441
مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں
جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں
اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے
اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں
ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی
تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں
یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں
میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے کہاں
مدار میں ہوں اگر میں تو ہے کشش کس کی
اگر میں خود ہی کشش ہوں تو دائرہ ہے کہاں
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری
ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں
ہوا بہشت سے بے دخل جس کے باعث میں
مری زبان پر اس پھل کا ذائقہ ہے کہاں
ازل سے ہے مجھے درپیش دائروں کا سفر
جو مستقیم ہے یا رب وہ راستہ ہے کہاں
اگرچہ اس سے گزر تو رہا ہوں میں عاصمؔ
یہ تجربہ بھی مرا اپنا تجربہ ہے کہاں
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
