خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوہ میری بانہوں میں زندہ ہو گیا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

وہ میری بانہوں میں زندہ ہو گیا

از سائیٹ ایڈمن مارچ 29, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 29, 2025 0 تبصرے 92 مناظر
93

دوپہر کے 2بجے ڈاکٹر سٹیفن مارٹن اپنے دفتر میں داخل ہوئی، تو ایک مریض کو منتظر پایا۔ وہ اس سے محوِگفتگو ہوگئی۔ ڈاکٹر سٹیفن امریکی شہر، کلوریڈو سپرنگز کے میموریل ہسپتال میں کام کرتی تھی۔ ٹھوس بدن، لمبے بازوؤں و ٹانگوں والی 42سالہ سٹیفن دیکھنے میں بالرینا (ناچ) پیش کرنے والی رقاصہ لگتی، مگر وہ میموریل ہسپتال میں حمل کے خطرناک ترین کیس حل کرنے کی ماہرِخصوصی تھی۔ تاہم اُسے رقص پسند تھا اور وہ جب بھی ناچتی، تو اسی توانائی اور باریکی سے جو اس کے علاج کا خاصا تھا۔
مارٹن کو یقین تھا کہ آج کا دن بھی روزمرّہ مصروفیت میں گزرے گا۔ اچانک انٹرکام سے ایک فوری پیغام نشر ہونے لگا: ”کوڈ بلیو، ایسٹ ٹاور، لیبر اینڈ ڈیلوری رومز۔“ ہسپتال کی اصطلاح میں کوڈ بلیو کے معنی ہیں کہ نہایت ایمرجنسی کا کیس آن پہنچا۔ مطلب یہ کہ مریض کو دل کا دورہ پڑا ہے اور اُسے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ لیکن
پیغام میں شامل لیبر اینڈ ڈیلوری رومز کے معنی تھے ہ ماں اور بچہ، دونوں کی زندگی انتہائی خطرے میں ہے۔
پیغام سنتے ہی وہ لیبر اینڈ ڈیلوری رومز کی طرف بھاگ پڑی۔ اس نے متوحش ہوتے ہوئے سوچا ”آج کرسمس کی شام ہے۔ آج میں کسی کو موت کے منہ میں جاتا نہیں دیکھ سکتی۔ اے خدا، میری مدد فرما۔“
اس دن صبح 9بجے 34سالہ ٹریسی ہرمین لیبر روم میں داخل ہوئی تھی۔ اس کا شوہر، مائیک بینک میں ملازم تھا۔ دونوں 2پیارے سے بچوں کے والدین تھے کہ اب تیسرے بچے کی آمد آمد تھی۔ ٹریسی صحت مند اور خوش باش تھی۔ ابتدائی ٹیسٹوں سے پتا چلا تھا کہ وہ بیٹے کی ماں بننے لگی ہے۔ چونکہ یہ ان کا پہلا لڑکا تھا، لہٰذا وہ خوشی سے نہال ہوگئے۔ جلد ہی انھوں نے نام بھی سوچ لیا۔
10بجے ٹریسی کو دردِزہ شروع ہوا۔ رفتہ رفتہ ڈیڑھ بج گیا لیکن بچے کی آمد کے آثار نہ تھے۔ نرس نے اُسے ٹیکا لگایا تھا کہ درد اور اینٹھن کم ہو سکے۔ وہ بڑی توجہ سے اپنی مریضہ کی تیمارداری کر رہی تھی۔ مانیٹر بتا رہا تھا کہ بچے کے قلب کی دھڑکن سست ہے۔ تاہم یہ خطرے کی بات نہیں تھی۔ مائیک نے پیار سے بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہولے سے بولا ”آنکھیں بند کرکے آرام کرو۔ لگتا ہے کہ اس کے آنے میں پورا دن لگ جائے گا۔“
لیبرروم کی طرف بھاگتے ہوئے ڈاکٹر سٹیفن کا سانس پھول گیا اور وہ اپنے اندر بڑا جوش و جذبہ محسوس کرنے لگی۔ دراصل جب بھی کوڈ بلیو کے الفاظ سنتی، تو ماضی کا ایک الم ناک واقعہ ڈراؤنا خواب بن کر اُسے یاد آجاتا۔
یہ4جولائی 1997ء کی بات ہے جب وہ طبی تعلیم کے تمام مراحل سے گزر کرایک اسپتال میں ملازمت کرنے لگی۔ اس نے ایمرجنسی ڈاکٹر کا عہدہ سنبھالا۔ دوپہر کو ایک 21سالہ حاملہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ ہوا یہ کہ دردِزہ کے دوران آنول پھٹ گئی۔ تب اس کا امائنومادہ عورت کے خون میں جا شامل ہوا جس سے زبردست الرجی نے جنم لیا۔ اس الرجی کے باعث اندرونی اعضا سے خون جاری ہوگیا۔
چند منٹ کے اندر اندر حاملہ کے قلب و جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ اُدھر بچے کے دل کی دھڑکن سست ہوگئی۔ ڈاکٹر سٹیفن نے فوراً آپریشن کیا لیکن ماں اور بچے، دونوں کی جان نہ بچا سکی۔
پہلے ہی دن دو اموات ہونا ایک نوخیز ڈاکٹر کے لیے بہت بڑا جذباتی صدمہ ثابت ہوا۔ اس کی ذہنی حالت خراب ہوگئی اور وہ بستر سے جا لگی۔ وہ ہر وقت سوچتی رہتی کہ وارڈ میں میرے ہونے کا کیا فائدہ ہوا؟ دوست احباب نے اُسے ڈپریشن سے نکالنا چاہا لیکن ان کو ناکامی ہوئی حتیٰ کہ ڈاکٹر کا شوہر، ماہر اعصاب جیف بھی اپنی بیگم کو صدمے کی اتھاہ گہرائیوں سے نہ نکال سکا۔
سٹیفن مغربی ٹیکساس کے ایک دیہہ میں پیدا ہوئی۔ بچپن سے وہ معالج بننے کی تمنا کرنے لگی۔ وہ سہیلیوں سے کھیلتی، تو کھیل کھیل میں ان کا علاج کر ڈالتی۔ اب جب اس نے منزل پا لی تھی، تو ایک خوفناک حادثے نے قدرتاً سٹیفن کے ہوش و حواس گُم کر دیے۔
اُسے ذہنی و جسمانی طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ہفتے لگ گئے۔ کامیابی میں بڑا دخل ڈاکٹر سٹیفن کی ہمت اور اس خواہش کا تھا کہ وہ ان تمام وجوہ کو جان سکے جو ماں اور بچے کی وفات کا سبب بنتے ہیں۔ وہ بتاتی ہے ”میں نے تہیہ کرلیا کہ بیماریاں مجھے شکست نہیں دے سکتیں۔ مجھے ہر حال میں ان کا حل تلاش کرنا تھا۔

اب شعبہ زچہ وبچہ میں ہرکوڈ بلیو اس کے لیے چیلنج بن گیا…… ساتھ ہی یہ دعوت بھی کہ مزید تحقیق کی جائے۔ 4جولائی کے حادثے کے بعد ڈاکٹر سٹیفن کو جو بیش بہا تجربات حاصل ہوئے، انھوں نے اُسے خصوصاً حاملہ خواتین میں حملہ قلب کا ماہرِخصوصی بنا دیا۔
ڈاکٹر سٹیفن ایک منٹ کے اندر اندر ٹریسی کے پاس پہنچ گئی۔ وہ نیم بے ہوش تھی اور زندگی کے آثار معدوم ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر نے اس میں خون کا دباؤ نہیں پایا اور نہ ہی وہ معمول کے مطابق سانس لے رہی تھی۔ تبھی ایک نرس ٹریسی کا سینہ دبانے لگی تاکہ سانس بحال کرسکے۔
ٹریسی کی حالت خراب کرنے میں کئی وجوہ کا ہاتھ ہو سکتا تھا۔ مثال کے طور پر آنول سے مایونی مادے کا نکلنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا اور آنول کا رحم سے علیحدہ ہوجانا جس کے باعث وہ خون سے بھر جاتا ہے۔ ان تمام کیفیات میں طبی پروٹوکول یہ ہے کہ ماں کا علاج کرنے سے قبل بچے کو پیٹ سے نکال لیا جائے۔ ڈاکٹر سٹیفن بھی جانتی تھی کہ ماں کو بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جنین (بچے) اور آنول کو نکالا جائے۔ یوں ٹریسی کے دل پر پڑا دباؤ کم ہوتا اور بچنے کا امکان بڑھ جاتا۔
ڈاکٹر سٹیفن نے پھر2ٹیمیں بنا دیں۔ وہ خود آپریشن کرنے والی ٹیم کی سربراہ بنی۔ اس نے ٹریسی کی سرجری کرنے کے بعد اُسے بچانے کی سعی کرنا تھی۔ دوسری ٹیم نے بچے کو سنبھالنا تھا۔ جب ماں کا سانس بند ہوجائے، تو صرف پانچ منٹ بعد بچے کے دماغ کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ مانیٹر پہلے ہی بتانے لگا تھا کہ بچے کے قلب کی دھڑکن سست ہو رہی ہے۔
ایک جونیئر ڈاکٹر نے ایک نالی ٹریسی کے منہ میں ڈالی اور دستی پمپ اس کے پھیپھڑوں تک آکسیجن پہنچانے لگے۔ مدعا یہ تھا کہ اس کا تھما دل دوبارہ چل پڑے۔
اسی وقت 12سال پراناحادثہ ڈاکٹرسٹیفن کے سر پر کابوس بن کر سوار ہوگیا۔ تب ایک نوجوان لڑکی اس کی آنکھوں کے سامنے جان ہار گئی تھی۔ لیکن پھر اس نے اپنے خیالات جھٹکے اور تندہی سے کام پر جُت گئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ لیبرروم ہی میں آپریشن کیا جائے۔ چناں چہ متعلقہ اوزار وہیں پہنچ گئے۔
اس نے ٹریسی کے شکم میں 15سینٹی میٹر لمبا افقی شگاف ڈالا مگر کوئی خون نہ نکلا۔ دراصل ٹریسی کے دل نے خون پمپ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر سٹیفن نے پھر دوسرا چیرا لگایا اور رحم کھل گیا۔ اس نے پھر تیزی سے بچہ نکالا اور آنول کاٹ دی۔
بچے کو ہاتھ میں لیتے ہی ڈاکٹر سٹیفن کو محسوس ہوگیا کہ اس کے تمام نظام بڑی کمزور حالت میں ہیں۔ بچے کا رنگ سفید پڑا ہوا تھا اور وہ غیرمتحرک تھا۔ اس نے بچہ قریب کھڑے ڈاکٹر کو تھما دیا۔ اب ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بچے کو بچانے کی کوششیں کرنے لگی۔ اس کا جسم خشک کرکے رگڑا گیا اور مصنوعی تنفس دیا۔ بچے کی خوش قسمتی کہ آپریشن پانچ منٹ سے قبل انجام پایا تھا۔
اب ڈاکٹرسٹیفن ماں کی طرف متوجہ ہوئی جس کا چہرہ نیلا پڑ چکا تھا۔ اس نے شگاف والی جگہ سے اندر جھانکا، تو اُسے شریانِ کبیر (Aorta) نظر آئی۔ یہ انسانی شریانی نظام کی سب سے بڑی شریان (Artery) ہے جو دل کے بائیں خانے سے نکلتی ہے۔
ڈاکٹر نے ہولے سے شریان پر ہاتھ رکھا۔ تبھی اُسے اپنی انگلی کے نیچے دھڑکن محسوس ہوئی، جیسے کسی نے آنکھ جھپکی ہو! وہ باآوازبلند بولی ”اِسے آپریشن روم لے چلو، اسی وقت!“

مائیک ہال میں بیٹھا بے تابی سے ڈاکٹر سٹیفن کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے ایک اسٹریچر کے ساتھ اُسے آتے دیکھا، تو اُٹھ کھڑا ہوا۔ ڈاکٹر نے اسٹریچر اس کے قریب روکا اور بوسہ ”بیگم کو بوسہ دو۔“ مائیک جھکا اور آہستہ سے ٹریسی کے ماتھے پر بوسی دیا۔ اُسے یہ خوف محسوس ہوا کہ وہ بیوی کو آخری بار چوم رہا ہے۔ اس کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ قدرتِ الٰہی سے ایک کرشمہ ظہورپذیر ہو چکا۔
متوحش ڈاکٹرسٹیفن بھاگم بھاگ آپریشن روم پہنچی۔ اس نے جب مریضہ کا معاینہ کیا تو دل کی دھڑکن کو باقاعدہ اور معمول کے مطابق پایا۔ بہرحال ٹریسی کو خودکار طریقے سے سانس دینے والی مشین کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اس نے پھر آنول علیحدہ کی۔ پھر چیرے پر ٹانکے لگانے سے قبل اس نے تمام تر تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے جائزہ لیا کہ دل دھڑکنا کیوں رکا اور پھر کیسے چل پڑا؟ تاہم وہ کوئی واضح وجہ نہیں جان سکی۔
جب آپریشن مکمل ہوچکا، تو ڈاکٹر نرسوں کے ہمراہ مریضہ کو انتہائی نگہداشت کے کمرے میں لے گئی۔ وہ ٹریسی کی صحت یابی کا پورا بندوبست کرنا چاہتی تھی جو بظاہر بے ہوش مگر جیتی جاگتی حالت میں تھی۔ اچانک وہ جاگ اٹھی، اس نے منہ سے سانس کی نالی نکالی اور پوچھا ”میں کہاں ہوں، میرا بچہ کہاں ہے؟“ اُسے بیدار دیکھ کر پہلے تو ڈاکٹر سٹیفن حیران ہوئی اور پھر اطمینان و مسرت کی لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی۔
ہال میں بیٹھا مائیک بہت پریشان تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ نرس اور ڈاکٹر آپریشن روم میں آجارہے ہیں۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ بیوی اور بچہ کس عالم میں ہیں اور لگتا تھا کہ وقت کھنچ کر بڑا طویل ہوگیا۔
شام کو آخر ایک نرس اُسے کمرے میں لے گئی اور بیٹا مائیک کی بانہوں میں ڈال دیا۔ ششدر باپ کو پہلے یہی محسوس ہوا کہ بیٹا مردہ ہے۔ حالانکہ کمزوری نے اُسے نڈھال کررکھا تھا۔ جب باپ کی آغوش میں وہ تھوڑا سا ہلا تو باپ کی جان میں جان آئی۔ باپ کے لیے وہ ننھی منی حرکات کسی معجزے سے کم نہ تھیں۔ مائیک خوشی سے کہتا ہے ”اور وہ میری بانہوں میں زندہ ہوگیا۔“
تھوڑی دیر بعد وہ اپنی چہیتی بیگم سے بھی ملا۔ جب دونوں کو علم ہوا کہ ڈاکٹرسٹیفن کے باعث ٹریسی اور بچے کو نئی زندگی ملی ہے، تو وہ اس کے بہت شکرگزار ہوئے۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر کے بروقت فیصلوں اور ان تھک محنت کی وجہ سے2قیمتی انسانوں جانوں کی جان بچ گئی۔
اس رات ڈاکٹر سٹیفن نے دن کو بیتا حیرت انگیز واقعہ اپنے شوہر کو سنایا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ ایسا ڈرامائی واقعہ انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ یہ حیرت ناک امر ہی تھا کہ ٹریسی کا دل بغیر کسی معلوم وجہ کے رک گیا اور زیادہ حیران کن بات یہ کہ وہ اچانک پھر دھڑکنے لگا۔ بہرحال ڈاکٹر سٹیفن کو یہ ازحد خوشی تھی کہ وہ کرسمس کی شام ایک خاندان کو بُری خبر سنانے سے بچ گئی۔
آج بھی ٹریسی کو موت سے آمنا سامنا یاد ہے۔ اگلے جہان جانے میں کچھ ہی کسر باقی تھی کہ وہ زندگی کی طرف پلٹ آئی۔ وہ کہتی ہے ”اس خوفناک واقعے نے مجھے سبق سکھایا کہ روزمرّہ معاملات میں آنے والی پریشانیوں اور تکلیفوں کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔ لہٰذا میں انھیں جلد بھلا کر اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔“
جبکہ مائیک کا کہنا ہے کہ کرسمس کی اس شام حقیقتاً ایک کرشمہ ظہورپذیر ہوا…… اس شام جب ایک بچے نے جنم لیا، ایک ماں کی جان بچ گئی اور ایک قابل و محنتی معالج اپنا کھویا ہوا اعتماد پانے میں کامیاب رہی۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نہ تم زباں سے جواب دینا
  • ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!
  • لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!
  • زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
علامہ اقبال کی ایک رباعی
پچھلی پوسٹ
چراغ حسن حسرت

متعلقہ پوسٹس

شعلہ بن کے جلتا سورج

مئی 5, 2020

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مئی 11, 2020

احترام رمضان

اپریل 11, 2021

دنیا کے مہذب معاشرے اور انسانیت کی تذلیل !

جنوری 13, 2024

فوج پر تنقید : پاکستان کے لیے خطرہ

ستمبر 16, 2025

دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون

اکتوبر 16, 2025

نفرت

نومبر 3, 2019

جاؤں گی اب نہ آپ کی

فروری 18, 2020

مرے قلم کو ملی ہے وہ آب و تاب کہاں

اکتوبر 25, 2025

رخصت

دسمبر 13, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حکایتِ عالمِ گمشدہ

دسمبر 1, 2024

وقت کی قدر اور انسان کی...

مئی 21, 2026

تیرے قدموں پہ دل وارنے کے...

جنوری 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں