358
مانا کسی ظالم کی حمایت نہیں کرتے
ہم لوگ مگر کھل کے بغاوت نہیں کرتے
کرتے ہیں مسلسل مرے ایمان پہ تنقید
خود اپنے عقیدوں کی وضاحت نہیں کرتے
کچھ وہ بھی طبیعت کا سکھی ایسا نہیں ہے
کچھ ہم بھی محبت میں قناعت نہیں کرتے
جو زخم دیے آپ نے محفوظ ہیں اب تک
عادت ہے امانت میں خیانت نہیں کرتے
کیوں ان کو ملا منصب افزائش گیتی
یہ لوگ تو مٹی سے محبت نہیں کرتے
کچھ ایسی بغاوت ہے طبیعت میں ہماری
جس بات کی ہوتی ہے اجازت نہیں کرتے
تنظیم کا یہ حال ہے اس شہر میں عاصمؔ
بے ساختہ بچے بھی شرارت نہیں کرتے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
