خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ گیا
آپکا اردو بابااردو تحاریرمقالات و مضامین

مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ گیا

از سائیٹ ایڈمن جون 13, 2021
از سائیٹ ایڈمن جون 13, 2021 0 تبصرے 110 مناظر
111

ہزروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

دیدہ وری وہ صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ کم ہی لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ یہ صلاحیت عموماً اُن انسانوں میں پائی جاتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ پیشوائیت کے لیے منتخب فرماتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ وہ عوام تو بہت پیدا کرتا ہے، مگر رہنما معدودِ چند ہی پیدا کرتا ہے۔ ایک رہنما ہزاروں لاکھوں انسانوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہوتا ہے۔ دنیا میں انقلاب دو ہی ذرائع سے برپا ہوتا ہے یا تو مذہبی پیشوائیت کے ذریعہ یا سیاسی رہنمائی سے۔ کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دونوں میدانوں میں یدِ طولیٰ عطا فرماتاہے۔

حضرت مولانا مفتی عبد الرزاق خاں صاحب علیہ الرحمہ ایک ایسے ہی پیشوا اور رہنما تھے جو دونوں میدانوں میں سر گرمِ عمل رہے۔ ایک طرف تو اُنہوں نے قوم کے بچوں کے لیے جو کہ کسی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں مدارس قائم کرکے دینِ اسلام کی بنیادی خدمت انجام دی اور بے شمار حفاظ ِ کرام، قرأ کرام اور علماء کرام فارغ کئے اور دسری جانب اُمت کی سیاسی رہنمائی بھی بے خوف وخطر کی۔ بیباکانہ طور پر اُمت کے مسائل کو حکومت اور حکومتی عہدیداروں کے سامنے پیش کیا اور اُس کے مثبت نتائج حاصل ہوئے۔

حکومتیں بدلتی رہیں مگر مفتی عبد الرزاق صاحب کا نہ تو بیباکانہ انداز تخاطب بدلا اور نہ ہی بے خوف ہو کر اُمت کے مسائل اُٹھانے کا عمل بدلا۔ یہ نتیجہ تھااُن کی اُس بے جگری، دور رس نگاہ اور بیدار مغزی کا۔ یہ خدا داد صلاحیت اُنہیں خدا وند تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی۔mufti abdul razaq

وہ جس طرح کسی رُکن اسمبلی کے سامنے بے خوفی کے ساتھ اپنا مدعیٰ رکھتے تھے۔ اُسی بیباکی کے ساتھ وہ اپنی بات ر سیاستی وزراء اعلیٰ جناب دگ وجے سنگھ صاحب، جناب شیو راج سنگھ صاحب، ارجن سنگھ صاحب وزیر اعظم ہند آنجہانی اٹل بہاری واجپئی اور صدر مملکت ہندوستان آنجہانی ڈاکڑ شنکر دیال شرما کے سامنے بھی رکھتے تھے۔ بات کہنا اور بات ہے اور اپنی بات کو منوا لینا ایک الگ وصف ہے۔ یہ غیر معمولی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اُنہیں عطا فرمائی تھی اور اِسی لیے اُنہوں نے نہ صرف شہری، اور ریاستی سطح پر اپنی بات منوائی بلکہ ملکی سطح پر بھی اپنی بات کا لوہا منوایا۔

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی شہرت اور مقبولیت بھوپال تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ مدھیہ پردیش کی سرحد پار کر کے دار السلطنتِ ہند دہلی تک رسائی حاصل کر چکی تھی۔ اِس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ موصوف کونہ صرف سر زمینِ ہند بلکہ بیرونی ممالک میں بھی خاطر خواہ شہرت وعزت حاصل تھی۔ اِس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا تھا وہ دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دل میں پورے جسم سے خون آتا ہے اور وہیں سے پھر پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ یہی حیثیت ترجمہ والی مسجد کو بھی حاصل ہوئی۔ ملک کے مختلف ریاستوں سے بچے جن میں زیادہ تر تعداد نادار وں کی ہوتی ہے ترجمہ والی مسجد میں آتے ہیں اوردینی تعلیم سے آراستہ ہوکر پورے ہندوستان میں پھیل جاتے ہیں۔ خصوصاً بھوپال میں اور مدھیہ پردیش میں مسجدوں کو آباد رکھنے والے اماموں اور مؤذنوں میں کثیر تعداد اُن ہی کی ہے جو مسجد ترجمہ والی سے فارغ ہوئے۔

مسجد ترجمہ والی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اِس بات کا اندازہ اِسی امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس کا نام ترجمہ والی مسجد اِس لیے پڑاکہ یہ شہر بھوپال کی وہ واحد مسجد تھی جہاں ترجمہ وتفسیر کے ساتھ قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ اِس مسجد میں متعدد اعلیٰ ترین کردارکی باکمال ہستیوں نے خدمات انجام دی ہیں۔ مگر جب سے اِس مسجد کا انتظام حضرت علیہ الرحمہ کے ہاتھ میں آیاتو اِس کی کایا پلٹ ہو گئی کیوں کہ جہاں وہ ایک قابل معلم، اعلیٰ رہنما تھے وہیں اعلیٰ درجہ کے منتظم بھی تھے۔ اِسی انتظامی صلاحیت کی وجہ سے تقریباً ۵۵۰ اطفالِ اُمت اِس مسجد میں نہ صرف تعلیم حاصل کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ اور اُن کے طعام و قیام کا سارا بار بھی ترجمہ والی مسجد میں قائم جامعہ اسلامیہ عربیہ برداشت کرتا تھا اور کرتا ہے۔ جس کی سر پرستی حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے تھے۔ علاوہ ازیں اِس مدرسہ کا دسترخوان اور قیام اُن لوگوں کے لیے بھی وا تھا جو شہر بھوپال میں اُمور اسلامی کے سلسلہ میں آتھے تھے اور آتے ہیں خصوصاً مدارس کے سفراء جو رمضان المبارک میں اِ س ملک کے کونے کونے سے شہر بھوپا ل میں آتے ہیں۔ اُن کی خدمت صرف رضائے الٰہی کے لیے کی جاتی تھی اور کی جاتی ہے۔ اِ س زمانے میں ایک انسان کی کفالت بارِ گراں ہے اور پھر اتنی کثیر تعداد میں اطفال و افراد کی پذیرائی اور بے شمار مدارس کی امداد جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اتنے اطفال و افراد کی حاجت روائی کے لیے حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کو ذریعہ بنا یا تھا۔

جن مفتی صاحب ؒکے پائوں میدانِ مذہب اور سیاست میں پختہ جمے ہوئے تھے وہ پائوں پھسلنے کے ایک سانحہ کا شکا ہو گئے، جو یقینا مشیت الٰہی تھی، وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوگئے۔ کوئی اور ہوتا تو یہاں اپنی سر گرمیوں کو الوداع کہہ دیتا مگر حضرت مولانامفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ جیسے جاں باز کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ لہذا اُنہوں نے وھیل چیئر نشینی اختیار کی اور اپنے سر گرمیِ عمل کی حرارت کو کم نہیں ہونے دیا۔ اُن کی وھیل چیئر میدانِ سیاست اور قوم کی خدمت میں سر پٹ دوڑنے والوں سے آگے رہی۔

یہ درخشاں ستارہ ۲۶ مئی ۲۰۲۱ء کی شب میں ٹوٹ گیا۔ اِس ستارے کو احساسِ غم کی گود میں لینے کے لیے جو جمِ غفیر اُمڈاتو انتظامیہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ کیوں کہ کورونا وباء کی وجہ سے عوام کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی بنام لاک ڈائون تھی۔ لہذا انتظامیہ نے شہر بھوپال کے تمام سارے راستے مسدود کردئے۔ ہزاروں انسانوں کے دل میں کاندھا دینے کی حسرت’’ یاس‘‘ بن کر رہ گئی۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے کم عمر ہونے کے باوجود آزادی کی جدو جہد میں حصہ لیا تھا۔ اِس لیے حکومت نے اِس جہد کا اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف اُنہیں قومی پرچم ترنگا میں لپیٹا بلکہ سلامی بھی پیش کی۔ حکومتی انتظام نے پائوں تو روک دئے مگر قلم نہیں رُک سکے۔ آج تک اخبارات او ر سوشل میڈیا کے ذریعہ اُنہیں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

حضر ت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے صاحبزادگان اُن کمالات تک کیسے پہنچ سکتے ہیں جو حضرت ؒ کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود تھے مگر اُن کی تعلیم و تربیت ہوئی اُس سے ہم یہ اُمید کرتے ہیں کہ صاحبزدگان اور شاگرد اِس انسانی اور قومی خدمت کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اِسے بلندیوں تک پہنچانے کے لیے بھی کوشاں رہیں گے۔ آخر میں اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ

کسی کا کندہ نگینے پہ نام ہوتا ہے

کسی کی عمر کا لبریز جام ہوتا ہے

عجب سرا ہے یہ دنیا کہ جس میں شام و سحر

کسی کا کوُچ کسی کا مقام ہوتا ہے

فرید سعیدی
(ادارہ بابِ ادب 68ٹول وال مسجد روڈ موتیا پارک بھوپال،ایم پی)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جالِ عنکبوت
  • ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!
  • دھوپ کمرے میں چلی
  • مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات
پچھلی پوسٹ
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی

متعلقہ پوسٹس

بلاؤز

اپریل 15, 2016

میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت بھی

اگست 28, 2025

بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا

نومبر 14, 2025

آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے

مارچ 28, 2022

ہلچل

مئی 11, 2020

کئی اسرار ہوتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

حالات کے گھماؤ سے یکبار بک گئے

فروری 2, 2020

یہ عشق مجھ کو درحقیقت خوار کر گیا

مارچ 29, 2020

دعا مانگنے کے ادب و آداب

مئی 5, 2024

گواہی

جنوری 2, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک بوند لہو

نومبر 10, 2019

رکھتی ہے دل میں خود ہی

نومبر 7, 2021

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک...

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں