418
کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں
پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں
آنکھیں تمھارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا
اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں
آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی
جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں
یہ وقت بھی بتاتا ہے آدابِ وقت بھی
اس ٹوٹتے ستارے کو جب دیکھتا ہوں میں
!اب یاں سے کون دے مری چشمِ طلب کو داد
جس فاصلے سے بابِ طلب دیکھتا ہوں میں
!ان پتلیوں کا قرض چکاتا ہوں کیا کروں
بس دل سے دل ملاتا ہوں جب دیکھتا ہوں میں
!ناکامِ عشق ہوں سو مرا دیکھنا بھی دیکھ
کم دیکھتا ہوں اور غضب دیکھتا ہوں میں
شاہین عباس
