438
گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے
دامن وقت یوں ہی مجھ سے چھٹا جاتا ہے
میں اجالے کو محبت کا خدا لکھتا ہوں
وہ اندھیرے ہی سے مانوس ہوا جاتا ہے
جس کی خوشبو سے فضاؤں میں مہک تھی شب بھر
صبح دم اس کی طرف سانپ بڑھا جاتا ہے
مجھ کو ڈر ہے کوئی عابد نہ بہک جائے کہیں
دل ربا چاند کا انداز ہوا جاتا ہے
دور رہ کر بھی رگ جاں سے لپٹ جاتے ہیں
اور اس دل میں اجالا سا ہوا جاتا ہے
اس قدر زہر پلایا مجھے اس نے عالمؔ
تلخی زیست کا احساس مٹا جاتا ہے
افروز عالم
