خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٹیکنالوجی کی ترقی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ٹیکنالوجی کی ترقی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 8, 2025 0 تبصرے 102 مناظر
103

ٹیکنالوجی کی ترقی اور انسان کی فکری ذمہ داری
دنیا ایک تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ ہر صبح ایک نئی ایجاد، ایک نیا تجربہ، ایک نیا چیلنج لے کر آتی ہے۔ انسان کے ہاتھ میں ایسی طاقت آ گئی ہے جس کا تصور کبھی محض کہانیوں میں ہوتا تھا۔ آج وہ اپنے ذہن کی توسیع ایک ایسے نظام کے حوالے کر چکا ہے جسے ہم "مصنوعی ذہانت” کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ذہانت اب زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے۔ تعلیم سے لے کر صحافت تک، معیشت سے لے کر طب تک، قانون سے لے کر مواصلات تک، ہر جگہ ایک غیر مرئی ذہانت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ذہانت انسان کے شعور، احساس اور ضمیر کا متبادل بن سکتی ہے؟

یہ حقیقت کسی بحث کی محتاج نہیں کہ مصنوعی ذہانت نے کام کے انداز بدل دیے ہیں۔ آج وہ نتائج لمحوں میں سامنے آ جاتے ہیں جن کے لیے کبھی انسان دن رات محنت کرتا تھا۔ اعداد و شمار کی ترتیب، رپورٹوں کی تیاری، زبانوں کا ترجمہ اور تحریروں کی تنظیم، سب کچھ ایک نظام خودکار انداز میں انجام دیتا ہے۔ مگر اس حیران کن کارکردگی کے ساتھ ایک خوف بھی جنم لیتا ہے۔ اگر انسان اپنی فکری نگرانی کھو بیٹھے تو یہی سہولت زنجیر بن جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی خوبی اس کی رفتار ہے، مگر یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ یہ ڈیٹا پر کام کرتی ہے، احساسات پر نہیں۔ یہ معلومات کو جمع تو کر سکتی ہے مگر معنی کو محسوس نہیں کر سکتی۔ ایک مشین لاکھوں جملے بنا سکتی ہے لیکن ایک آہ، ایک خاموشی یا ایک تھکن بھری نظر کا مفہوم نہیں سمجھ سکتی۔ میں نے کئی ایسی تحریریں دیکھی ہیں جو بظاہر مکمل تھیں مگر بے روح لگتی تھیں، جیسے ان میں دل کی دھڑکن موجود ہی نہ ہو۔ یہی فرق ہے جو انسان کو مشین سے ممتاز کرتا ہے۔

طبی دنیا میں بھی مصنوعی ذہانت تیزی سے قدم جما رہی ہے۔ وہ مریض کے پرانے ریکارڈ دیکھتی ہے، بیماری کی وجوہات بتاتی ہے، اور علاج کے طریقے تجویز کرتی ہے۔ لیکن ایک مشین مریض کی آنکھوں میں چھپی بے بسی نہیں پڑھ سکتی۔ وہ اس ہاتھ کے لمس کو محسوس نہیں کر سکتی جو تیمارداری کے لمحے میں ایک تسلی بن جاتا ہے۔ انسان کی نرمی، اس کا درد محسوس کرنے کا سلیقہ، اس کی خاموش ہمدردی، یہ وہ خصوصیات ہیں جو کبھی کسی کوڈ یا پروگرام کا حصہ نہیں بن سکتیں۔

قانون اور انصاف کے میدان میں بھی مصنوعی ذہانت کو جگہ دی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں الگورتھم کی مدد سے فیصلوں کی تیاری ہونے لگی ہے۔ یہ درست تجزیے پیش کر سکتی ہے، مگر انصاف صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں۔ عدل کا تعلق ضمیر سے ہوتا ہے، وہ ہمدردی اور انسانیت سے جنم لیتا ہے۔ اگر فیصلہ صرف ڈیٹا پر مبنی ہو تو وہ عدل نہیں رہتا، محض ضابطہ بن جاتا ہے۔ قانون کی روح دفعات میں نہیں، انسان کے احساس میں ہے۔

مالیاتی دنیا میں مصنوعی ذہانت نے حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارت اور کرنسی کے فیصلے اب لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔ مگر مشین یہ نہیں سمجھتی کہ ایک تجارتی فیصلہ کسی گھر کے چولہے کو بجھا سکتا ہے یا کسی خاندان کی امید جگا سکتا ہے۔ منافع اور نقصان کے درمیان جو انسانی کہانیاں پوشیدہ ہیں، وہ کسی نظام کے اعداد میں نہیں سماتی ہوتیں۔ مالی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب حساب کتاب دل پر غالب آ جائے تو زندگی محض گنتی بن جاتی ہے۔

شخصی معلومات اور رازداری کے حوالے سے بھی مصنوعی ذہانت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ یہ نظام ہماری گفتگو، ہماری پسند، ہماری روزمرہ عادات حتیٰ کہ ہماری خاموشیوں تک کو محفوظ کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ سہولت ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا جال ہے جو آہستہ آہستہ انسانی آزادی کو محدود کر دیتا ہے۔ جب ایک نظام انسان کے باطن تک پہنچنے لگے اور اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تو یہ علم نہیں، بلکہ خطرہ ہے۔

اخلاقی پہلو یہاں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ایک مشین یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ وہ صرف اتنا جانتی ہے جتنا اسے بتایا گیا ہے۔ جب کوئی نظام انسانی اقدار سے الگ ہو جائے تو ترقی، تباہی کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اگر فیصلہ دل کے بغیر ہو تو کیا وہ انسانوں کے لیے ہوگا یا مشینوں کے لیے؟

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ لیکن انسان کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی رہنما نہیں، مددگار ہے۔ انسان کی بصیرت، ضمیر اور دانش ہی اسے راستہ دکھا سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچ سکتی ہے، سوال یہ ہے کہ انسان کہاں رکنا جانتا ہے۔

دنیا کی تمام مشینیں مل کر بھی ایک ماں کے لمس، ایک شاعر کے جذبے یا ایک مفکر کے غوروفکر کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ ٹیکنالوجی روشنی ضرور پھیلاتی ہے، مگر روشنی میں بھی ایک سایہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہی سایہ انسان کا شعور ہے، جو ہر زمانے میں اپنے وجود کی یاد دلاتا ہے۔ شاید یہی وہ سایہ ہے جو انسان کو مشین بننے سے بچاتا ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پیارے ماں باپ کے نام
  • جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں
  • بارش
  • پس منظر کی اوٹ سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
علامہ اقبالؒ
پچھلی پوسٹ
خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا

متعلقہ پوسٹس

بابا جمہورا

مارچ 10, 2020

ناقابلِ شکست بندھن

دسمبر 15, 2024

کچھ کو صبح روشنی کچھ کو خدا دے گا چراغ

اپریل 23, 2020

کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے

نومبر 18, 2020

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے

اکتوبر 24, 2025

صبغے اینڈ سنز

دسمبر 15, 2019

حد کے اس پار

نومبر 7, 2019

خط اور اُس کا جواب

فروری 1, 2020

دل میں تیری طلب فزوں ہو جائے

مارچ 6, 2025

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی...

نومبر 3, 2021

‪فوتگی کا مینیو

دسمبر 18, 2025

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک...

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں