102
دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤ گے کیا
ایک دن گھر نہیں جاؤ گے تو مر جاؤ گے کیا
پیڑ نے چاند کو آغوش میں لے رکھا ہے
میں تمھیں روکنا چاہوں تو ٹھہر جاؤ گے کیا
یہ زمستانِ تعلق یہ ہوائے قربت
آگ اوڑھو گے نہیں یونہی ٹھٹھر جاؤ گے
یہ تکلم بھری آنکھیں، یہ ترنّم بھرے ہونٹ
تم اسی حالتِ رسوائی میں گھر جاؤ گے کیا
لوٹ آؤ گے مرے پاس پرندے کی طرح
مری آواز کی سرحد سے گزر جاؤ گے کیا
چھوڑ کر ناؤ میں تنہا مجھے عاصم تم بھی
کسی گمنام جزیرے پہ اُتر جاؤ گے کیا
لیاقت علی عاصم
