خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافلسطین اور امت مسلمہ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

فلسطین اور امت مسلمہ!

از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2021 0 تبصرے 85 مناظر
86

فلسطین اور امت مسلمہ!

تاریخ کی کھوج سے یہ شواہد ملتے ہیں کہ انسان کو اپنی حفاظت کا مسلۂ موت کے اسباب کے پتہ چلنے سے شروع ہوتا ہے اور زندگی کے تسلسل اور جسم کی نشونما کیلئے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ غذا کے حصول کیلئے انسان کواپنے سے زیادہ طاقتور کسی دوسرے جاندار کو زیر کرنا تھا جس کے لئے اسے کسی ایسے سبب کی ضرورت پڑنی تھی جو اسکی حفاظت کرتے ہوئے سامنے والے کو زیر کردے۔ جب کوئی آپ کی طرف آپ کو نقصان پہنچانے کی غرض بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو قدرتی طور پر آپکے ہاتھ آس پاس سے کسی چیز کو تلاش کرلیتے ہیں جسے بطور ڈھال یا بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکے۔پتھر ایک ایسی بنیادی چیز ہے جو روئے زمین پر پہلے دن سے دستیاب ہے اس دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان نے اسے زیادہ سے زیادہ کارگر بنانے کیلئے نوک بنائی اور زیادہ پر خطر بنالیا، پھر درختوں کی لکڑیوں کو انسان نے اپنے سہولت کار بنالیا، تیر کمان اور دیگر ضروریات کی اشیاء ترتیب دے لیں۔ اس طرح سے سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور گمان سے لکھ دیتے ہیں کہ انسان نے پہلی تلوار یا چاقو بھی پتھر سے بنایا ہوگا اور پھر لکٹری کو بھی اس عمل کیلئے استعمال کیا ہوگا، ان ہتھیاروں کی بنیاد پر ایسے جانوروں کو جن پر سواری کی جاسکتی تھی اپنے ذرائع آمد ورفت کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔ انسان ان ایجادات کی بنیادی وجہ پر آج بھی قائم ہے اور ہر روز مزید بہتری اور تکنیک کے استعمال سے جدید ترین اسلحہ بنانے میں مگن ہے۔ ساتھ ہی انسان کویہ بھی سمجھ آگیا کہ ان کی بنیاد پر وہ کتنا طاقتور ہوسکتا ہے اور کمزور کو کس طرح سے اپنے تابع کرسکتا ہے۔آج انسان انسانیت کی بقاء کی آڑمیں اسلحے کی دوڑ میں سبقت لیجانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ آمریکہ، بھارت اور اسرائیل طاقت کی اس دوڑ میں مادی طور پر بہت آگے نکل چکے ہیں ان میں امریکہ کا کردار یہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی صنعت اسلحہ بنانے کی ہے اور یہ اسلحے کی خرید و فروخت کو کاروبار سے تشبیہ دیتا ہے ساتھ ہی دنیا جہان میں جنگ کا ماحول پیدا کرنے کی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا، شام، کشمیر، ایران اور قطر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ شاہ سے کہا جاتا ہے کہ جاگتے رہنا اور چور سے کہاجاتا ہے چوری کرو۔ بنیادی ہتھیاروں کے بل بوتے پر انسان نے سرحدوں کاتعین کیا اور قبیلے یا ممالک تشکیل دیئے۔ ایک اندازے کیمطابق بیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک لڑائی کیلئے گھوڑے اور تلواریں استعمال ہوتی رہی ہیں اور پھر خلافتِ عثمانیہ کا سورج غروب ہوگیا۔

اکیسویں صدی کی آمد کا ڈنکا بہت زور و شور سے بجایا گیا جس کی بنیادی وجہ احساس محرومی کو بڑھاوا دینا ثابت ہوااور جو اس بات کی ترجمانی کرتا محسوس ہوا کہ صرف ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ان میں بسنے والے لوگ اکیسویں صدی میں داخل ہوسکینگے جو کہ اس کی ضروریات پوری کرسکینگے۔ حکمت عملی مرتب کرنے والوں خوب نفسیاتی جال بنا تھا لیکن قادر مطلق کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ گھوڑے اصطبل میں آرام دہ زندگیاں گزارنے لگے اور تلواریں مرد مجاہد کی کمر بستگی سے آزاد ہوئیں اور میان سمیت ٹھنڈے کمروں کی دیواروں کی زینت بن گئیں اسطرح سے دونوں کی روحانی موت واقع ہوگئی۔ گھوڑوں اور تلواروں سے کیا باز ہوئے کہ مسلمان اپنا رعب اور دبدبا ہی گنوا بیٹھے، اسطرح سے سازشی دماغوں نے مسلمانوں سے تلوار اور گھوڑوں کا تعلق ختم کرنے کی طویل جدوجہد میں کامیابی حاصل کرلی ساتھ ہی انہوں نے ایسے ہتھیار تیار کرلئے جن سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں لی جاسکتی ہیں۔ بندوق، توپ، میشن گنیں، راکٹ، سب سے بڑھ کر ایٹم بم اور مہلک ترین کیمیائی ہتھیار بنا لئے اور اپنی ان دنیاوی طاقتوں کے بل بوتے پر مسلمانوں کو ہر ممکن تنزلی میں دھکیلنا شروع کردیا۔

مسلمانوں نے بہادری کی داغ بیل بدر کے میدان میں ڈالی، جہاں تین سو تیرا اصحاب ؓ نے کفار مکہ کے ایک ہزار کے لشکر کو شکست فاش دی اور اپنے رعب اور دبدبے کا آغاز کیا۔یہاں سے کفار پر مسلمانوں کی ہیبت نے گہرا ہونا شروع کیا۔یہ میدان عمل میں کھڑے ہوکر کی جانے والی دعاؤں کا نتیجہ تھا جس کا رعب رہتی دنیا تک کیلئے قائم ہو گیا۔جنگیں تلواروں، نیزوں اور زرہ بکتر پہن کرمیدانوں میں لڑی جاتی تھیں، دشمن اور دوست کی شکل میں غدارسامنے ہوتے تھے اورجو حقیقی دوست اور ساتھی ساتھ ہوتے تھے، عظیم مقاصد کے حصول کیلئے برسر پیکار ہونے والے ناتو میدان سے بھاگتے تھے اور نا ہی جیتے جی سامنے والے کو بھاگنے دیتے تھے، بھاگنے والا چھپ سکتا تھا اور نا ہی کسی کی بہادری کو چھپایا جاسکتا تھا۔ زرق برق سے آراستہ محلوں اور ٹھنڈے پر تعیش ایوانوں کے بجائے فیصلے فل فور میدانوں میں ہوتے تھے۔ان ہی میدانوں سے ہیرو بنتے تھے اور یہی میدان بزدلوں کو نگل لیتے تھے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کوکفار پر فتح و نصرت فرما کر بارہا باور کرادیا کہ جنگی سازوسامان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن دین کی سربلندی کیلئے اس یقین کے ساتھ نکلنا کے زندگی جس کی امانت ہے وہ کوئی اورلے ہی نہیں سکتا۔

ہم نے اپنی دنیاوی کمزوریوں کو دائمی کمزوریاں سمجھ لیا ہے اور یہ کمزوریاں باقاعدہ ہم میں تقسیم کی گئیں، ہم نے خوشی خوشی انہیں بطور طوق اپنے اپنے گلوں میں پہن لیا۔ اس طوق سے کمال یہ ہوا کہ ہم ناصرف ایمانی طور پر کمزور ہوتے چلے گئے بلکہ ہمارے جسموں میں بھی وہ سکت باقی نا رہی اور تو اور ہماری سوچوں کے زاوئیے بھی زن، زر اور زمین کی ہوکر رہ گئی۔ اب چونکہ اکثریت ایسی ہی ہے تو پھر اقلیت کا تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ مسجدوں، مدرسوں اور دیگر مذہبی اداروں کو چندے کی مد میں خطیر رقم دے کر دل کو بھلالیتے ہیں کہ ہم بھی دین کی سر بلندی کیلئے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہم نے دین اسلام کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا جیسے کہ دوسرے مذاہب میں ہوتا رہا ہے ایک وہ حصہ جو دنیا کیلئے وقف ہوتا ہے اور دوسرا وہ حصہ جو رمضان میں ہی دیکھائی دیتا ہے جیسے بارہ مہینے دنیا کیلئے اور صرف ایک ماہ دین کیلئے۔ اسے بدقسمتی کہیں یا پھر آزمائش کے ہم مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں نے ہی پہنچایا اور اس کے پیچھے دنیا اور اسکی مال و متاع کی چاہ تھی۔جولوگ دنیا کی خیرہ کردہ روشنی سے بچ بچا کر چلنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں انہیں قرانی آیات سے وظیفے نکال کر انکے پیچھے لگا دیا گیا، غرض یہ کے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں کہ ہر طرح کے مسلمان کو اسکی طرح سے الجھانے کے اسباب ہوتے رہیں اور بنیادی مقصد کی طرف نا لوٹ پائے۔ گھوڑے اصطبل میں کیا گئے ہماری تلواریں رقص کیلئے چمکائی جانے لیگیں ناکہ دشمن پر کاری وار کیلئے۔

