410
کبھی تیری مجھ سے ملاقات ہوتی
تو مل کے بچھڑتا تو پھر بات ہوتی
یہ دن بھی گزرتے محبت میں تیری
نہ پھر زندگی میں کبھی شام ہوتی
جو ہوتا گزر تیرا میری گلی سے
توتجھ پہ بھی پھولوں کی برسات ہوتی
میں لڑتا رقیبوں سے تیری ہی خاطر
محبت میں مجھ کونہ پھر مات ہوتی
میں جوچاہتا تھا کبھی ویسا ہوتا
محبت کا محور تری ذات ہوتی
ڈاکٹر محمدالیاس عاجز
