خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرپھوار کا موسم
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔنذیر قیصر

پھوار کا موسم

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024 0 تبصرے 93 مناظر
94

سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

نذیر قیصر مجھے روح کے مدھم اجالوں میں ملا۔
ژولیان مجھے لاہور کی سڑکوں پر ملا تھا۔وہ صاف اردو بولتا‘فرانسیسی لہجے کی ہلکی آمیزش کے ساتھ۔ایک شب کہنے لگا ”یہ جو تم ہر بات میں مشرق اور مغرب کی تقسیم لے آتے ہو اسکی مجھے بالکل سمجھ نہیں آتی۔پھر کسی اور شب‘سرمد صہبائی کے گھر‘ساز کے ہلکے ہلکوروں پر وہ کہہ رہا تھا”ہم سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ایک طرح سانس لیتے‘ایک ہی طرح مسکراتے‘روتے‘محبت کرتے‘ایک سے لوگ ہیں“۔
ژولیان لاہور کی سڑکوں پر ملتا بچھڑتا رہا لیکن نذیر قیصر مجھے روح کے مدھم اجالے میں ایسا ملا کہ پھر جدا نہیں ہوا۔وہ اپنے نرم لہجے میں مجھے سے کہتا ہے ”محبت کو تلاش کرلیا جائے تو زندگی‘کائنات اور خدا ایک ہی آئینے میں جھلملانے لگتے ہیں“۔نذیر قیصر کا نرم لہجہ شاعری‘نثر اور گفتگو میں یک رنگ ہے۔اسکی شاعری دھیرے سے دل پر ہاتھ رکھتی ہے۔اسکا شعر مصری کی ڈلی کی طرح گھل کر سوچ کو میٹھا کرتا ہے۔نذیر قیصر اور اسکی شاعری مرے ساتھ ساتھ رہی۔محفلوں‘مشاعروں میں بھی اور تنہائی کے پلوں میں بھی۔
امرتا پریتم کا کرشنا‘”زیتون دی پتی“ لیے ”قسم فجر دے تارے دی“ کھا کر کہہ رہا ہے ”محبت میرا موسم ہے“۔
یہ شاعری ایک وحدت پسند روح کی آواز ہے۔یہ دوئی کو اکائی میں۔۔۔بلکہ ان گنت کو ایک دیکھنے کا رویہ ہے۔وہ اکائی انسان ہے جسے ایک دیکھنا نذیر قیصر کا خواب ہے۔وہ انسان پسند ہے سو محبت پسند ہے۔وہ کرنتھیوں کے نام پولس رسول کے پہلے خط کا تیرھواں باب ہے۔”اگر میں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو میں ٹھنٹھنا تا پیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہوں“۔
اس شاعر ی میں محبت ہے اور محبت کے ہزار پہلو ہیں۔نذیر قیصر محبت کے کسی بھی امکانی پہلو سے پہلوتہی نہیں کرتا۔وہ سوچ اور بدن کی یکسوئی کو محبت جانتا ہے۔
سماگئے تھے ہم اس طرح ایک دوجے میں
وہ اپنے نام سے مجھ کو بلایا کرتا تھا
جن لوگوں کی آنکھیں اچھی ہوتی ہیں
ان لوگوں کے سپنے سچے ہوتے ہیں
ہنستی آنکھوں اور مہکتے ہونٹوں سے
تم نے سارا گھر مہکایا ہوتا ہے
دیے نے اپنی لَو چھلکائی ہوتی ہے
گنبد نے منظر چھلکایا ہوتا ہے
مجھے سمیٹ لیا تم نے اپنے خوابوں میں
میں ورنہ رات سے باہر بکھرنے والا تھا
افتراقات تلاش کرنیوالوں کے ہجوم میں مشترکات دیکھنے والے کم ہوگئے ہیں۔ نذیر قیصر کے ہاں بلھے شا ہ اورخلیل جبران‘سچل سرمست اورجان کیٹس ‘حضرت سلیمان اور مہاتمابدھ۔۔یہ سب محبت کے ایک ہی لہجے میں کہتے ہیں ”آؤ ہم سب مل کر اختلاف ِ رائے پر اتفاق کرلیں۔۔ مسکرا کر ملیں اور محبت کریں۔نذیر قیصر نے اپنی کتاب میں لکھا”ہم جو امن‘محبت‘ایثار اور انسان دوستی کے دعویدار ہیں‘ ہم نے ابھی تک انسان سے گفتگو کرنا نہیں سیکھا“۔شاعری
کی بات کریں تو کسَی ہوئی کمان سے کڑے تیروں کی طرح چھوٹتے مصرعوں کی بلند آہنگ آوازوں سے یکسر جدا۔اس کی نرم میٹھی‘محبت بھری آواز کان پڑتی ہے تو کھنچے تنے اعصاب راحت پاتے ہیں۔
جاگنے والے تجھے ڈھونڈتے رہ جائیں گے
میں ترے خواب میں آکر تجھے لے جاؤں گا
سر پر جو گٹھڑی ہے اس کا بوجھ نہیں
گٹھڑی میں جو سپنا ہے وہ بھاری ہے
جب اس کی آنکھوں میں نیند سما نے لگتی ہے
دور کہیں اک دیے کی لَو تھرانے لگتی ہے
خواب سے پہلے خواب کے سائے جاگنے لگتے ہیں
تم سے پہلے یاد تمھاری آنے لگتی ہے
دور تک پھول برستے ہی چلے جاتے ہیں
جب وہ ہنستی ہے تو ہنستی ہی چلی جاتی ہے
مصرعے کی نئی تراش کے نام پر ان دنوں لوہے کی سلاخ ایسے مصرعے تراشے جارہے ہیں۔یہ دراصل اسی خطابیہ بلند آہنگی کا حصہ ہیں جو آج کل ہمارا مجموعی سماجی رویہ بنتی جاتی ہے۔ٹی وی ٹاک شوز میں روزانہ قوم کے رہنما چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔شائستگی اور شیرینی ہماری گفتگو سے نکلتی جاتی ہے اور تو اور‘اب شاعر بھی یہ سمجھے بیٹھا ہے کہ آواز جتنی بلند ہوگی‘شعر اتنا ہی پر اثر ہوگا حالانکہ دھیمے لہجے کی تاثیر کو بلند لہجہ چھو بھی نہیں سکتا! یہ شاعر پھولوں بھری ٹہنی بناتا ہے‘کیل جڑا ڈنڈا نہیں۔۔۔
ہنسنے لگتا ہوں تو ہو جاتی ہیں آنکھیں پانی
رونے لگتا ہوں تو رویا نہیں جاتا مجھ سے
ہاتھ جلتے ہیں جھکاتے ہوئے مشعل قیصر
کوئی شعلہ ہے جو بویا نہیں جاتا مجھ سے
اک اور سر زمین تھی آنکھوں کے سامنے
اک اور آسمان بنا نا پڑا مجھے
منظر سے اپنی آنکھیں ہٹانا محال تھا
منظر کو سامنے سے ہٹانا پڑا مجھے
رات باندھی تھی کسی اور جگہ
دن کسی اور جگہ کھولتے ہیں
ہم وہ گم راہ کہ جو قدموں پر
نقشہ ارض و سما کھولتے ہیں
ہو چکے حرف پرانے قیصر
مکتبِ حرف نیا کھولتے ہیں
نذیر قیصر منظر بناتا ہے۔اس کا شعر بصری تاثر رکھتا ہے۔وہ اشیا اور مظاہر کی ترتیب اور جگہ بھی بدل دیتا ہے۔دیے کی جگہ ستارہ اور ستارے کی جگہ پھول رکھ دیتا ہے۔کئی بار وہ صرف منظر سامنے لا رکھتا ہے اور معانی از خود برآمد ہوجاتے ہیں۔ایک ثروت حسین تھا جو اپنی شاعر ی میں منظر سے منظر جوڑتا تھااور اپنی فنکاری سے مناظر میں معانی کی سیال رو دوڑا دیتا تھا وہ بھی اس طرح کہ مناظر ہی معانی بن جاتے تھے۔ایک نذیر قیصر ہے جو منظر کی زبان سے بولتا ہے۔فرق یہ کہ نذیر قیصر اپنی مرضی کا منظر بناتا‘ اس میں اپنی ترتیب سے اشیاء رکھتا ہے۔اسکا تلازمہ کاری کا اپنا انداز ہے جو ایک طرف روایتی تلازمہ کاری سے مختلف ہے تو دوسری جانب عصری شعری تلازمے سے بھی جدا ہے۔یہ دراصل ایک تخلیقی شاعر کا خود اختراع کردہ زاویہ نگاہ ہے جو منظر میں اپنی مرضی کا منظر دکھاتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی وہ منظر دیکھنے میں محو ہوجاتے ہیں۔
اترتی جاتی ہیں جیسے لَو یں سی پوروں میں
سنورتے جاتے ہیں تجھ کو سنوارتے ہوئے ہم
جیسے جیسے رات گزرتی جاتی ہے
شاخِ بدن پھولوں سے بھرتی جاتی ہے
نیند کی ٹہنی جھکی ہوئی تھی
میں نے ستارا چوم لیا تھا
میں کیسے سو جاتا قیصر
چھاتی پر اک پھول کھلا تھا
لفظوں میں جو دھندلی سی تصویریں ہیں
یہ اپنی برسوں کی کارگزاری ہے
نذیر قیصر نے پانچ حواس کی شاعر ی کی ہے۔حسن دیکھنا‘پھول سونگھنا‘شہد چکھنا‘سرگوشی سننااور بدن چھونا اسکی شاعری کو مرغوب ہے۔وہ دیے ستارے اور پھول سے ایک جتنی روشنی کشید کرسکتا ہے۔اس نے دراصل ایک خطرناک کام کیا ہے۔محبت کی شاعر پر بہت آسانی سے سطحیت اور کچی جذباتیت کا الزام آسکتا ہے۔بدن کی شاعر پرترنت عریانیت کا فتویٰ اترتا ہے۔کیا واقعی جسم ناپاک ہے؟نہیں۔نذیر قیصر بتاتا ہے کہ بدن کی سیڑھی سے روحانی ارتفاع حاصل ہوسکتا ہے (روحانیت کا لفظ یہاں ذہنِ انسانی کے لطیف تریں منطقے کے معنی میں استعمال ہواہے)۔یہ خطرناک کام اس نے اتنی مشاقی سے کیا ہے کہ شاعری لطافت سے ہمکنار ہوگئی ہے۔بس ایک احساس کی رو‘ جذبے کا نرم بہاؤ اور خیال کا کومل سراپا۔وہ حسن کو اس ڈھنگ سے بیان کرتا ہے کہ شاعری سیدھے سبھاؤ لطافت سے لطف میں ڈھل جاتی ہے۔
سب چراغوں نے لگا رکھی ہیں آنکھیں تجھ پر
سب چراغوں کوبجھا کر تجھے لے جاؤں گا
وہ دھوپ بن کے مرے ساتھ ساتھ چلتی تھی
میں سائے جوڑ کے شامیں بنایا کرتا تھا

وہ جلتے ہونٹوں پہ ہونٹوں کا سایہ کرتی تھی
کسی چراغ کی لَو تھرتھرایا کرتی تھی
میں سوچتا تھا اسے اور میرے سینے میں
وہ فاختہ کی طرح پھڑپھڑایا کرتی تھی
”محبت میرا موسم ہے“ نذیر قیصر کی شاعر ی کا تازہ مجموعہ ہے۔یہ موجود شعری منظرنامے میں ایک الگ ہی منظر کھول رہا ہے۔ان غزلوں سے اشعار چننا کارِ دشوار تھا کیونکہ پوری غزل ایک سی کو ملتا کے ساتھ روح پر اترتی ہے۔سادہ زبان‘پرتاثیر اظہار اور تخلیقی استعارہ سازی پوری شاعری میں رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔اسکی نظمیں بھی اپنے تخلیقی رکھ رکھاؤ‘فطری بہاؤ‘لہجے کی شیرینی اور خیال کی لطافت میں غزلوں سے کم نہیں۔نذیر قیصر کی نظم دھیرے سے دل کے آنگن میں قدم رکھتی ہے۔حالیہ مجموعہ کلام میں نظموں کی خاطر خواہ تعداد نہ صرف نذیر قیصر کے ایک اور تخلیقی پہلو کی طرف اشارہ زن ہے بلکہ جدید نظم کے اپنے سرایت و نفوذ اور استحکام پر بھی دلالت کرتی ہے۔
نذیر قیصر نے شاعری کو تبدیل کیا ہے اور حسن کاری کی طرف تبدیل کیا ہے۔یہی شاعری کو اسکی دین ہے۔

شہزاد نیّر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جج صاحب سیاست میں
  • نئی بیوی
  • دھمکیوں بھرے خط
  • دوہزار بیس بھی گزر گیا!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عقل و عقیدہ کے ’’مابین‘‘
پچھلی پوسٹ
کہنو مجنوں کے مرنے کی

متعلقہ پوسٹس

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

اکتوبر 27, 2020

شادی کی خوشیوں کا سفر

مارچ 28, 2026

مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

مارچ 3, 2026

ہم ڈوب رہے ہیں ہار جیت کے درمیان!

جون 8, 2021

شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!

مارچ 5, 2023

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

ماہ صفر المظفر کی اہمیت

ستمبر 7, 2023

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

سفر نامہ حجاز

مئی 24, 2020

مریم نواز ہیلتھ کلینک

جون 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سید فراست بخاری مرحوم

اپریل 19, 2024

فیض اور میں

دسمبر 29, 2019

اور کراچی بہتا رہا!

جولائی 31, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں