خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 30, 2021
از سائیٹ ایڈمن مارچ 30, 2021 0 تبصرے 28 مناظر
29

فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!

انسانوں نے بہت سارے نظاموں کو تشکیل دیا کتنے ایسے جو نافذ ہونے سے قبل ہی معدوم ہوگئے اورجو آزمائے گئے انکی کامیابی اوسط درجے سے اوپر نہیں جا سکی، دنیا میں دو ایسے نظام ہیں جن میں سے ایک مقدار چلتا ہے اور دوسرا وہ جو میعار پر یقین رکھتا ہے۔گوکہ خلافت وجود میں نہیں ہے لیکن یہ دائمی نظام مملکت ہے اسلئے باطل قوتیں اس کے نفاذ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ مقدار جمہوریت ہے اور میعار خلافت، تھوڑا سا خلافت اور جمہوریت کا بھی موازنہ کرلیتے ہیں، دنیا خوب واقف ہے کہ خلافت میں کس طرح سے بہترین فیصلہ سازوں کا انتخاب کیا جاتا رہا اور پھر یہ بہترین فیصلہ ساز بہترین فیصلے کرتے رہے ہیں آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ بہترین دماغوں پر مشتمل شوری عوام کیلئے عوام کے حق میں بہترین فیصلے کرتی ہے اسکا کام دواندیشی سے کام لینا ہوتا تھا نا کہ جذباتی فیصلے کرنا اور عوام جو سوچ سمجھ سے کسی حد تک عاری ہوتی ہے کی خواہش کیمطابق فیصلے کرنا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ایسے فیصلے بھی ہوتے ہوں جو عوام کی خواہش کے عین مطابق ہوتے ہوں۔ پس ثابت یہ ہوتا ہے کہ خلافت میں گنتی نہیں گنی جاتی بلکہ ذہنی میعار دیکھا جاتا ہے جو دین و دنیا سے بھرپور ہم آہنگ ہو۔ جمہوریت کے نام سے تو سب ہی واقف ہیں۔ یہ وہ نظام حکومت ہے جس میں اقتدار اکو ایک مخصوص طبقے کیلئے مرتب کیا جاتا ہے اور جو اس بات کی ضمانت کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں کی بنیاد پر اس مخصوص طبقے کی رکنیت حاصل کرلیتے ہیں۔ فیصلے ہوتے تو صاحب اقتدار کی مرضی کے ہیں لیکن اسکی توثیق سڑکوں پر عوام سے کروالی جاتی ہے کیونکہ عوام کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ فرد جو ہماری زبان بولتا ہے، جو ہمارے مسلک سے تعلق رکھتا ہے، یا پھر یہ ہمارے علاقے کا ہے۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کیلئے لیکن مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوبار سوچو پھر قدم اٹھاؤ، جب قدم اٹھا لو تو پھر اس پر ڈٹے رہو یہاں تک کے وہ فیصلہ صحیح ثابت ہوجائے۔ آخر ایسا کیوں کہا گیا؟بظاہر تو یہ کسی ضدی انسان کا مزاج لگتا ہے لیکن تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اس میں موجود روشن ستاروں کی اکثریت ایسے ہی مزاج والوں کی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ انہیں تسلیم کرلیا گیا اور بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان کے فیصلے یا ان کے کام کو تسلیم کیا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے کچھ فیصلے ایسے تھے جنہیں وقتی طور پر تو تنقید کا سامنا رہا لیکن وقت نے انکی سچائی کو ثابت کردیا۔

موجودہ صاحب اقتدار کی زندگی کے حالات بھی کسی ایسے ہی مزاج کے شخص سے مماثلت رکھتے ہیں کہ جو ٹھان لیا جس منزل کی طرف قدم بڑھا دیا تو پھر وہاں پہنچ کر ہی دم لیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے جن حالات میں اقتدار سنبھالا وہ حالات کوئی نئے نہیں تھے پاکستان میں ہمیشہ ہی انتقال اقتدار کے بعد عوام کو یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ اگر جانے والی حکومت کچھ دن اور گزار لیتی تو پاکستان دیوالیہ ہوجاتا۔ تحریک انصاف تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی اور عوام نے ووٹ بھی اس نعرے کو دیا اور اس بات کو ذہن میں رکھ کر دیا کہ جس نے یہ نعرہ لگایا ہے اسکے لئے یہ ایک اور عالمی کپ جیتنے کیلئے نکلنے سے کم نہیں ہوگا۔ گزشتہ تین سالوں سے حکومت اور حکومتی اراکین بدعنوانی کے سرے ڈھونڈنے میں گزار چکے ہیں، ایسے لوگوں کو کمرہ عدالت تک لے آئے جو کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے لوگوں میں کسی حد تک یہ واضح بھی کرنے میں کامیاب ہوئے کہ ملک کی ترقی میں تاحال کون کون سی رکاوٹیں کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عوام کو عوامی توقعات کیمطابق ثمرات نہیں پہنچا سکے جو عوام کا بنیادی مسلۂ ہے۔ حکومت نے اداروں کو سبسیڈی دینا بند کردی جس کی وجہ سے اداروں کو اپنی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا نا گزیر ہوگیا اور جہاں بیٹھ کر کھانے کا رواج تھا انکے لئے ایک مشکل وقت شروع ہوگیا۔ اب ان ساری صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایسے لوگوں کیلئے سوائے اسکے کہ وہ چوربازاری کو فروغ دیں اور سماجی ابلاغ پر حکومت کے خلاف چلنے والی بے سر وپا تحریکوں کا حصہ بنیں کچھ باقی نہیں پچا تھا۔ حکوت ابھی اس صورتحال سے گزر ہی رہی تھی کہ کورونا نامی وباء نے ساری دنیا کی معیشت کو تحس نحس کر کے رکھ دیا یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس نے ترقی یافتہ ملکوں کی معیشتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اللہ کے کرم سے پاکستان شائد ہو واحد ملک تھا جہاں نقصانات کا تخمینہ جتنا بھی ہو لیکن متاثرہ افراد کی تعداد قابل براداشت رہی۔

کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مختلف قسم کے اقداما ت کئے خصوصی طور پر سندھ اور وفاق سے ملحقہ صوبوں میں فرق نمایاں رہا، کچھ قدرت حکومت پر مہربان رہی جس کی وجہ سے وفاق کی حکمت عملیوں کا اعتراف ساری دنیا نے کیا۔ اس منظم حکمت عملی میں ایک بدترین عمل لاک ڈاؤن (بندش) کا تھا جو اوائل میں مکمل طور پر لگایا گیا جس سے انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی یہ عمل تقریباً دو چار مہینے جاری رہا جس کے دوران ذرائع آمد و رفت مکمل طور پر بندہو کر رہ گئی انتہائی قلیل حرکات و سکنات کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں ساری دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی جس کی وجہ سے حکومتوں کو ان مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرنی پڑی تاکہ تیل صاف کرنے والے ادارے چلتے رہیں۔ حسب عادت پاکستانی عوام نے قیمتوں کی کمی سے پھرپور فائدہ اٹھانے کی غرض سے پیٹرول اور ڈیزل ضرورت سے زیادہ مقدارمیں ذخیرہ اندوزی کے غرض سے اٹھانا شروع کر دیا جو طلب اور رسد کے قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل کی پیداوار بیرون ممالک سے آنے والے خام تیل سے مشروط ہوتی ہے جوکہ کورونا کی وجہ سے سفری پابندیوں کے باعث کچھ عرصے معطل رہی یا بہت قلیل رہی اور دستیاب خام تیل بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے طلب اور رسد کا بحران پیدا ہوا۔ سچ پوچھیں تو عوام خود اس بحران کے ذمہ دار ہیں۔یہ وہ کھلے حقائق ہیں جو تقریباً ہر ذی شعور کے سمجھنے کیلئے کافی ہیں۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے ادارے کسی فرد کو مصنوعات کی اضافی خریداری سے روک سکتے ہیں۔ کیا اس صورتحال سے عوام نے فائدہ نہیں اٹھایا جب وہ فائدہ اٹھا رہے تھے اس وقت اس بات کا خیا ل نہیں رکھا گیا کل کسی قسم کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ یہاں بات کرتے ہیں عوام کو اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیا ہونے والا ہے یا کیا ہورہا ہے،باور رہیں کہ ہمارے یہاں ہر صورتحال کو سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، حقائق پر کوئی بات کرنا پسند ہی نہیں کرتا، تنقید برائے تنقید۔