گزشتہ دس دنوں سے فلسطینیوں بشمول معصوم بچوں اور خواتین پر اسرائیلی کس طرح سے ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہے ہیں وہ دنیا کی کسی آنکھ سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اسرائیلی فوجیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول میں دوران نماز حملہ کردیا جو انسانیت کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے، لیکن تقریباً دو ارب مسلمانوں نے یہودیوں کے اس بیہیمانہ عمل پر بے حسی کی ایک اور اعلی ترین مثال قائم کردی۔ تمام امت نے خون میں نہائے ہوئے فلسطینوں کی پروا کئے بغیر عید الفطر بھی منالی یہ تو بھلا ہو کرونا کہ لوگوں کی تفریحات کو محدود کردیا ورنہ ہم فلسطینی بچوں کو کیا منہ دیکھاتے۔ فلسطین جوکہ انبیاء کی سرزمین ہے اور تمام مذاہب کیلئے یکساں قابل عقیدت و احترام ہے۔ یہ فلسطینی اس مقدس سرزمین کی نگہبانی پر اپنا تن من دھن قربان کرتے چلے جارہے ہیں یہ آج بھی ہتھیار کی سب سے پہلی قسم یعنی پتھر سے دنیا کی سب سے جدید آلات سے لیس فو ج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ ہمیں یقین ہے انہیں سوائے اپنے خالق اللہ بزرگ و برتر کے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ناہی کسی کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں۔ یہ امت مسلمہ کی جنگ پتھروں سے لڑ رہے ہیں یہ انکے خالص عقیدے کی بھی ترجمانی ہے کہ کس طرح سے ابراہا کے لشکر کو پتھر کی کنکریوں سے نیست و نابود کیا گیا تھا۔ انکے پتھر بھی بہت جلد کسی ایسے ہی کرشمے کی جھلک دنیا کے سامنے لائینگے۔ ہم نے اسلحہ سازی میں خوب ترقی کر لی ہے لیکن ہماری ایمانی طاقت اتنی ہی کمزور ہوگئی ہے،ہم نے اپنی آسائشوں کے چھن جانے کے خوف سے، معیشت کے مسائل کو دنیا و آخرت کا مسلۂ سمجھ لیا ہے، یہی ایک ایسا سبب رہ جاتا ہے کہ جس کے پیچھے چھپ کر جان بچائی جاسکتی ہے۔

اب آپ سماجی ابلاغ اٹھا کر دیکھ لیں ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا بغیر کسی مذہب رنگ و نسل کی تفریق کے فلسطینیوں کے حق میں انسانیت کیساتھ انسانیت سوز مظالم روکنے کیلئے سڑکوں پر نکل کھڑی ہوئی ہے لیکن یہاں بھی ہم لوگ نہیں ہیں، ہمیں دنیا کی معیشت عام لفظوں میں دنیا کو کھانا کھلانے والوں نے ایسا کرنے سے منع کر رکھاہے۔ انسانیت کے علمبرداروں نے بغیر کسی عملی کام کئے سماجی ابلاغ کو میدان جنگ سمجھ رکھا ہے جس کی بنیاد پر مخصوص طبقے کو ہی فائدہ پہنچا ہے۔ یہ امت مسلمہ کا مسلۂ ہے موجودہ حالات قیامت کی آخری نشانیوں میں شامل نشانی ہیں۔ اب کس کا انتظار ہے اب کوئی نہیں آئے گا ہم نے ہی محمد بن قاسم بننا ہے ہم میں سے ہی سلطان صلاح الدین ایوبی کو پیدا ہونا ہے، کہیں ایسا نا ہوجائے کہ دنیا تو جائے گی ہی کہیں سفر آخرت بھی پل صراط سے آگے نا بڑھ سکے۔ہمیں انتہائی شرمندگی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے تاحال اس موضوع پر کچھ لکھنے سے قاصر رہے کہ وقت ہم سے کچھ طلب کر رہا ہے ہم ہیں کہ تلوار کی بجائے قلم اور گھوڑوں کی بجائے سماجی ابلاغ استعمال کر رہے ہیں۔

جنگ نہیں کرنی نا کریں لیکن اسرائیل کو بطور متحد ہ امت مسلمہ ایک ایسا پیغام تو دیں کہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ کس کے ماننے والے ہیں اور کس کے لئے جام شھادت پینے والے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زندگی اک کھلی کتاب ھے
  • میری ڈائری کا بوجھ
  • کمار سانو
  • بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئی مرے کوئی جیوے
پچھلی پوسٹ
چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں

متعلقہ پوسٹس

ندی کے اُس پار

مارچ 12, 2025

انسانیت اور برداشت کا زوال

مارچ 8, 2026

اسکی سانسیں میری سانسیں

نومبر 7, 2021

اردو افسانہ نقشِ تنقید

جون 9, 2026

یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

مئی 24, 2024

پاکستان کا مطلب کیا

جولائی 20, 2021

روشنی کا راستہ

اپریل 16, 2025

پرند گھر پہ بلاتا ہوں

مئی 15, 2020

زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کِیا

اگست 15, 2020

بھیگا منظر کسی صحرا کو

مارچ 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ ہجر ، وہ ستم کہاں

مئی 20, 2020

باردہ شمالی

جنوری 21, 2020

ابھی تجسیم باقی ہے

مئی 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں