741
نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے
وگرنہ اس سے محبت بہت پرانی ہے
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ میں کسی سے سنوں
کہ تو نے بھی غمِ دنیا سے ہار مانی ہے
زمیں پہ رہ کے ستارے شکار کرتے ہیں
مزاج اہلِ محبت کا آسمانی ہے
ہمیں عزیز ہو کیونکر نہ شامِ غم کہ یہی
بچھڑنے والے، تری آخری نشانی ہے
اتر پڑے ہو تو دریا سے پوچھنا کیسا؟
کہ ساحلوں سے ادھر کتنا تیز پانی ہے
بہت دنوں میں تیری یاد اوڑھ کر اتری
یہ شام کتنی سنہری ہے کیا سہانی ہے
میں کتنی دیر اسے سوچتا رہوں محسنؔ
کہ جیسے اس کا بدن بھی کوئی کہانی ہے
