374
سائل کو اس وجہ سے میسر نہیں ہے عدل
منصف کے دل میں وقت کے حاکم کا خوف ہے
کس کو خبر کہ دل میں ہوس کب چمک اٹھے
مالک کو اپنے گھر کے ہی خادم کا خوف ہے
پوچھا کہ چپ ہو کیوں تو یہ کہنے لگا گواہ
دیکھا ہے ظلم آنکھ سے ظالم کا خوف ہے
سچ میں ملا کے جھوٹ نہ وہ نسل نو کو دے
تاریخ کے اوراق کو راقم کا خوف ہے
ابلیس ترے نرغے سے بچتا بھلا ہے کون
کہنے لگا کہ بندہء نادم کا خوف ہے
سولی نے چوما حلق تو حلاج نے کہا
مجھ کو مدعئ عقل کے عالم کا خوف ہے
اویس خالد
