107
جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے
تم یہ کہو خود تم نے اب تک کتنے دیئے جلائے
اپنا کام ہے صرف محبت باقی اس کا کام
جب چاہے وہ روٹھے ہم سے جب چاہے من جائے
کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا ان کے بھید
ہم سب کو سمجھانے والے کون ہمیں سمجھائے
ایک اسی امید پہ ہیں سب دشمن دوست قبول
کیا جانے اس سادہ روی میں کون کہاں مل جائے
دنیا والے سب سچے پر جینا ہے اس کو بھی
ایک غریب اکیلا پاپی کس کس سے شرمائے
اتنا بھی مجبور نہ کرنا ورنہ ہم کہہ دیں گے
او عالؔی پر ہنسنے والے تو عالی بن جائے
جمیل الدین عالی
