121
کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا
تیرے ہجر میں خورو خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ
کوئی لقمہ ہاتھ سے گر گیا تو خیال تیری طرف گیا
کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا
کوئی آ کے جیسے چلا گیا، کوئی جا کے جیسے گیا نہیں
مجھے اپنا گھر بھی نہ گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا
مری بے کلی تھی شگفتنی سو بہار مجھ سے لپٹ گئی
کہا وہم نے کہ یہ کون تھا تو خیال تیری طرف گیا
میرے اختیار کی شدتیں میری دسترس سے چلی گئیں
کہیں تو بھی سامنے آ گیا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے کب کسی کی امنگ تھی مری اپنے آپ سے جنگ تھی
ہوا جب شکست کا سامنا تو خیال تیری طرف گیا
لیاقت علی عاصم
