558
کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چھانتے
لائی ہے آسمان سے تقدیر کھینچ کر
پائل بنا کے پیر میں جس کو پہن لیا
لائی گئی تھی قید سے زنجیر کھیچ کر
قوسِ قزح کی آنکھ سے جلوےکشید کے
دیوار پہ لگائی ہے تصویر کھینچ کر
کچھ ممکنات ہوکے بھی ممکن نہ ہوسکا
خوابوں نےآنکھ چھین لی تعبیر کھینچ کر
سورج مری جبین کا روشن چراغ تھا
پھیلا ہے آسمان پہ تنویر کھینچ کر
میرے لہو کا رنگ ہے خوشبو بدن کی ہے
یعنی چمن کھلا مری جاگیر کھینچ کر
ثمینہ گُل