حکومتِ وقت کے اس عزم سے یقینا کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوگا کہ وہ ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے، اور ہر ہر حکومتی وزیر اپنے اپنے وزارت کے ماتحت اداروں میں بہتری کی ہر ممکن کوشش کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اسکی ایک وجہ وزیراعظم کی سہ ماہی رپورٹ کا خوف بھی ہے جس میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ فلاں وزیر کی وزارت کے ماتحت اداروں نے گزشتہ تین ماہ میں کیا کارگردگی یا پیش رفت ہوئی ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے بعض وزیروں کو انکی خراب کارگردگی کی بنیاد پر معزول بھی کیاگیا ہے جو ایک احسن اقدام ہے جس کی پذیرائی عوامی حلقوں میں بھی سنی جاتی رہی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا ذمہ دار وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر صاحب اور سیکریٹری پیٹرولیم میاں اسد حیا الدین صاحب کو ٹہرانا اور انکو اپنے اپنے عہدوں سے معزول کردینا کسی بھی طرح سے وزیراعظم کا مدبرانہ فیصلہ نہیں ہے۔ ندیم بابر صاحب ماتحت اداروں کی کارگردگی بہتر بنانے کیلئے بھر پور معاونت فراہم کرتے دیکھائی دے رہے تھے اورہر ممکن ایسے اقدامات کررہے تھے کہ جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے راہیں ہموار کی جائیں اور بہترین پیشہ ورانہ ماحول قائم کیا جائے ایسے وقت میں انکی اور سیکریٹری صاحب کی معزولی کے فیصلے کا یہ صحیح وقت نہیں۔واضح دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ فیصلہ بھی عوامی اور ابلاغ کے دباؤ میں کیا گیا ہے جس کا فائدہ ہمیشہ مخالفین کو ہوتا رہا ہے اور اداروں کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب بطور عوام یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ فیصلے جذباتی طور پر نہیں کرتے اور نا ہی کرینگے، کیونکہ پاکستان اب کسی جذباتی فیصلے کا محتمل نہیں ہوسکتا اور ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ریاست مدینہ کے نظام کیلئے بات کی ہے ریاست مدینہ ہمیں نظام خلافت کی طرف توجہ دلاتی ہے جہاں فیصلے بہترین دماغ کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں وزیر اعظم صاحب آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے معزول کئے گئے حضرات کو بحال کرینگے تاکہ ان کی کارگردگی مزید بہتر ہوسکے اور ایسے لوگوں کو منہ کی کھانی پڑے جو ملک کو کسی حال میں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کے مفاد میں ہونے والے فیصلے بلاآخر عوام کی فلاح کیلئے ہی ہوتے ہیں اور دیرپا بھی ہوتے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا
  • ایک سچی حقیقت
  • کفر اور کافر کا مسئلہ
  • دیکھا تھا ایک دن اسے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محبتوں میں مجھے مشت بھر کمائی تو دے
پچھلی پوسٹ
مستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!

متعلقہ پوسٹس

حافظ نعیم الرحمن کے لیے اہم مشورے

اگست 13, 2024

ایسےایسے لوگ

دسمبر 16, 2019

کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!

ستمبر 6, 2020

صاحب دھیان دیجئے

اپریل 3, 2022

آئیں آزادی سے ملیں !

اگست 13, 2021

بدلتے موسم

جون 22, 2025

جانے کس پیاس کا چہرہ ہے

اپریل 4, 2025

تنقید کرتا ہوں

جون 27, 2025

اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا

اکتوبر 12, 2025

مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ: ایک ستارہ اور ٹوٹ...

جون 13, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دستکاری ہاتھ : روایتی ہنر کی...

ستمبر 13, 2025

پرانی حویلی

جنوری 5, 2022

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش...

فروری 26, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں