116
شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا
وہ پرندہ جو نشانے پہ نہیں آتا تھا
امتی گھیر کے لاتے تھے اسی گھر کی طرف
دکھ محمد کے گھرانے پہ نہیں آتا تھا
میری خاموشی اسے کھینچ کے لے آئی ہے
وہ جو آواز لگانے پہ نہیں آتا تھا
جو ہمیں اب پس دیوار نظر آتا ہے
کبھی دیوار گرانے پہ نہیں آتا تھا
اس سے پہلے بھی بہت جھگڑا ہوا کرتا تھا
چھوڑ جانے کے دہانے پہ نہیں آتا تھا
امن شہزادی
