108
تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ
نہیں ہے اس سے کوئی بڑھ کے بھی خدایا دکھ
وہ کہہ رہا تھا کہ دکھ اس کا کچھ زیادہ ہے
تو میں نے کھول کے بٹوہ اسے دکھایا دکھ
میں اپنی ماں کو ہی دکھڑے سنایا کرتا تھا
سو اس کے بعد خدا کو نہیں سنایا دکھ
ہجوم_شہر میں اپنا نہیں ملا کوئی
ملا ہے دکھ تو گلے زور سے لگایا دکھ
یہ پیڑ چھوڑ کے جانے کا دکھ سمجھتے ہیں
سو میں نے پیڑ کو جا کر ترا بتایا دکھ
منیر انجم منیر
