خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراللہ میاں کے مہمان
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

اللہ میاں کے مہمان

اعجاز عبید کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از روبی جہاں دسمبر 16, 2019
از روبی جہاں دسمبر 16, 2019 0 تبصرے 458 مناظر
459

اللہ میاں کے مہمان

پہلی بات
مشتاق یوسفی کا کون مدّاح نہیں۔ ہم بھی ان کے خوشہ چینوں میں سے رہے ہیں۔ لیکن کچھ اس خوش فہمی کے ساتھ کہ در اصل ہماری ذہنی بُناوٹ (مائنڈ سیٹ) ان کا سا ہے۔ اگر چہ ہم نے شعوری کوشش کبھی نہیں کی کہ ان کی نقل کی جائے۔ اگر ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہوں تو ہم نے اپنے پیسوں سے جو پہلی کتاب خریدی وہ ’چراغ تلے‘ تھی۔ اس کے بعد "خاکم بدہن‘ نبھی ہم نے اپنی ہی رقم سے خریدی، نہ کسی سے عاریتاً لی اور نہ چُرائی۔ تیسری کتاب جب سامنے آئی تو ہمارے گھر میں ہمارے، بلکہ ہماری نصف بہتر کے بھانجے افتخار بھی تھے۔ وہ خود بھی یہ کتاب خریدنا چاہتے تھے اور سوچا کہ ٹھیک ہے، گھر میں ایک کتاب تو رہے گی ہی۔ چنانچہ اس طرح ہم یہ کتاب ’آبِ گُم‘ پڑھ کر بھول گئے۔ افتخار بھی دوسرے گھر میں شفٹ ہو گئے اور ہمیں بھی غمِ روزگار میں یہ یاد نہیں رہا کہ ایک کتاب اور بھی ہماری ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم جب 1997 میں حج کے لئے گئے تو یہ حج کا دلچسپ (بزعمِ خود) سفر نامہ تخلیق کیا۔ اور اس کے پیشِ لفظ کو وہی نام دے دیا ’پس و پیشِ لفظ‘۔ اور عرصے تک خیال بھی نہیں رہا۔ جب اپنی ہی کتاب پڑھتے تو اس لفظ سے لطف اندوز ہوتے۔
خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ 2005 کے آخر میں ایک دوسرا سفر در پیش ہوا، امریکہ کا۔ ہیوسٹن میں تو ہمارا بیٹا کامران ہی رہائش پذیر ہے، قریب ہی ڈیلاس میں افتخار کے پاس بھی جانا ہوا بلکہ دو دن وہاں رہائش کے دوران افتخار میاں نے وہی کتاب ہم کو پیش کی کہ دو پہر میں جب تک باقی عوام محوِ خواب ہوں تو ہم اس سے لطف اٹھا لیں کہ ہم دن میں سوتے نہیں۔ عرصے بعد جب یہ کتاب دوبارہ پڑھی تو شروع کے صفحات نے ہی چونکا دیا۔ اور تب احساس ہوا کہ کہیں لا شعور میں اس کتاب کا ’پس و پیشِ لفظ‘ محفوظ رہ گیاتھا جو’ اللہ میاں کے مہمان‘ لکھتے وقت اس طرح سامنے آیا کہ ہم خود اب تک اسے اپنی ترکیب سمجھ کر خوش ہوتے رہے۔ یہ چند سطریں محض اس پس و پیشِ لفظ کا پیشِ لفظ ہے کہ اگرچہ ہمیں اب اس دیباچے کو استعمال کرنے میں پس و پیژ ہے، لیکن اس عرصے میں ہم نے اس قدر اسے اپنا سمجھ لیا ہے کہ اب خود سے جُدا کرنے کو جی نہیں چاہتا۔
اب اس اردو ویب ایڈیشن میں اس حلف نامے کے ساتھ مکمل کتاب پھر حاضر ہے۔ یہ کتاب اب تک اردوستان ڈاٹ کام سے قسط وار شائع ہوتی رہی ہے۔ لیکن تصویروں کی صورت میں۔ اب تحریری شکل کے لئے میں اپنا ہی شکر گزار ہوں۔
اعجاز عبید

پس و پیش (لفظ)
ہم عرصے سے اس پس و پیش میں تھے کہ اس سفر نامے یا روزنامچے میں ، اگر کبھی شائع کرانے کی نوبت آئے تو، پیشِ لفظ لکھ کر پہلے ہی قارئین کو خبردار کر دیں یا پس لفظ لکھ کر ان سے معذرت کر لیں کہ انھوں نے نہ جانے کیا کیا توقعات رکھی ہوں گی ہم سے۔ پس و پیش یہ بھی تھا کہ اسے شائع بھی کروائیں یا نہیں بلکہ لکھیں بھی یا نہیں۔ بہرحال جب پس و پیش جاری رہا تو ہم نے عارضی طور پر اوپر والا عنوان دے کر انگریزی محاورے کے مطابق گیند کاتب صاحب کے پالے میں ڈال دی ہے کہ وہ کتاب کے شروع میں اس تحریر کو رکھیں یا آخر میں ۔ یہ تو امید رکھتے ہیں کہ کاتب صاحب کو اس میں تو پس و پیش نہ ہوگا کہ اس تحریر کا عنوان ۔’ پیش لفظ ۔’ کب کتابت کریں ا ور ۔’پس لفظ ۔’ کہاں۔ یہ جملہ لکھتے وقت ابھی خیال آیا کہ آج کل تو ہم ارو و والے بھی خدا کے فضل اور امریکہ کے کرم سے کمپیوٹر کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور کاتب دور ماضی کی یادگار ہوتے جا رہے ہیں ۔ ۔۔۔ ‘ کلیدی تختے’ (Keyboard) پر انگریزی حروف پر انگلیاں رکھ کراردو حروف پیدا کرنے والے جادوگر کو کیا کہنا چاہیے قارئین اس پر ضرور غور کریں ۔
گذارش احوال واقعی کے طور پر کچھ باتیں گوش گذار کرنی تھیں ‘ اب آپ اس کو جو بھی نام دیں۔ اصل میں تو یہ ہمارا حلفیہ بیان ہے۔
شروع وہاں سے ہی کریں جہاں سے بات شروع ہونی چاہئے ۔
جانے ہماری کون سی نیکی کام آگئی کہ 1997 کا حج نصیب ہو گیا۔ واقعہ سنا تھا کہ کو ئی بزرگ تھے جو تلبیہ پکارتے تھے ‘َلبیک اَلّٰہُمَّ لَبَّیک’ ۔ ‘میں حاضر ہوں میرے اللہ ، میں حاضر ہوں’ ، تو ا ن کو غیب سے صدا آتی تھی ‘ لَاَلَبَّیک’ ۔ ان کی حاضری ہی قبول نہ تھی۔ مرحبا کہ نہ صرف ہمارا سفر ممکن ہو سکا بلکہ اس الرّحمٰن ورحیم کا رحم ہے کہ ہمارا لبّیک بھی قبول کیا گیا، حج کے ارکان بھی اللہ نے بخوبی ادا کروائے اور ہم کو ہر ہر بلا سے محفوظ بھی رکھا۔ جب اللہ میاں نے ہم کو مہمان بنانا قبول کر ہی لیا تو پھر خاطر تواضع بھی خاطر خواہ کرنی ہی تھی۔ لوگ کیا کہتے کہ پہلی بار کے مہمان کے ساتھ بھی کیسا سلوک کیا۔ اب یہ ہم خود ہی گواہی دیتے ہیں کہ ہم محض سوکھے ہی نہیں ٹرخائے گئے ہیں، رحمتوں کی بارش سے شرابور بھیگے ہوئے آئے ہیں۔
یہ بھی بتا دیں کہ ہم مان نہ مان میں تیرا مہمان قسم کے خودساختہ مہمان نہیں تھے۔ ہمارا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ عازمینِ حج اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ ‘ضیوف الرحمٰن ّ۔ مکّے میں ہماری عمارت نمبر 468 کے قریب شعبِ عامر میں ہی غذائی سامان کی ایک دوکان تھی، اس کا نام ہی تھا ۔ ۔ ‘ ‘بقالہ ضیوف الرحمٰن ‘)۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔، ہم تو خود کو اللہ میاں کے مہمان ہی سمجھتے رہے بلکہ بہت بے تکلّف قسم کے۔ کہ تکلّف میں ذوقؔ صاحب کو ہی نہیں ہم کو بھی سراسر تکلیف ہی ہوتی۔ اس پروردگار کی طرف سے ہم نوازشوں کے امیدوار بھی رہے ا ور قطعی ناکام نہیں لوٹے۔ مراد یہ نہیں ہے کہ ہماری ساری مرادیں بر آئیں، ساری تکلیفات دور ہو گئیں یا ہماری کھانسی دمے کی تکلیف میں افاقہ ہو گیا۔ یہ بھی ہو جاتا تو مزید رحم و کرم ہی ہوتا، مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم کو نہ جانے کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم خالی ہاتھ نہیں لوٹے ہیں۔ کیا خدا کا یہ کرم بھی کم ہے کہ اس نے یہ سعادت ہمارے لئے لکھ دی۔
دوسری ایک اہم بات یہ عرض کرنی ہے کہ اللہ میاں کی مہمانی قبول کرنے والے کو ، بلکہ یوں کہیے کہ جسے اللہ میاں مہمان بنانا قبول کریں ، اسے تو بہت منکسرالمزاج ہونا چاہیے تھا۔ اور یہاں ہم ہیں کہ ۔’ما بدولتوں’ کی طرح خود کو صیغۂ جمع میں لکھ رہے ہیں۔ حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ ہم ما بدولت قطعی نہیں ہیں ، بس ایک روایت کا احترام کر رہے ہیں جو غالباً پطرس مرحوم سے شروع ہوئی تھی۔ پطرس نے واحد متتکلمّ کے لئے جمع کا صیغہ کیا استعمال کیا کہ یہ اب ہر طنزومزاح نگار کی پہچان بن گیا ہے۔ شوکت تھانوی ہوں یا وجاہت سندیلوی، مشتاق احمد یوسفی ہوں کہ یوسف ناظم اور مجتبےٰ حسین ، سبھی یہ صیغہ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ نثر کے طنزومزاح میں ہم کو خود یہ ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ نہ لکھیں تو کچھ کمی سی محسوس ہو گی، چنانچہ عام بو ل چال میں چاہے ہم اپنے کو ‘ہم’ نہ کہیں مگر جب قلم اٹھا کر اس کشتِ زعفران میں (جو میدانِ خاردار زیادہ ہے) قدم رکھتے ہیں تو بے ساختہ (بحرِعروض کے ماہرین معاف فرمائیں) ؎ ڈبویا ہم کو (‘ہم’) لکھنے نے، جو لکھتے ۔ہم تو’ہم ‘ لکھتے۔ قارئین کرام سے بھی معذرت۔
تیسری بات یہ کہ ہم نے اس سفرنامے /روزنامچے کے پہلے دِن ہی جو کچھ تحریر کیا ہے اس میں بھی کچھ ‘پیش لفظیت’ آ گئی ہے۔ مگر کیوں کہ اصل پیش لفظ یہی ہے اس لئے یہاں ‘پہلا’ دیں (یہ تحریر بعد کی ہے . اس لئے ‘دہرانا’ کہنا چاہئے۔ مگر قارئین کرام تو پہلی بار یہ بات جان رہے ہیں؛ ‘ہم پائے کے ادیب ہیں’ اور ‘کیا ہم سنجیدہ ہو سکیں گے’ میں انہیں یہ محسوس ہوگا کہ ہم یہ بات دہرا رہے ہیں) کہ ہمارا ارادہ ‘حج گائڈ’ قسم کی کتاب لکھنے کا تو نہیں تھا۔ اگر کسی قاری نے اسے ‘حج گائڈ’ سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی تو بقول ابنِ انشا نتائج کا خود ذمّہ دار ہوگا۔ اگر توفیق ہوئی تو ‘پس پس لفظ’ کے طور پر ضمیمہ ضرور شامل کیا جا سکتا ہے جس میں وہ باتیں شامل ہو سکیں جو حج گائڈ میں ہونی چاہئیں۔ ہماری کوشش تو یہی تھی کہ جو ہم پر گزرے گی، رقم کرتے رہیں گے (لوح و قلم کی پرورش ہو نہ ہو) اور ہماری دعا ہے کہ جو ہم پر گزری ہے وہ سب پر گزرے،یعنی سب کو حج نصیب ہو،مگر جو ہم نے نظارۂ بد دیکھا وہ خدا کسی کو نہ دکھائے ۔ یعنی منیٰ کی آگ کا حادثہ۔
اس سلسلے میں بھی کچھ عرض کرنی ہے۔ گرما گرم خبروں کے شوقین حضرات فوراً تلاش کریں گے کہ منیٰ کی آگ کا چشم دید حال ہم نے لکھا ہوگا، رننگ کمنٹری (Running Commentary) بلکہ ‘بَرننگ کمنٹری'(Burning Commentary) دی ہو گی ، مگر ان کو مایوسی ہی ہوگی؛ ہم کو تو خوشی ہے کہ ہم اس عذاب کو واقعی چشم دید نہیں کر سکے۔ لوگوں کی بھاگ دوڑ اور دھوئیں کے مرغولوں کے مناظر ہی ہماری آنکھوں میں محفوظ ہیں۔ اسی بھیگی بلیّ سے معلوم ہوا تھا کہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ لیجئے، ہم اس موقعے پر بھی مزاح کا شکار ہو گئے۔
مختصر یہ کہ ہم نے جو کچھ دیکھا ہے، وہ سفر نامہ ہی کچھ زیادہ ہے۔ نہ حج گائڈ نما کتاب ہے اور نہ اس میں صحافیوں والی ‘کہانیاں’ (جِن کو’اسکوپ’ کہا جاتا ہے) ۔ شروع تو ہم نے کیا تھا کہ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی غیر سنجیدگی سے لکھیں گے، مگر بعد میں اکثر جگہ یہ سفرنامہ محض ہو کر رہ گیا ہے۔ وجہ محض یہی رہی کہ ہم کو روزانہ لکھنے کا نہ وقت ملا اور وقت ملا تو طبیعت راغب نہیں ہوئی۔ اور کافی بعد میں جو پچھلی باتیں لکھتے رہے تو پھر قلم کو اس تیی سے وقت کے ساتھ دوڑانا پڑا کہ نہ ہنسنے کی مہلت ملی نہ ہنسانے کی۔ حسِ مزاح کو بھی اسی طرح پیچھے چھوڑ دیا جس طرح ملکھا سنگھ کے بارے میں لطیفہ مشہور ہے کہ موصوف چور کو رنگے ہاتھوں پکڑنے گئے، اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس سے دوڑ کا مقابلہ جیتنے کی کوشش کرنے لگے اور جیت کر بہت خوش ہوئے ۔ ہمارا یہی حال کبھی سنجیدگی کے ساتھ ہوتا ہے، کبھی حس مزاح کے ساتھ۔ یہاں تو خیر یہ شرط بھی تھی کہ واقعات بھی سارے لکھے جائیں ؛ اگرچہ کہیں سرسری ہی رہ جائیں۔ بہر حال جو چیز آپ کے سامنے ہے اس میں کہیں جذبۂ شوق کی کارفرمائی بھی ہے جوممکن ہے کہ آپ کو بھی ہماری طرح رلا دے (ہم خود بھی کہیں کہیں لکھتے لکھتے چشمِ پر نم ہو گئے ہیں) تو کبھی کچھ اور بات آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دے؛ کبھی محض کچھ معلومات ہی حاصل ہوں۔ کچھ ایسی ہی چیز ہے کہ ‘ہر مال دو ریال’، جیسے مدینے اور جدہ ایر پورٹ کے اکثر دوکان دارآوازیں لگاتے ہیں۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی دوکان بن گئی ہے۔ (جو)قبول افتد زہے عزوشرف۔ اور یہ کہ؎ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • توبۃ النصوح – فصل دوم
  • کرنسی نوٹوں کی تبدیلی
  • تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!
  • عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
روبی جہاں

اگلی پوسٹ
چراغ تلے
پچھلی پوسٹ
کبوتر

متعلقہ پوسٹس

عید کا ریشم یا جہنم کی تپش؟

مارچ 21, 2026

اردو زبان و ادب کی تدریس

جون 1, 2021

ماسی

فروری 3, 2020

رئیس اعظم

فروری 15, 2023

فطرت کا گمشدہ راز

دسمبر 25, 2024

نظام مملکت اور موکلین

مارچ 11, 2022

نئی جہت

مارچ 1, 2024

سرسوں دوا بھی شفا بھی

مئی 1, 2022

ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش

جنوری 29, 2025

سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

ستمبر 23, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلیم فائز

دسمبر 29, 2021

خدا کی قسم

فروری 1, 2020

جنت کی تلاش

مارچ 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں