141
کم سے کم ساتھ چل رہا ہے وہ
یعنی پرچھائیں کی طرح ہو وہ
اب یہ دیوار کون دیکھے گا
اب تو تصویر ہو گیا ہے وہ
موسلا دھار بارشوں کے دن
اور مجھے یاد آرہا ہے وہ
اپنی بے چہرگی سے واقف ہے
جو سمجھتا ہے آئنہ ہے وہ
اب مجھے کچھ نظر نہیں آنا
سامنے سے گزر گیا ہے وہ
وہ جو تکمیل کر کے چھوڑے گا
ذات کا کھوکھلا خلا ہے وہ
تاکہ میں ڈھونڈتی رہوں اسکو
ایک مدت سے لاپتہ ہے وہ
زندگی ہجر میں گزاری ہے؟
یا یونہی پل بنا رہا ہے وہ؟
پھر ارادوں کو توڑ بیٹھا ہے
یار خود اپنا مسئلہ ہے وہ
بھولنا مت حسین اسکا ہے
یاد رکھنا حسین کا ہے وہ
شہلا خان
