107
آئینے میں کسی افسوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
رائیگانی مجھے مجنوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
منتظر خواب ہیں ان آنکھوں کے اور وہ لڑکی
اپنی بے خوابی کو گردوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
جادہ ءِ غارِ حرا پر ہوں رواں جوں آیات
شعریت حسن کو مضموں کی طرح ڈھونڈتی ہے
اپنا افسانہ ہے دولخت زمانے! ہم کو
یاد اک مصرعِ موزوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
کس کا ہے خیمہءِ تاریک یہ جس کو ابدال
روشنی دشت میں مجنوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
عامر ابدال
