپنا سر جھٹک کر بہادر کو ڈانٹا۔

’’نام تیرا میں نے بہادر رکھا ہے۔ کبھی بہادری تو دکھا۔ ‘‘

اور بہادر ہونٹ چوس کر مسکرا دیتا۔ نہال سنگھ نے ایک دفعہ سوچا کہ بہادر کی شادی کردے۔ چنانچہ اس نے اِدھر اُدھر کئی لڑکیاں دیکھیں۔ اپنے دوستوں سے بات چیت بھی کی۔ مگر جب اسے جوانی یاد آئی تو اس نے فیصلہ کرلیا کہ نہیں، بہادر میری طرح اپنی شادی آپ کرے گا۔ کب کرے گا۔ یہ اس کو معلوم نہیں تھا۔ اس لیے کہ بہادر میں ابھی تک اس نے وہ چمک نہیں دیکھی تھی۔ جس سے وہ اندازہ لگاتا کہ اس کی جوانی کس مرحلے میں ہے۔ لیکن بہادر خوبصورت تھا۔ سندر جاٹ نہیں تھا۔ لیکن سندر ضرور تھا۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں، پتلے پتلے لال ہونٹ، ستواں ناک، پتلی کمر۔ کالے بھونرا ایسے کیس مگر بال بہت ہی مہین۔ گاؤں کی جوان لڑکیاں دور سے اسے گھور گھور کے دیکھتیں۔ آپس میں کانا پھوسی کرتیں مگر وہ ان کی طرف دھیان نہ دیتا۔ بہت سوچ بچار کے بعد نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا۔ شاید بہادر کو یہ تمام لڑکیاں پسند نہیں اور یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے ہرنام کور کی تصویر آگئی۔ بہت دیر تک وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد اس کو ہٹا کر اس نے گاؤں کی لڑکیاں لیں۔ ایک ایک کرکے وہ ان تمام کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا مگر ہر نام کور کے مقابلے میں کوئی بھی پوری نہ اتری۔ نہال سنگھ کی آنکھیں تمتما اٹھیں۔

’’بہادر میرا بیٹا ہے۔ ایسی ویسیوں کی طرف تو وہ آنکھ اٹھا بھی نہیں دیکھے گا۔ ‘‘

دن گزرتے گئے۔ بیریوں کے بیر کئی دفعہ پکے۔ مکئی کے بوٹے کھیتوں میں کئی دفعہ نہال سنگھ کے قد کے برابر جوان ہوئے۔ کئی ساون آئے مگر بہادر کی یاری کسی کے ساتھ نہ لگی اور نہال سنگھ کی الجھن پھر بڑھنے لگی۔ تھک ہار کر نہال سنگھ دل میں ایک آخری فیصلہ کرکے بہادر کی شادی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ ایک گڑ بڑ شروع ہو گئی۔ بھانت بھانت کی خبریں گاؤں میں دوڑنے لگیں۔ کوئی کہتا انگریز جارہا ہے۔ کوئی کہتا روسیوں کا راج آنے والا ہے۔ ایک خبر لاتا کانگرس جیت گئی ہے۔ دوسرا کہتا نہیں ریڈیو میں آیا ہے کہ ملک بٹ جائے گا۔ جتنے منہ، اتنی باتیں۔ نہال سنگھ کا تو دماغ چکرا گیا۔ اسے ان خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سچ پوچھئے تو اسے اس جنگ سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جس میں وہ پورے چار برس شامل رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آرام سے بہادر کی شادی ہو جائے اور گھرمیں اس کی بہو آجائے۔ لیکن ایک دم جانے کیا ہوا۔ خبر آئی کہ ملک بٹ گیا ہے۔ ہندو مسلمان الگ الگ ہو گئے ہیں بس پھر کیا تھا چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ چل چلاؤ شروع ہو گیا اور پھر سننے میں آیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جارہے ہیں۔ سینکڑوں لڑکیاں اغواء کی جارہی ہیں۔ لاکھوں کا مال لوٹا جارہا ہے۔ کچھ دن گزر گئے تو پکی سڑک پر قافلوں کا آنا جانا شروع ہوا۔ گاؤں والوں کو جب معلوم ہوا تو میلے کا سماں پیدا ہو گیا۔ لوگ سو سو، دو دو سو کی ٹولیاں بنا کر جاتے۔ جب لوٹتے تو ان کے ساتھ کئی چیزیں ہوتیں۔ گائے، بھینس، بکریاں، گھوڑے، ٹرنک، بستر اور جوان لڑکیاں۔ کئی دنوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ گاؤں کا ہر جوان کوئی نہ کوئی کارنامہ دکھا چکا تھا حتیٰ کہ کھیا کا ناٹا اور کبڑا لڑکا دریام سنگھ بھی۔ اس کی پیٹھ پر بڑا کوہان تھا۔ ٹانگیں ٹیڑھی تھیں، مگر یہ بھی چار روز ہوئے پکی سڑک پر سے گزرنے والے ایک قافلے پر حملہ کرکے ایک جوان لڑکی اٹھا لایا تھا۔ نہال سنگھ نے اس لڑکی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ خوبصورت تھی۔ بہت ہی خوبصورت تھی۔ لیکن نہال سنگھ نے سوچا کہ ہرنام کور جتنی خوبصورت نہیں ہے۔ گاؤں میں کئی دنوں سے خوب چہل پہل تھی۔ چاروں طرف جوان شراب کے نشے میں دھت بولیاں گاتے پھرتے تھے۔ کوئی لڑکی بھاگ نکلتی تو سب اس کے پیچھے شور مچاتے دوڑتے کبھی لوٹے ہوئے مال پر جھگڑا ہو جاتا تو نوبت مرنے مارنے پر آجاتی۔ چیخ و پکار تو ہرگھڑی سنائی دیتی تھی۔ غرضیکہ بڑا مزیدار ہنگامہ تھا۔ لیکن بہادر خاموش گھر میں بیٹھا رہتا۔ شروع شروع میں تو نہال سنگھ بہادر کی اس خاموشی کے متعلق بالکل غافل رہا۔ لیکن جب ہنگامہ اور زیادہ بڑھ گیا اور لوگوں نے مذاقیہ لہجے میں اس سے کہنا شروع کیا

’’کیوں سردار نہال سیاں، تیرے بہادر نے سنا ہے بڑی بہادریاں دکھائی ہیں؟‘‘

تو وہ پانی پانی ہو گیا۔ چوپال پر ایک شام کو یرقان کے مارے ہوئے حلوائی بشیشر نے دون کی پھینکی اور نہال سنگھ سے کہا۔

’’دو تو میرا گنڈا سنگھ لایا ہے۔ ایک میں لایا ہوں بند بوتل، اور یہ کہتے ہوئے بشیشر نے زبان سے پٹاخے کی آواز پیدا کی جیسے بوتل میں سے کاگ اڑتا ہے۔

’’نصیبوں والا ہی کھولتا ہے ایسی بند بوتلیں سردار نہال سیاں۔ ‘‘

نہال سنگھ کا جی جل گیا۔ کیا تھا بشیشر اور کیا تھا گنڈا سنگھ؟ ایک یرقان کا مارا ہوا، دوسرا تپ دق کا۔ مگر جب نہال سنگھ نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ جو کچھ بشیشر نے کہا حقیقت تھی۔ بشیشر اور اس کا لڑکا گنڈا سنگھ کیسے بھی تھے۔ مگر تین جوان لڑکیاں، ان کے گھر میں واقعی موجود تھیں اور چونکہ بشیشر کا گھر اس کے پڑوس میں تھا۔ اس لیے کئی دنوں سے نہال سنگھ ان تینوں لڑکیاں کے مسلسل رونے کی آواز سن رہا تھا۔ گوردوارے کے پاس ایک روز دو جواں باتیں کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔

’’نہال سنگھ کے بارے میں تو بڑی باتیں مشہور ہیں۔ ‘‘

’’ارے چھوڑ۔ بہادر تو چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے۔ ‘‘

نہال سنگھ سے اب نہ رہا گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے بہادر کو بہت غیرت دلائی اور کہا۔

’’تو نے سنا لوگ کیا کہتے پھرتے ہیں۔ چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھا ہے تو۔ قسم واہگوروجی کی، تیری عمر کا تھا توسینکڑوں لڑکیاں میری ان ٹانگوں۔ ‘‘

نہال سنگھ ایک دم خاموش ہو گیا۔ کیونکہ شرم کے مارے بہادر کا چہرہ لال ہو گیا تھا۔ باہر نکل کر وہ دیر تک سوچتا چلا گیا اور سوچتا سوچتا کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔ اس کی ادھیڑ مگر تیز آنکھوں کے سامنے وہ کُھلا میدان تھا۔ جس پر برنٹوں سے لے کر کبڈی تک تمام کھیل کھیل چکا تھا۔ بہت دیر تک نہال سنگھ اس نتیجے پر پہنچا کہ بہادر شرمیلا ہے اور یہ شرمیلا پن اس میں غلط پرورش کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے دل ہی دل میں اپنی بہن کو بہت گالیاں دیں اور فیصلہ کیا کہ بہادر کے شرمیلے پن کو کسی نہ کسی طرح توڑا جائے اور اس کے لیے نہال سنگھ کے ذہن میں ایک ہی ترکیب آئی۔ خبر آئی کہ رات کو کچی سڑک پر سے ایک قافلہ گزرنے والا ہے۔ اندھیری رات تھی۔ جب گاؤں سے ایک ٹولی اس قافلے پر حملہ کرنے کیلیے نکلی تو نہال سنگھ بھی ٹھا ٹھا باندھ کر ان کے ساتھ ہولیا۔ حملہ ہوا۔ قافلے والے نہتے تھے۔ پھر بھی تھوڑی سی جھپٹ ہوئی۔ لیکن فوراً ہی قافلے والے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ حملہ کرنیوالی ٹولی نے اس افراتفری سے فائدہ اٹھایا اور لوٹ مار شروع کردی۔ لیکن نہال سنگھ کو مال و دولت کی خواہش نہیں تھی۔ وہ کسی اور ہی چیز کی تاک میں تھا۔ سخت اندھیرا تھا گو گاؤں والوں نے مشعلیں روشن کی تھیں مگر بھاگ دوڑ اور لوٹ کھسوٹ میں بہت سی بجھ گئی تھیں۔ نہال سنگھ نے اندھیرے میں کئی عورتوں کے سائے دوڑتے دیکھے مگر فیصلہ نہ کرسکا کہ ان میں سے کس پر ہاتھ ڈالے۔ جب کافی دیر ہو گئی اور لوگوں کی چیخ و پکار مدھم پڑنے لگی تو نہال سنگھ نے بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر دوڑنا شروع کیا۔ ایک دم تیزی سے ایک سایہ بغل میں گٹھڑی دبائے اس کے سامنے سے گزرا۔ نہال سنگھ نے اس کا تعاقب کیا۔ جب پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لڑکی ہے اور جوان۔ نہال سنگھ نے فوراً اپنے گاڑھے کی چادر نکالی اور اس پر جال کی طرح پھینکی۔ وہ پھنس گئی۔ نہال سنگھ نے اسے کاندھوں پر اٹھا لیا اور ایک ایسے راستے سے گھر کا رخ کیا کہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔ مگر گھر پہنچاتو بتی گُل تھی۔ بہادر اندر کوٹھری میں سو رہا تھا۔ نہال سنگھ نے اسے جگانا مناسب خیال نہ کیا۔ کواڑ کھولا۔ چادر میں سے لڑکی نکال کر اندر دھکیل، باہر سے کنڈی چڑھا دی۔ پھر زور زور سے کواڑ پیٹے۔ تاکہ بہادر جاگ پڑے۔ جب نہال سنگھ نے مکان کے باہر کھٹیا بچھائی۔ اور بہادر اور اس لڑکی کی مڈبھیڑ کی کپکپاہٹ پیدا کرنے والی باتیں سوچنے کیلیے لیٹنے لگا تو اس نے دیکھا کہ بہادر کی کوٹھڑی کے روشن دانوں میں دیے کی روشنی ٹمٹما رہی ہے۔ نہال سنگھ اچھل پڑا۔ اور ایک لحظے کیلیے محسوس کیا کہ وہ جوان ہے۔ کماد کے کھیتوں میں مٹیاروں کو کلائی سے پکڑنے والا نوجوان۔ ساری رات نہال سنگھ جاگتا رہا اور طرح طرح کی باتیں سوچتا رہا۔ صبح جب مُرغ بولنے لگے تو وہ اٹھ کر کوٹھڑی میں جانے لگا۔ مگر ڈیوڑھی سے لوٹ آیا۔ اس نے سوچا کہ دونوں تھک کر سو چکے ہوں گے اور ہوسکتا ہے۔ نہال سنگھ کے بدن پر جھرجھری سی دوڑ گئی اور وہ کھاٹ پر بیٹھ کر مونچھوں کے بال منہ میں ڈال کر چوسنے اور مسکرانے لگا۔ جب دن چڑھ گیا اور دھوپ نکل آئی تو اس نے اندرجا کر کنڈی کھولی۔ سٹرپٹر کی آوازیں سی آئیں۔ کواڑ کھولے تو اس نے دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر کیسری دوپٹہ اوڑھے بیٹھی ہے۔ پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس پر یہ موٹی کالی چٹیا سانپ کی طرح لٹک رہی تھی۔ جب نہال سنگھ نے کوٹھڑی کے اندر قدم رکھا تو لڑکی نے پاؤں اوپر اٹھا لیے اور سمٹ کربیٹھ گئی۔ طاق میں دیا ابھی تک جل رہا تھا۔ نہال سنگھ نے پھونک مار کر اسے بجھایا اور دفعتہً اسے بہادر کا خیال آیا۔ بہادر کہاں ہے؟۔ اس نے کوٹھڑی میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ دوقدم آگے بڑھ کر اس نے لڑکی سے پوچھا۔

’’بہادر کہاں ہے؟‘‘

لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک دم سٹرپٹرسی ہوئی اور چارپائی کے نیچے سے ایک اور لڑکی نکلی۔ نہال سنگھ ہکّا بکّا رہ گیا۔ لیکن اس نے دیکھا۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں نے دیکھا کہ جو لڑکی چارپائی سے نکل کربجلی کی سی تیزی کے ساتھ باہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے داڑھی تھی، منڈی ہوئی داڑھی۔ نہال سنگھ چارپائی کی طرف بڑھا لڑکی جو کہ اس پر بیٹھی تھی اور زیادہ سمٹ گئی مگر نہال سنگھ نے ہاتھ کے ایک جھٹکے سے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔ ایک چیخ نہال سنگھ کے حلق سے نکلی اور دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

’’ہرنام کور‘‘

زنانہ لباس، سیدھی مانگ، کالی چٹیا۔ اور بہادر ہونٹ بھی چوس رہا تھا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا
  • لاجونتی
  • سمپورن سنگھ کالرا
  • رائٹ برادران
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
پچھلی پوسٹ
مسز ڈی کوسٹا

متعلقہ پوسٹس

نئے دھان سے پہلے

جون 15, 2020

ایموجیز اور سیکسٹنگ

اگست 20, 2023

ذمہ دار کون؟

مئی 3, 2020

گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 25, 2025

ملبے کا ڈھیر

جنوری 16, 2020

سانجھ

جنوری 5, 2020

جہاں پریاں اترتی ہیں

جون 15, 2025

اردو شاعری کے آغاز کا پس منظر

دسمبر 4, 2019

ماں تیری ممتا

جون 29, 2020

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے...

مئی 22, 2021

ہر مشکل میں مضبوط

دسمبر 12, 2024

ایک بند کمرہ

جنوری 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں