420
دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے
جیسے یہ زندگی تمھاری ہے
نغمگی سے بھرا ہوا ہے گھر
ہاں مگر اک کمی تمھاری ہے
میرا سب کچھ تمہارے دم سے ہے
درد ہے یا خوشی تمھاری ہے
یہ جو کلیوں کے لب پہ رقصاں ہے
ہوبہو یہ ہنسی تمھاری ہے
میرے ہمراہ جاگنے والوں
اب میری نیند بھی تمھاری ہے
میرا خیال میری سوچ اور تہمینہ
یعنی سب شاعری تمھاری ہے
تہمینہ مرزا
