خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو
آپ کا سلاماردو تحاریراردو تقریباتاسلامی گوشہشاہد نسیم چوہدری

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 20, 2026
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 20, 2026 0 تبصرے 30 مناظر
31

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے مہکتا فیصل آباد – 279 واں فقیران مصطفےطرحی نعتیہ مشاعرہ

کچھ محفلیں صرف محفلیں نہیں ہوتیں، وہ دلوں کی دنیا بدلنے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ کچھ آوازیں محض آوازیں نہیں ہوتیں، وہ صدیوں کے فاصلے طے کرکے دلِ مومن کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ کچھ اشعار صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، ان میں عقیدت کی حرارت، محبت کی روشنی اور عشقِ رسول ﷺ کی وہ خوشبو بسی ہوتی ہے جو انسان کے باطن کو منور کر دیتی ہے۔ نعتیہ محافل بھی ایسی ہی روحانی ساعتوں کا نام ہیں جہاں زبان پر درود و سلام ہوتا ہے، دل میں مدینہ منورہ کی تڑپ ہوتی ہے اور آنکھیں تصورِ گنبدِ خضرا ﷺ میں بھیگ جاتی ہیں۔
فیصل آباد کی سرزمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے چراغ تسلسل کے ساتھ روشن ہیں۔ انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ فیصل آباد کا ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اسی روشن روایت کی ایک ایسی تابندہ کڑی ہے جو اب 279ویں منزل تک پہنچ چکی ہے۔ یہ محض ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ، نعتیہ ادب کی ترویج اور نئی نسل کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کے چراغ روشن کرنے کی ایک مسلسل تحریک ہے۔
31 اگست 2026ء، بروز پیر، 17 ربیع الاول 1448ھ کو اعوان نعت محل، اسلامی چوک، سول کوارٹرز، غلام محمد آباد فیصل آباد میں منعقد ہونے والا 279واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اسی عظیم روایت کا ایک یادگار باب تھا۔ طرح مصرع تھا:
"راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ”
یہ مصرع ہی گویا پوری محفل کی روح بن گیا تھا۔ ہر طرف ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، نعت کے پھول، عقیدت کے جذبات اور مدینے کی یادوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔
نعت کا شہر اور عشق کی بستی
فیصل آباد کو اگر صنعت و تجارت کا شہر کہا جاتا ہے تو یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ اس شہر کے دامن میں عشقِ رسول ﷺ کی ایک گہری اور روشن ادبی روایت بھی موجود ہے۔ یہاں کے شعرا نے نعتیہ ادب میں اپنا ایک نمایاں مقام بنایا اور نعت خوانوں، نعت گو شعرا اور اہلِ ذوق نے مل کر ایسی فضا قائم کی جس میں محبتِ رسول ﷺ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔
انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ کی ماہانہ طرحی نشستیں اسی تسلسل کی عملی تصویر ہیں۔ 279 مشاعرے مکمل کرنا کسی ایک شخص یا ایک تنظیم کی کامیابی نہیں؛ یہ دراصل عشق، اخلاص، استقامت اور خدمتِ نعت کا ایسا سفر ہے جس میں کئی نسلوں کے اہلِ قلم شریک رہے ہیں۔
اس محفل کی نقابت پروفیسر ریاض احمد قادری نے کی جبکہ انتظامات اللہ نواز منصور اعوان نے سنبھالے۔ صدرِ محفل سرگودھا سے تشریف لانے والے معروف نعت گو شاعر پروفیسر حافظ محبوب احمد تھے، جبکہ صدرالصدور کی مسند پر ستارۂ امتیاز پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید جلوہ افروز تھے۔ پروفیسر جاوید اسلم باجوہ، پروفیسر محمد طاہر صدیقی اور ڈاکٹر محمد انور انیق کی شرکت نے محفل کی علمی و ادبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔
پروفیسر حافظ محبوب احمد کو اس موقع پر شہرِ نعت کا سب سے بڑا "فقیر مصطفیٰ نعت ایوارڈ 279” پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز دراصل صرف ایک شخصیت کی پذیرائی نہیں بلکہ ان تمام اہلِ قلم اور اہلِ محبت کا اعتراف تھا جنہوں نے نعتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مقصد اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مرکز بنایا۔
"اظہارِ نعت” — ایک کتاب نہیں، عشق کی دستاویز
اس مشاعرے کی ایک بڑی خصوصیت ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شہرۂ آفاق تصنیف "گلزارِ نعت” یعنی مجموعۂ کلام "اظہارِ نعت” کی پروقار تقریبِ رونمائی تھی۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی آمد پر منتظمِ محفل اللہ نواز منصور اعوان نے جس محبت اور عقیدت سے ان کا استقبال کیا، وہ اس بات کا مظہر تھا کہ نعت گو شاعر کا استقبال دراصل عشقِ رسول ﷺ کے ایک سفیر کا استقبال ہوتا ہے۔ گلدستے پیش کیے گئے، پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور اہلِ علم و ادب نے محبت و احترام کے جذبات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر پروفیسر ریاض احمد قادری کا کلیدی خطاب خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کے لہجے میں صرف ادبی تحسین نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کی وہ گہرائی تھی جو کسی نعتیہ تخلیق کے حقیقی اثر کو محسوس کرنے والے دل ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے نعتیہ مجموعے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ یہ اشعار محض فنی مشق کا نتیجہ نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی داخلی کیفیت سے پھوٹے ہیں۔
یہی نعت کی اصل روح ہے۔ نعت میں الفاظ کی خوب صورتی ضرور ضروری ہے، لیکن صرف خوب صورت الفاظ نعت کو لازوال نہیں بناتے۔ جب لفظ کے پیچھے عشق ہو، جب شعر کے اندر ادب ہو، جب خیال کے مرکز میں ذاتِ اقدس ﷺ ہو تو پھر شعر دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر جاوید اسلم باجوہ نے بھی کتاب کا علمی و ادبی جائزہ پیش کیا اور اسے اردو نعت کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
جاوید اسلم باجوہ کا منفرد خراجِ تحسین
پروفیسر جاوید اسلم باجوہ کا خطاب اس حوالے سے بھی اہم تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے ادبی سفر کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوب صورتی سے اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایک ایسے شخص نے جس کا علمی، تحقیقی اور ادبی پس منظر مضبوط ہے، بالآخر نعتیہ شاعری کے میدان میں قدم رکھا۔
انہوں نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی علمی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فیصل آباد کی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات پر ان کے تعارفی مضامین اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد کی تاریخ و اساتذہ کے حوالے سے ان کے تحقیقی کام کو قابلِ قدر قرار دیا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ کسی شہر کی ادبی تاریخ صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی، بلکہ ان خاموش محققین سے بھی بنتی ہے جو شخصیات، اداروں، کتابوں اور تہذیبی روایات کو محفوظ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا یہ کام اسی اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے علمی و ادبی چہروں کو لفظوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
پروفیسر جاوید اسلم باجوہ نے ان کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسول ﷺ کی کیفیت، خوب صورت قوافی، دلکش اسلوب اور فنی نفاست کو نمایاں کرتے ہوئے یہ احساس دلایا کہ نعت گوئی محض شاعری کی ایک صنف نہیں بلکہ ایک روحانی ذمہ داری بھی ہے۔
تحقیق سے نعت تک — ڈاکٹر انور انیق کی گفتگو
ڈاکٹر محمد انور انیق نے ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے ادبی سفر کے ایک اور اہم پہلو کو سامنے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اظہار کا نعت سے تعلق کوئی وقتی یا اچانک پیدا ہونے والی وابستگی نہیں بلکہ ایک طویل فکری اور تحقیقی سفر کا تسلسل ہے۔
غیر مسلم نعت گو شعرا کی نعتوں پر تحقیق کرکے "سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے” جیسی منفرد کاوش سامنے لانا اس بات کی علامت ہے کہ عشقِ رسول ﷺ نے ان کی علمی جستجو کو بھی متاثر کیا۔ بعد ازاں سیرتِ طیبہ ﷺ کے حوالے سے "فخرِ کائنات” کی اشاعت اور اب "اظہارِ نعت” کی صورت میں نعتیہ شاعری کا مجموعہ، ایک ہی فکری اور روحانی سفر کی مختلف منزلیں دکھائی دیتی ہیں۔
یہی کسی قلم کار کی اصل خوش بختی ہے کہ اس کا قلم جس قدر آگے بڑھے، اس کے اندر ادب، تحقیق اور عقیدت کی گہرائی بھی بڑھتی جائے۔

نعتیہ مشاعرہ — الفاظ سے آگے ایک کیفیت
اس محفل میں ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے شعرا نے حضوری اور آن لائن شرکت کی۔ ڈاکٹر جاوید اسلم باجوہ، مجیب الرحمن ساحل، میاں منیر احمد منیر، سرور قمر قادری، ناصر حسین راضی، عثمان منیر، منیر احمد خاور، ڈاکٹر محمد انور انیق، ڈاکٹر محمد طاہر صدیقی، پروفیسر ریاض احمد قادری، سید شاہد حسین، ذیشان حسینی، شفقت علی شفقت گل، عباس علی حیدر، ضمیر اطہر قادری، ریاض حسین فاروقی، تسکین ریاض، ندیم عسکری، نعیم صدیقی، اشفاق حیدری، سلیم شاہد، اشفاق ہمزالی، منصور نواز اعوان، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار، حکیم محمد اکرم شاہد اور بلال سمیت متعدد شعرا نے شرکت کی۔
آن لائن شرکت کرنے والوں میں محمد قاسم رشید ہادی، بشیر احمد ندیم، فقیر حسین چشتی، ڈاکٹر مقصود احمد عاجز، زاہد سرفراز زاہد، مبشر حسین فیضی، تنویر سیٹھی، این ایس شانی سمندری، محمد ضیاء شاہد کمالیہ، حافظ علی رضا عارف، تبسم قادری، مبشر کامل ،سکندر عزیز خان اور راقم الحروف محمد شاہد نسیم شامل تھے, جو کسی وجہ سے آج اسلام آباد ہونے کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے تھے۔
انہوں نے اسلام آباد سے اپنے پیغام میں کہا کہ
آج انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کا 279واں طرحی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہو رہا ہے، جس کا خوب صورت طرحی مصرع ہے:
’’راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ‘‘
اس بابرکت محفلِ نعت کی صدارت جناب محبوب احمد صاحب، سرگودھا فرما رہے ہیں، جن کی خدمت میں حاضری اور ملاقات میرے لیے یقیناً ایک خوش گوار ادبی سعادت ہوتی۔
افسوس کہ ایک انتہائی ضروری کام کے باعث اس وقت اسلام آباد میں موجود ہوں اور میرے لیے اس عظیم نعتیہ محفل میں بنفسِ نفیس شریک ہونا ممکن نہ ہو سکا۔ تاہم فاصلے دلوں کو کہاں جدا کر سکتے ہیں؟
میرا دل آج بھی انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کے ساتھ دھڑک رہا ہے، میری دعائیں اس محفل کے ساتھ ہیں اور میری عقیدت حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اس نعت کے ذریعے اپنی حاضری پیش کر رہی ہے۔
میری یہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ میری طرف سے اس بابرکت محفل میں حاضری، سلامِ عقیدت اور محبتِ مصطفےٰ ﷺ کا نذرانہ قبول فرمائیے۔
سرزمینِ سرگودھا میرے لیے محض ایک شہر نہیں؛ یہی وہ شہر ہے جہاں سے میں نے میٹرک کی تعلیم حاصل کی، جس کی مٹی سے میری یادیں اور جذبات وابستہ ہیں۔ آج اسی شہر کے ایک باوقار ادبی و نعتیہ اجتماع میں شریک نہ ہو سکنے کا ملال ضرور ہے، مگر روحانی طور پر میں خود کو اسی محفل میں موجود محسوس کر رہا ہوں۔
محترم صدرِ مشاعرہ جناب محبوب احمد صاحب، انجمنِ فقیرانِ مصطفےٰ ﷺ کے تمام منتظمین، شعرائے کرام اور تمام عاشقانِ رسول ﷺ کی خدمت میں محبت بھرا سلام۔
اللہ تعالیٰ اس محفلِ نعت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، تمام اہلِ محبت کی حاضری قبول فرمائے اور ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ رسول ﷺ اور نسبتِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
(محمد شاہد نسیم)
دل کے گلشن کو سجانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
بے سہاروں کو سہارا دینے دنیا میں حضور
غم کے ماروں کو ہنسانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
ظلمتوں میں نورِ حق کا راستہ دکھلانے کو
شمعِ ایماں پھر جلانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
بت کدوں میں پرچمِ توحید لہراتے ہوئے
کفر کا باطل مٹانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
سوئے دل کو عشقِ خالق سے سجانے کے لیے
راہِ حق ہم کو دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
جو بھٹکتے تھے اندھیروں میں جہاں بھر میں کبھی
ان کو منزل تک پہنچانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
نفرتوں کی آگ کو الفت بنانے کے لیے
ٹوٹتے دل کو ملانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
عدل کا میزان دنیا کو دکھانے کے لیے
حق کا پرچم اٹھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
آدمیت کو عطا کرنے کو قدر و منزلت
سوئے انساں کو جگانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
جن کے دامن سے ملے ہر درد کو ہی اطمینان
زخمِ دل سارے مٹانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
ہر درد کا درمان ہے اب عشقِ مصطفیٰ ﷺ
شاہدؔ امت کو بچانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ
یہ منظر اس حقیقت کا غماز تھا کہ نعت کی خوشبو جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ فیصل آباد میں منعقد ہونے والی ایک محفل میں ملک کے مختلف شہروں سے شعرا کا آن لائن شریک ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر مثبت مقصد کے لیے استعمال ہو تو وہ محبت کے پیغام کو کہیں زیادہ وسیع کر سکتی ہے۔
ایک چراغ جس کی روشنی پھیلتی گئی
اس تمام سفر کا ذکر کرتے ہوئے اس شخصیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جس نے نعت کے اس مبارک چراغ کو روشن کیا: معروف نعت گو، درویش صفت شاعر اور انجمن کے بانی فقیر مصطفیٰ امیر نواز امیر رحمۃ اللہ علیہ۔
انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، مگر اس کے نیک کام باقی رہتے ہیں۔ کسی شخص کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اس کی زندگی میں اس کا نام لیتے رہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کا لگایا ہوا پودا پھلتا پھولتا رہے۔
فقیر مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو پودا لگایا تھا، آج وہ 279 مشاعروں کے بعد ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اس کی شاخوں پر نعت کے پھول کھلے ہیں، اس کے سائے میں شعرا بیٹھتے ہیں، نئی نسل نعت سنتی ہے، کتابیں رونمائی ہوتی ہیں، اہلِ علم گفتگو کرتے ہیں اور دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی حرارت پیدا ہوتی ہے۔
یہی زندہ ادبی ورثہ ہے۔
یہی اصل صدقۂ جاریہ ہے۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ محفل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی کے دل میں یہ محفل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جب پروفیسر حافظ محبوب احمد نے رقت آمیز دعا کی، سلام و صلوٰۃ کی صدائیں بلند ہوئیں تو یقیناً بہت سی آنکھیں نم تھیں اور بہت سے دل مدینے کی گلیوں میں پہنچ چکے تھے۔
اس کے بعد حاضرین میں فقیر مصطفیٰ امیر کا روایتی لنگر تقسیم ہوا۔ مٹھائی بھی بانٹی گئی، تحائف بھی پیش کیے گئے، کتابیں بھی تقسیم ہوئیں، مگر اس رات کا سب سے بڑا تحفہ شاید وہ کیفیت تھی جو ہر شخص اپنے دل میں لے کر واپس گیا۔
279واں مشاعرہ ختم ہوگیا، مگر عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی یہ محفل ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ نعت کی محفلیں گھڑیوں کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، وہ دلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شہروں میں ایسی محفلوں کو صرف ادبی سرگرمی سمجھ کر نہ دیکھیں بلکہ انہیں اپنی تہذیبی، روحانی اور اخلاقی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جس معاشرے میں نبی کریم ﷺ کی محبت دلوں میں زندہ ہو، وہاں الفاظ بھی پاکیزہ ہوتے ہیں، رویے بھی مہذب ہوتے ہیں اور زندگی بھی مقصد آشنا ہوتی ہے۔
فیصل آباد کی سرزمین پر انجمن فقیرانِ مصطفیٰ ﷺ کا یہ سفر دراصل ایک ایسا سفر ہے جس کی منزل کوئی 280واں یا 300واں مشاعرہ نہیں۔ اس کی اصل منزل تو یہ ہے کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک عشقِ رسول ﷺ کی وہ شمع منتقل ہوتی رہے جس کی روشنی کبھی مدھم نہ ہو۔
فقیر مصطفیٰ امیر رحمۃ اللہ علیہ نے جو چراغ جلایا تھا، اللہ کرے اس کی لو ہمیشہ بلند رہے۔
اللہ کرے نعت کے یہ پھول یونہی کھلتے رہیں۔
اللہ کرے فیصل آباد کی یہ بستی یونہی شہرِ نعت بنی رہے۔
اور اللہ کرے ہمارے دلوں میں وہ محبت ہمیشہ زندہ رہے جس کے بغیر ایمان کی دنیا بے رنگ ہے:
"راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ”
آمین یا رب العالمین۔

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط
  • خود سے لڑنا
  • اُردو کی چند جدید طویل نظمیں
  • بجوکا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اظہارِ نعت
پچھلی پوسٹ
وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا

متعلقہ پوسٹس

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا

دسمبر 27, 2023

ذاتِ والا پہ بار بار درود

اکتوبر 28, 2020

ہزاروں سال پہلے

مئی 20, 2020

نمک حرام

اپریل 1, 2023

ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک

مئی 13, 2021

ٹیکسٹ میسج سے ٹیکسٹ بک تک

جون 4, 2018

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020

جذبوں کا شاعر

اپریل 5, 2020

کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟

مئی 1, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا ایسانہیں ہوسکتا

اکتوبر 9, 2022

انٹرویو شہزاد نیّرؔ

جولائی 13, 2025

کاش اس دنیا سے برائی ختم...

جنوری 29, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں