خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےشب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )
اردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )

ایک اردو افسانہ از محمد زاہد

از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2019 0 تبصرے 390 مناظر
391

وہ روتی جا رہی تھی۔ روتے روتے میرے ساتھ لگ جاتی۔ اور زیادہ زور سے روتی۔ کچھ حوصلہ ہوتا تو پھرمجھ سے دور ہو جاتی۔ غصے سے بولنا شروع کر دیتی۔ اسے آج موقع ملا تھا کسی مرد پر اس رات کاغصہ نکالنے کا۔ وہ مسلسل بول رہی تھی۔ پھر وہ تھک کر سو گئی اور میں اپنے گھر آگیا۔

اگلے دن وہ کافی سنبھل چکی تھی۔

کچھ دنوں کے بعد میں نے اسے کہا، ”کل تیار رہنا، ہم لانگ ڈرائیو پر جا رہے ہیں۔ “

حیران ہو کر پوچھنے لگی ”کہاں؟“

”صبح بتاؤں گا۔

تم جلدی تیار ہو جانا، لمبا سفر ہے۔ “

”کہاں جانا ہے؟“

”تمہیں اس ما حول سے کچھ دیر کے لئے دور لے جا نا چاہتا ہوں۔ “

اگلے دن ہم منہ اندھیرے چل پڑے۔

پوچھنے لگی، ”ہم کہاں جا رہے ہیں؟“

”ڈیرہ غازی خاں۔ “

”ادھر کہاں؟“وہ پریشان ہو رہی تھی۔

”بتاتا ہوں۔ “میں نے کہنا شروع کیا۔

”انکل مجھے بہت پیار کرتے تھے کیونکہ انہیں پتا تھا کہ میں تمہارا بہت خیال رکھوں گا۔ فوت ہونے سے پہلے وہ مجھے ایک ایڈریس دے گئے اور کہا تھا کہ اُسے ایک مرتبہ ضرور مل لینا۔ “

”تو تم مجھے اس کے پاس لے کر جا رہے ہو۔ “ وہ خوفزدہ ہو گئی۔

میں نے اسے حوصلہ دیا، ”ڈاکٹر نور! دیکھو، اب تم سترہ اٹھارہ سال کی نوعمر لڑکی نہیں ہو۔ تم اعلیٰ تعلیم یافتہ آزاد عورت ہو۔

اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔

تم اس سے کیوں خوفزدہ ہو؟ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میری فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتا ہے۔ میں نے اسے تمہارے بارے میں نہیں بتایا۔ ہم آج شام اسے ملیں گے۔ “

وہ بولی، ”میں اس سے ملنا نہیں چاہتی۔ “

”لیکن ہم حقیقت سے اغماض بھی نہیں کرسکتے۔ تم ابھی تک اس کے نکاح میں ہو۔ “میں نے اسے سمجھایا۔

میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں اس کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ میں یہ طوق بھی اپنی گردن سے اتا ر پھینکوں گی۔ وہ انسان نہیں جانور ہے۔ موذی جانور۔ اس وحشی درندے نے مجھے نوچ ڈالا تھا۔ “ وہ غصے سے چلانے لگی۔

”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔ ظلم تم پر ہوا اور اب سزا بھی تم ہی بھگت رہی ہو۔ کیوں؟“

یہ سن کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔

سورج ڈھل رہا تھا جب ہم زرعی فارم میں پہنچے۔ وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا۔

ژولیدہ مو، دزدیدہ کھنڈر نگاہیں، موٹی سی نا تراشیدہ مونچھیں، دو دن کی بڑھی ہوئی شیو، شلوار قمیض میں ملبوس بڑی سی میز کے اس پارکرسی پر ڈھیر تھا۔

وہ خالی خالی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے تعارف کروایا، ”ڈاکٹر نوریز۔ “

وہ چونک گیا۔ اور شرمندگی سے اپنی گردن جھکا لی۔ کافی دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ میں نورریز کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔

پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی، ”مجھے طلاق چاہیے۔ “

اس نے پھر رونا شروع کردیا۔ کمرے میں اس کی ہچکیوں کی خاموش صدا گونج رہی تھی۔ درو دیوار پر ہتھوڑے برس رہے تھے۔ ندامت زدہ فضا بوجھل ہو کر فرش پر گرپڑی تھی۔

وہ مجہول سا اپنی ہی آگ میں سوزاں، کسی قُلّہ تنہا پر، خجالت زدہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔

پھر دراز کھولا۔ کاغذ پنسل نکالی اور لکھنا شروع کر دیا۔

جب ہم اٹھ کر چلنے لگے تو بولا، ”مجھے معاف کر دینا۔ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ آپ تو سنبھل گئیں

اور میں۔ ۔ ۔

اُس کی بعد۔ ۔ ۔

آج تک کسی سے نظریں نہیں ملا سکا۔ دو مرتبہ ماں نے میری شادی کی۔ دونوں کچھ دنوں کے بعد چھوڑ گئیں۔ اپنے مقدر کی ناکامی میں نے خوداپنے ہاتھوں سے لکھی تھی۔ اسی لئے اس دور دراز علاقہ میں سب سے الگ تھلگ، چھپ کر بیٹھا ہوں۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اور میرے لئے دعا کرنا۔ “

واپسی کا سفر بہت لمبا تھا۔ ساری رات سفر میں گذر گئی۔ اس کے آنسوؤں سے دھلے چہرے پر پورے دن اور رات کے سفر کی تھکاوٹ کہیں نظر نہیں آرہی تھے۔ جب ہم لاہور میں داخل ہوئے تو سورج طلوع ہو رہا تھا۔

ستمبر قریب الاختتام تھا۔ موسم سہانا اور خوشگوار۔ رات ہلکی ہلکی بارش بھی ہوتی رہی تھی۔ ٹھوکر پل کے اوپر پڑی کیاریوں میں اُگی بوگن ویلیا کی بیلیں پھولوں سے لدی ہوئی تھیں۔

میں نے گاڑی پل کے اوپر روک لی۔ آسمان پر بادل چھٹنا شروع ہو گئے تھے۔

”گاڑی کیوں روک لی؟“ اس نے پوچھا۔

مشرق کی طرف دیکھو! نیا سورج ابھر رہا ہے۔ ایک نیا منظر ہے جو کہ منظر سے نکل رہا ہے۔ ایک دن ہے کہ اندھیری رات کو شکست دے کر ابھر رہا ہے۔ جب سورج طلوع ہو جائے تو اندھیرے ردائے ابر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ جب موافق ہوائیں چلتی ہیں تو یہ ابربھی برس کر گھل جاتے ہیں۔ آسماں صاف ہو جاتا ہے۔

دیکھو! ایک نیا دن شروع ہونے کو ہے۔

بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے اس نئے سورج کی گلابی کرنیں تمہارے رخ روشن کے گرد نور کا ایک ہالہ بنا رہی ہیں اور سفید ریشم کے کپڑوں میں ملبوس تم، سحر کے ساتھ، آسمان سے اتری ہوئی پری لگ رہی ہو۔

اب رنج والم، اضمحال، مایوسی، پژمردگی، آزردگی اوردل شکستگی کو اس پل سے نیچے پھینک دو یا آگے آنے والی نہر میں بہا دو۔ اور آو!دنیا کی رغبتوں سے کیف آگیں ہو جاؤ۔ “

اس دن کے بعد بھی ہماری ملاقاتیں جاری رہیں۔ اب وہ خوش رہتی۔ کھل کر ہنس بھی لیتی۔ شاید اس کو زندگی میں ہنسنا پہلی بار نصیب ہوا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ اتنا کھلکھلا کر ہنستی کہ اس کا سانس اکھڑ جاتا۔ وہ کھانسنا شروع کر دیتی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ کر مجھ کو کچھ سرت نہ رہتی اور میرا طائر روح بھی اس کی میٹھی سانسوں کے ساتھ ہی الجھ جاتا۔

تین ماہ گذر گئے۔ خوشی کے ایک ایسے ہی سہانے لمحے میں میں نے اسے دوبارہ پرو پوز کر دیا۔

وہ خاموش ہو گئی۔

کچھ دیر کے بعد بولی، ”ہم بہت اچھے دوست ہیں۔ کیا یہی کافی نہیں؟مجھے شادی کے بارے میں سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے۔ شاید میں اب اس قابل بھی نہیں رہی۔ “

ڈاکٹر نور، تم خود ڈاکٹر ہو، تمہیں پتا ہو نا چاہیے کہ یہ کوئی ایسا خاص مسئلہ نہیں۔ “ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

وہ کہنے لگی، ”لیکن میں بہت خوفزدہ ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس اہل ہی نہیں سمجھتی۔ “

”ہم اس مسئلے کو مل کر حل کر لیں گے۔ “میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

اس کا جسم کانپنا شروع ہو گیا۔ کہنے لگی”یہ ممکن نہیں۔ “

اس دن کے بعد میں نے جب بھی اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش کی وہ خوفزدہ ہو کر خاموش ہو جاتی۔ میں اس کی کسی بات سے مضطرب تھا اور نہ ہی میں نے استقلال چھوڑا۔ ایک دن میں نے بہت زور دیا تو کہنے لگی،

”مجھے لگتا ہے کہ میں تمہارے دل کی کسی آرزو کو بر لا سکوں گی اور نہ تمہارے ساتھ صحبت کو گرم کر سکوں گی۔ ہم اچھے دوست ہیں، ہم میاں بیوی نہیں بن سکتے۔ “

میں نے بھی حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم اچھے دوست ہیں اور شادی کے بعد صرف دوست رہ کر بھی گذارا کر سکتے ہیں۔ میرا مقصد تمہاری شراب وصال پینا نہیں، تمہارے قرب سے اپنے آنگن کو مہکانا ہے۔ “

ہماری شادی ہو گئی۔

دن مہینے گذرتے گئے۔ میں اپنے وعدے پر قائم تھا۔

چھٹی کا دن تھا۔ ہم اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔ باہر دن روشن ہو چکا تھا۔ کھڑکی کھلی تھی۔ ماں اور گھر کی ملازمہ انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ ماں کہہ رہی تھی، ”جب سے میرے بیٹے کی شادی ہوئی ہے روزانہ خدا کے حضور ثمرہ جاودانی کی طلب گار بن کر سر بسجود ہوتی ہوں۔ پتا نہیں وہ وقت کب آئے گا؟“ماسی بولی، ”مجھے تو آپ کی خواہش پوری ہوتے نہیں لگتی۔ “

”کیوں؟“ ماں حیران ہو کر بولی۔

ماسی کہنے لگی، ”مجھے تو لگتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایسا تعلق ہی نہیں۔ “

ماں غصے سے بولی، ”کیا بکواس کر رہی ہو؟ وہ تو ساری ساری رات ہنستے کھیلتے رہتے ہیں۔ “

ماسی بولی، ”کھیلتے ہیں یا تمہارا بیٹا دیواروں سے سر ٹکراتا رہتا ہے۔

میں ان کے کپڑے دھوتی ہوں۔ بیٹا تو ٹھیک ہے۔ بہو کی جانگھ کے کپڑوں پر میں نے کبھی کوئی نشان نہیں دیکھا۔“

ہم دونوں سن رہے تھے۔ نور نے شرمندگی سے سرہانے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا۔

اس دن کے بعد ماں نے اسے غصہ دکھانا شروع کر دیا۔ اب وہ بھی ڈیپریشن میں جانا شروع ہو گئی تھی۔

ایک دن کہنے لگی، ”تم دوسری شادی کر لو۔ مجھے چھوڑنا بھی پڑے تو چھوڑ دو۔ “

میں نے جواب دیا، ”یہ نہیں ہو سکتا۔

کیوں نہ ہم کسی گائناکالوجسٹ یاسائکیٹرسٹ سے رابطہ کریں؟“

دو تین ملاقاتیں ہم نے ذہنی امراض کے ماہر سے کیں۔

اس کا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن کہنے لگی، ”یہ سب کچھ میرے بس میں نہیں۔ تم شادی کر لو، میں ہاسٹل چلی جاؤں گی۔ میری صرف ایک خواہش اور پوری کر دینا۔ جب تمہاری بیوی امید سے ہو تو اس کی ڈیلیوری میں کروں گی۔“

”کیسی عجیب خواہش ہے تمہاری؟“ میں چونک گیا۔

اس نے رونا شروع کر دیا۔ سر جھکا کر کہنے لگی،

”اپنے بچے کو سب سے پہلے میں اپنی گود میں کھلانا چاہتی ہوں۔ اور اس کو پہلا دودھ بھی میں اپنا پلاؤں گی۔ “

میں حیران ہو گیا، ”دودھ؟ تم ڈاکٹر ہو کر کیسی باتیں کر رہی ہو؟ “

ہچکیاں لیتے ہوئے کہنے لگی، ”میں بھی تو اس کی ماں ہونگی نا۔ میں دودھ کیوں نہیں پلا سکتی؟

جب ہم جسمانی تعلقات کے بغیر میاں بیوی ہو سکتے ہیں تو میں اسے بغیر دودھ کے دودھ نہیں پلا سکتی۔ “

میں اس کی محبت دیکھ کر لرز اٹھا۔ اس کی ماں بننے کی حسرت آنسو بن کر ٹپک رہی تھی۔

اگلے دن ہم ماہر امراض نسواں کے پاس چلے گئے۔

گائناکالوجسٹ نے اسے مکمل طور پر صحیح قرار دے دیا۔ خوف ختم کرنے کے لئے اس نے بیہوشی کے زیر اثر Dilatation کا مشورہ بھی دیا۔

رات کو کہنے لگی، ”میرا خاوند بھی ڈاکٹر ہے۔ میں کسی اور ڈاکٹر کے پاس نہیں جاؤں گی۔ جب میں ٹھیک ہوں تو اپنے خاوند سے کیوں دور رہوں۔ میں مر بھی جاؤں تو آج تمہیں نہیں روکوں گی۔ “

اب وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اب اور کہنے کی ضرورت نہیں
  • امر جلیل یا امر۔۔۔۔۔؟؟
  • نابینا علمائے کرام
  • ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)
پچھلی پوسٹ
کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

متعلقہ پوسٹس

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

جب میں چھوٹا تھا

اپریل 8, 2020

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

حج اکبر

دسمبر 10, 2019

مولانا دستار نیازی

مئی 10, 2020

اُمّ الغذا کلونجی: ہر بیماری کے علاج میں معاون

اپریل 24, 2022

قسط وار ناول بہرام: پہلی قسط

جولائی 31, 2022

مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے ہیں؟

مارچ 23, 2026

پوس کی رات

جنوری 10, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بجوکا

جون 9, 2020

غربت اور بیماری

جنوری 5, 2022

ریاست کا دیواں

دسمبر 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں