106
دل ٹھہری ہوئی روح کو جھنجوڑ چلا ہے
تہذیب کے دامن کو بشر چھوڑ چلا ہے
یہ دیپ محبّت کا بجھائے نہ بجھے گا
بد ذات ہواؤں کا یہ رُخ موڑ چلا ہے
وہ دوستوں کے روپ میں نکلا مرا دشمن
طوفان کی زد میں جو مجھے چھوڑ چلا ہے
ہر بات پہ میری جو اُڑاتا ہے تمسخر
ہنستے ہوئے وہ دل کو مرے توڑ چلا ہے
کِس سے مَیں شکایت کروں اِس سنگدلی کی
قسمت کا مری کچا گھڑا پھوڑ چلا ہے
وہ بُھول گیا عہد و وفا کے سبھی پیمان
گردن وہ تمنّاؤں کی جو موڑ چلا ہے
یہ دل بھی طرفدار ہے اُس شخص کا بشریٰؔ
ٹوٹے ہوئے بندھن جو سبھی جوڑ چلا ہے
بشریٰ سعید عاطف
