خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےملاقاتی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ملاقاتی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 0 تبصرے 301 مناظر
302

ملاقاتی

’’آج صبح آپ سے کون ملنے آیا تھا‘‘

’’مجھے کیا معلوم میں تو اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔‘‘

’’آپ تو بس ہر وقت سوئے ہی رہتے ہیں آپ کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا حالانکہ آپ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں‘‘

’’یہ عجیب منطق ہے۔ اب مجھے کیا معلوم کون صبح سویرے تشریف لایا تھا کون آیا ہو گا۔ میرے ملنے والا یا کوئی اور شخص جسے سفارش کرانا ہو گی‘‘

’’آپ کی سفارش کہاں چلتی ہے۔ بڑے آئے ہیں گورنر کہیں گے۔‘‘

’’میں نے گورنری کا دعوے ٰ کبھی نہیں کیا لیکن اِدھر اُدھر میری تھوڑی سی واقفیت ہے اس لیے دوست یار کبھی کبھی کسی رشتے دار کو یہاں لے آتے ہیں کہ سفارش کر دو‘‘

’’آپ بات ٹالنے کی کوشش نہ کیجیے۔ میری اس بات کا جواب دیجیے کہ صبح سویرے آپ سے ملنے کے لیے کون آیا تھا۔‘‘

’’بھئی کہہ تو دیا ہے کہ مجھے علم نہیں۔ میں اندر اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ تمھیں اتنا تو یاد ہونا چاہیے کہ رات بڑے بچے کو بخار تھا اور میں دیر تک جاگتا رہا اُس کے بعد اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور نو بجے تک سوتا رہا۔‘‘

’’میں تو اُوپر کوٹھے پر تھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس سے اُٹھ کر ملے ہوں۔‘‘

’’کسی سے کچھ پتہ بھی تو چلے‘‘

’’آپ کو پتہ چل جائے گا جب میں یہ گھر چھوڑ کر میکے چلی جاؤں گی‘‘

’’میری سمجھ میں نہیں آتا تمھیں ایکا ایکی کیا ہو جاتا ہے تمہارے دماغ میں یقیناً فتور ہے۔‘‘

’’فتور ہو گا آپ کے دماغ میں۔ میرا دماغ اچھا بھلا ہے دیکھیے میں آپ سے کہہ دوں آپ زبان سنبھال کر بات کیا کیجیے مجھ سے آپ کی یہ بد زُبانیاں برداشت نہیں ہو سکتیں۔‘‘

’’تم خود پرلے درجے کی بد زبان ہو کیا عورت کو اپنے شوہر سے اس طرح سے بات کرنی چاہیے۔‘‘

’’جو شوہر اس قابل ہو گا۔ اُس سے اس قسم کے لہجے میں گفتگو کرنا پڑے گی۔‘‘

’’بند کرو اس گفتگو کو۔ میں تمہاری اس روز روز کی چخ چخ سے تنگ آ چکا ہوں تم تو میکے جاتی رہو گی۔ میں اس سے پہلے اس گھر سے نکل کر چلا جاؤں گا۔‘‘

’’کہاں‘‘

’’کسی جنگل میں‘‘

’’وہاں جا کر کیا کیجیے گا۔‘‘

’’سنیاسی بن جاؤں گا۔ تم سے چھٹکارا تو مل جائے گا۔ خدا کی قسم چند برسوں سے تم نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے بات بات پر نوک جھونک کرتی ہو آخر یہ سلسلہ کیا ہے جانے کون کم بخت صبح مجھ سے ملنے آیا تھا میرے دشمنوں کو بھی خبر نہیں خود کہتی ہو کہ تم کوٹھے پر تھیں تمھیں کیسے معلوم ہو گیا کوئی مجھ سے ملنے آیا ہے کبھی تک کی بات بھی کیا کرو۔‘‘

’’آپ تو ہمیشہ تک کی بات کرتے ہیں ابھی کل ہی کی بات ہے۔ آپ دفتر سے آئے تو میں نے آپ کی سفید قمیص پر لال رنگ کا ایک دھبہ دیکھا میں نے پوچھا یہ کیسے لگا آپ سٹپٹا گئے مگر فوراً سنبھل کر ایک گھڑ دی کہ لال پنسل سے کھجا رہا تھا شاید یہ اُس کا نشان ہو گا۔ حالانکہ جب آپ نے قمیص اُتاری اور میں نے اس دھبے کو غور سے دیکھا تو وہ لپ اسٹک کا دھبہ تھا۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ تمہارا دماغ چل گیا ہے‘‘

’’جناب اس لال دھبے سے خوشبو بھی آ رہی تھی۔ کیا آپکے دفتر کی لال پنسلوں میں خوشبو ہوتی ہے‘‘

’’عورت کا دُوسرا نام اپنے خاوند کی ہر بات کو شک کی نظروں سے دیکھنا ہے۔

کل صبح تم نے ہی میری اِس قمیص پر سینٹ لگایا تھا۔‘‘

’’لگایا ہو گا مگر وو دھبہ یقیناً لپ اسٹک کا تھا۔‘‘

’’یعنی آپ لپ اسٹک لگے ہونٹ میری قمیص چومتے رہے‘‘

’’آپ کو باتیں بنانا خوب آتی ہیں قمیص چومنے کا سوال کیا پیدا ہوتا ہے، کیا ہونٹ ویسے ہی قمیص سے نہیں چھو سکتے۔‘‘

’’چھو سکتے ہیں بابا چھو سکتے ہیں تم یہ سمجھتی ہو کہ میں کوئی یوسف ہوں کہ لڑکیاں میرے حسن سے اس قدر متاثر ہوتی ہیں کہ غش کھا کر مجھ پر گرتی جاتی ہیں اور میں جھاڑو ہاتھ میں لے کر سڑکوں سے یہ کوڑا کرکٹ اُٹھاتا رہتا ہوں۔‘‘

’’مرد ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں‘‘

’’دیکھو تم عورت ذات کی خود عورت ہو کر توہین کر رہی ہو۔ کیا عورتیں اتنے ہی کمزور کردار کی ہیں کہ ہر مرد کے آگے پا انداز کی طرح بچھ جائیں خدا کے لیے کچھ تو اپنی صنف کا خیال کرو میں نے تو ہمیشہ عورت کی عزت کی ہے۔‘‘

’’عزت کرنا ہی تو آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو بے چاری بھولی بھالی عورت کو آپ کے جال میں پھنسا لیتا ہے۔‘‘

’’میں کوئی چڑی مار نہیں جو جال بچھاتا رہے‘‘

’’آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ورنہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ چڑی ماروں کے گرو ہیں۔‘‘

’’یہ رُتبہ آج تم نے بخشا ہے۔ آٹھ دس روز ہوئے مجھے کمینہ کہا گیا تھا آج چڑی ماروں کا گرو پرسوں یہ ارشاد ہو گا کہ تم ہٹلر ہو۔‘‘

’’وہ تو آپ ہیں۔ اس گھر میں چلتی کس کی ہے جو آپ کہیں وہی ہو گا۔ ہو کے رہے گا۔ میں تو تین میں ہوں نہ تیرہ میں‘‘

’’میں کہتا ہوں اب یہ فضول بکواس بند ہو جانی چاہیے میرا دماغ چکرا گیا ہے۔‘‘

’’دماغ آپ کا بہت نازک ہے۔ ذراسی بات کر و تو چکرانے لگتا ہے۔ میں عورت ہوں میرا دماغ تو آج تک آپکی باتوں سے نہیں چکرایا۔‘‘

’’عورتیں بڑی سخت دماغ ہوتی ہیں یُوں تو انھیں صنف نازک کہا جاتا ہے مگر جب واسطہ پڑتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ایسی صنفِ کرخت دُنیا کے تختے پر نہیں۔‘‘

’’آپ حد سے بڑھ رہے ہیں‘‘

’’کیا کروں۔ تم جو میرا دماغ چاٹ گئی ہو تم اتنا تو سوچو کہ میں دفتر میں آٹھ گھنٹے جھک مار کر گھر آیا ہوں تھکا ہارا ہوں مجھے آرام کی ضرورت ہے اور تم لے بیٹھی ہو ایک فرضی قصّہ کہ تم سے ملنے کے لیے صبح سویرے کوئی آیا تھا۔ کون آیا تھا یہ بتا دو تو ساری جھنجھٹ ختم ہو۔‘‘

’’آپ تو بس بات ٹالنا چاہتے ہیں‘‘

’’کون خر ذات بات ٹالنا چاہتا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ کسی نہ کسی حیلے ختم ہو۔ لو اب بتا دو کون آیا تھا مجھ سے ملنے‘‘

’’ایک چڑیل تھی۔‘‘

’’وہ یہاں کیا کرنے آئی تھی۔ میرا اُس سے کیا کام؟‘‘

’’یہ آپ اُسی سے پوچھیے گا۔‘‘

’’اب تو مجھ سے پہیلیاں نہ بھجواؤ۔ بتاؤ کون آیا تھا۔ لیکن تم تو کوٹھے پر سو رہی تھی۔‘‘

’’میں کہیں بھی سوؤں لیکن مجھے ہر بات کی خبر ہوتی ہے۔‘‘

’’اچھا بھئی میں تو اب ہار گیا نہا دھو کر کلب جاتا ہوں کہ طبیعت کا تکدر کسی قدر دُور ہو۔‘‘

’’صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ اُس سے ملنے جا رہے ہیں‘‘

’’خدا کی قسم آج میرا دماغ پاش پاش ہو جائے گا۔ میں کس سے ملنے جا رہا ہوں‘‘

’’اُسی سے‘‘

’’تمہارا مطلب ہے اُسی چڑیل سے‘‘

’’اب آپ سمجھ گئے۔ تو کلب جا کر آپ کو اور کس سے ملنا ہے مجھ سے‘‘

’’تم تو ہر وقت میرے سینے پر سوار رہتی ہو‘‘

’’اسی لیے تو آپ اپنے سینے کا بوجھ ہلکا کرنے جا رہے ہیں کسی دن مجھے زہر ہی کیوں نہیں دے دیتے تاکہ قصہ ہی ختم ہو‘‘

’’اتنی دیر میں تو پاگل نہیں ہوئی۔ لیکن آج ضرور ہو جاؤں گی۔‘‘

’’اس لیے کہ میں نے آپ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔‘‘

’’میری تو ہر رگ آج دُکھ رہی ہے تم نے مجھے اس قدر جھنجوڑا اور لتاڑا ہے کہ اللہ کی پناہ تم عورت نہیں ہو لندھر پہلوان ہو۔‘‘

’’یہ سننا آپ سے باقی رہ گیا تھا نہ رہے وہ چڑیل اس دُنیا کے تختے پر‘‘

’’پھر وہی چڑیل دیکھو باہر ڈیوڑھی سے مجھے کسی عورت کی آواز سُنائی دی ہے‘‘

’’آپ ہی جا کر دیکھیے‘‘

’’لاحول ولا قوۃ عورتوں کو دیکھنا میرا کام نہیں صرف تمہارا ہے!‘‘

’’نوکر سے کہتی ہوں‘‘

’’بی بی جی وہی بی بی آئی ہیں جو آج صبح آئی تھیں۔‘‘

’’میں چلتا ہوں‘‘

’’نہیں نہیں آپ ہی سے تو وہ ملنے آئی ہے‘‘۔

’’اوہ ذکیہ تم تم تم یہاں کب آئیں‘‘

’’ہوائی جہاز میں پہلے نیرولی سے کراچی پہنچی پھر وہاں سے یہاں ہوائی جہاز ہی میں آئی۔ ابا جی باہر کھڑے ہیں‘‘

تم نے بھی حد کر دی ذکیہ۔ میں خود جاتی ہوں اپنے ابا جی کو لینے اتنی مدت ہو گئی ہے اُن کو دیکھے ہوئے

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹیلی گرام
  • عربی زبان
  • خوابوں کا آبشار
  • دیودار کے درخت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تھر
پچھلی پوسٹ
تین میں، نہ تیرہ میں

متعلقہ پوسٹس

میر، غالب، اور ایک منٹ کے چاول

دسمبر 4, 2019

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں

دسمبر 11, 2025

کراچی کی بحالی کا محاذ!

جنوری 16, 2022

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

مارچ 26, 2023

منتشر کرنے والا شاعر

ستمبر 15, 2016

بے ادب سہیلیاں

دسمبر 29, 2019

نئی جہت

مارچ 1, 2024

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

اگست 20, 2020

ہم کہیں کے نہ رہے!

فروری 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

الجھن کا حل نہیں مل رہا

ستمبر 18, 2025

عمیق مشعل کی حفاظت

جنوری 25, 2025

فيه ذكركم

جنوری 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں