100
ہم کو سماعتوں نے نہ دھوکا کبھی دیا
قرآں نے جو کہا تھا سنائی وہی دیا
اللہ نے علاجِ غمِ بے کسی دیا
( ہم کو محمدِ عربی سا نبی دیا )
اس درجہ کر گیا وہ اجالوں کو سرخرو
آندھی چلی تو ہاتھوں پہ رکھ کے چلی دیا
پتھر گداز ہوگئے قدموں کے لمس سے
آقا نے جب پیانِ رہِ عاجزی دیا
فاقے نثار ہو گئے سرشار ہو گئے
ایسا غنی دیا ہمیں ایسا سخی دیا
سر کو اٹھاتے ڈرتا ہے دریاؤں کا غرور
ایسا وقارِ لہجہءِ تشنہ لبی دیا
رتبہ دیا تو حدِّ تصور سے ماوریٰ
پیغمبری میں بھی شرفِ آخری دیا
آدابِ زندگی ہیں یہ آدابِ مجلسی
نیٹھے ہیں ایک ساتھ ہوا روشنی دیا
طارق قمر
