خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےباردہ شمالی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

باردہ شمالی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 466 مناظر
467

باردہ شمالی

دوگوگلز آئیں۔ تین بش شرٹوں نے ان کا استقبال کیا۔ بش شرٹیں دنیا کے نقشے بنی ہوئی تھیں، ان پرپرندے، چرندے، درندے، پھول بُوٹے اور کئی ملکوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔ دونوں گوگلز نے اپنی کتابیں میز پررکھیں۔ اپنے ڈسٹ کور اتارے اور بش شرٹوں کے بٹن بن گئیں۔ ایک گوگل نے اس بش شرٹ سے جو خالص امریکی تھی، کہا

’’آپ کا لباس بڑا واہیات ہے۔ ‘‘

وہ بش شرٹ ہنسا۔

’’تمہارے گوگلز بڑے واہیات ہیں۔ اسے لگا کرتم ایسی دکھائی دیتی ہو جیسے روشن دِن اندھیری رات بن گیا ہے۔ ‘‘

اس اندھیری رات نے اس بش شرٹ سے کہا۔

’’میں تو چاندنی رات ہوں۔ ‘‘

امریکی بش شرٹ نے اس کو ایک کوہ ہمالہ پیش کیا جو بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ اس نے چمچ سے اس کوہ ہمالہ کو سر کرلیا۔ لیکن اس مہم کے دوران میں اس کو بڑی کوفت ہوئی۔ وہ برفوں کی عادی نہیں تھی۔ وہ مجبوراً اپنی سہیلی دوسری گوگلز کے ساتھ آگئی تھی کہ وہاں اس کا چہیتیا بش شرٹ مل گیا۔ دوسری گوگلز اپنے بش شرٹ سے علیحدہ باتیں کررہی تھی۔

’’آج تم اتنی حسین کیوں دکھائی دے رہی ہو‘‘

’’مجھے کیا معلوم‘‘

’’اپنی چقیں اتار دو‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’مجھے تمہاری آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ ‘‘

’’میرا دل تو تمہیں نظر آرہا ہو گا۔ ‘‘

’’نظر آتا رہا ہے۔ نظر آتا رہے گا۔ لیکن مجھے تمہاری آنکھوں پر یہ غلاف پسند نہیں۔ ‘‘

’’تیز روشنی مجھے پسند نہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس نہیں۔ تمہاری بش شرٹ بھی مجھے پسند نہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ اس کا ڈیزائن بہت بے ہودہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئس کریم میں کیڑے مکوڑے چل رہے ہیں۔ ‘‘

’’تم کھا تو چکی ہو۔ ‘‘

’’میں نے تو صرف چکھی ہے، کھائی کب ہے؟‘‘

’’آپ ’باردہ شمالی‘ میں صرف آئس کریم چکھنے کے لیے ہی آتی ہیں‘‘

’’آپ مجبورکرتے ہیں تو میں آتی ہوں، ورنہ مجھے اس جگہ سے کوئی رغبت نہیں۔ ‘‘

’’میں یہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں مل کر کوئی مہم سر کریں۔ ‘‘

’’کون سی مہم؟‘‘

’’بے شمار مہمیں ہیں۔ لیکن ایک سب سے بڑی ہے۔ ‘‘

’’کون سی؟‘‘

’’کسی آتش فشاں پہاڑ کے اندر کود جائیں اور وہاں کے حالات معلوم کریں۔ ‘‘

’’میں تیار ہوں۔ لیکن پھر میں یہاں آکر آئس کریم ضرور کھاؤں گی۔ ‘‘

’’میں کھلاؤں گا تمہیں‘‘

دونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک ایسی دوزخ میں چلے گئے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اس گوگلز کی ساری کتابیں اس بش شرٹ کی لائبریری میں داخل ہو گئیں۔ دوسری گوگلز نے اپنی بش شرٹ کو اپنے بلاؤز کی ساری کتابیں پڑھائیں مگر اس کی سمجھ میں نہ آئیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بش شرٹ کسی گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی ہے۔ اس نے

’’باردہ شمالی‘‘

میں اس سے کہا۔

’’تم آئس کریم نہ کھایا کرو۔ ہم آئندہ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں جایا کریں گے۔ ‘‘

دوسری گوگلز گلگبا نے لگی۔ اس گلگاہٹ میں اس نے اپنی بش شرٹ کے کاج بنانے شروع کردیے اور ان میں کئی پھول ٹانک دیئے۔ یہ بش شرٹ گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی نہیں تھی، اصل میں اس کا کپڑا کھردرا تھا، جیسے ٹاٹ ہو، اس میں دوسری گوگلز نے اپنی مخمل کے کئی پیوند لگائے، مگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ وہ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں بھی کئی مرتبہ گئے، وہاں انہوں نے کئی گلاس پگھلی ہوئی آگ کے پئے۔ مگر کوئی تسکین نہ ہوئی۔ دوسری گوگلز حیران تھی کہ اس کا بش شرٹ جس کے لیے اس نے اپنے بلاؤز کے تمام بخیے ادھیڑ دیے، اس سے ملتفت کیوں نہیں ہوتا۔ وہ اس کی ہر سلوٹ سے پیار کرتی تھی۔ لیکن وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں اور

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں اس کے خوبصورت فریم سے کوئی دلچسپی لیتا ہی نہیں تھا۔ عجیب بات ہے کہ وہ باردہ شمالی میں گرم ہو جاتا اور آتشیں ہاؤس میں اولاسا بن جاتا۔ دوسری بش شرٹ بہت حیران تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے! اس نے پہلی گوگلز کو جو اس کی سہیلی تھی، ایک خط لکھا اور اس کو اپنا سارا دُکھ بتایا۔ اس نے جواب میں یہ لکھا۔

’’تم کچھ فکر نہ کرو۔ یہ بش شرٹ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کبھی سکڑ جاتے ہیں۔ کبھی پھیل جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری لانڈری میں بھی کوئی نقص ہے۔ اِسے دُورکرنے کی کوشش کرو۔ تمہاری استری بھی ایسا معلوم ہوتا ہے، خراب ہو گئی ہے، اسے ٹھیک کراؤ۔ کہیں کرنٹ تو نہیں مارتی؟ دوسری گوگلز نے اسے لکھا۔

’’کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری استری کرنٹ مارتی ہے۔ میرا بش شرٹ گیلا ہو چکا ہوتا ہے کہ میری استری گرم ہوتی ہے، میں جب اس پر پھیرتی ہوں تو مجھے بجلی کے دھچکے لگتے ہیں۔ ‘‘

جواب میں اس کی سہیلی نے لکھا۔

’’میں تمہاری استری کی خرابی سمجھ گئی ہوں۔ نیا پلگ بھیج رہی ہوں، اس کو لگا کر دیکھو، شاید یہ خرابی دور ہو جائے۔ ‘‘

وہ پلگ آیا۔ بڑا خوبصورت تھا۔ مگر جب اس نے اپنی استری میں لگانا چاہا تو فٹ نہ ہوا۔ کنڈم کرکے اُس نے واپس کردیا، اور اپنے بش شرٹ کی رفو گری شروع کردی۔ یہ کام بڑا نازک تھا مگر اس دوسری گوگلز نے بڑی محنت سے کیا پر نتیجہ پھر بھی صفر رہا۔ وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں گئی۔ وہاں اس نے پانچ کوہ ہمالہ چمچوں سے سر کیے۔ وہاں سے یخ بستہ ہو کے اٹھی اور ایک نہایت واہیات بش شرٹ کے ساتھ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

جا کر اس نے دس جوالا مکھی نگلے اور واپس اپنے چمڑے کے تھیلے میں آگئی۔ دوسرے دن وہ پھر اپنے چہیتے بش شرٹ سے ملی۔ اس کو اس نے بتایا کہ وہ رات ایک نہایت لغو قسم کے بش شرٹ کے ساتھ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

گئی تھی، اس نے قطعاً بُرا نہ مانا، وہ سوچنے لگی کہ یہ کیسا کلف لگا بش شرٹ ہے جس کی جیبوں میں رشک اور حسد کے سکے کھنکھناتے ہی نہیں۔ اس نے پھر اپنی سہیلی گوگلز کو خط لکھا اور سنایا۔

’’تمہارا بھیجا ہوا پلگ میری استری میں لگا ہی نہیں۔ میں نے واپس بھیج دیا تھا۔ امید ہے کہ تمہیں مل گیا ہو گا۔ اب مجھے تم سے یہ پوچھنا ہے کہ میں کیا کروں۔ وہ میرا بش شرٹ۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا شے ہے۔ خدا کے لیے آؤ۔ میں بہت پریشان ہوں، اپنے بش شرٹ کو میرا سلام کہنا، میرا خیال ہے کہ تم اس کو ہر رات پہنتی ہو۔ اس کا کپڑا بڑا ملائم ہے۔ ‘‘

اس کی سہیلی، اس کے بُلاوے پر آگئی، اس کے ساتھ کا اپنا بش شرٹ نہیں تھا۔ دونوں بہت خوش تھیں، ان کے شیشے آپس میں ٹکرائے۔ بڑی کھنکیں پیدا ہوئیں، جیسے کئی کانچ کی چوڑیاں ایک کلائی میں پڑی بج رہی ہیں۔ اس کی سہیلی گوگلز کا فریم سنہرا تھا۔ اسے دیکھ کر دوسری کو تھوڑا سا رشک ہوا، مگر اس نے اس جذبے کو فوراً دُور کردیا اور اس سنہرے فریم کا تعارف اپنے

’’بش شرٹ‘‘

سے کرایا تاکہ وہ اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرئے اور بتائے کہ اس پر استری کس طرح کرنی چاہیے۔ تاکہ اس کی سلوٹیں دُورہو جائیں۔ وہ اپنی سہیلی کے بش شرٹ سے بڑے تپاک سے ملی، اس نے بڑے غور سے اس کا ٹانکہ ٹانکہ دیکھا، مگر اسے کوئی عیب نظر نہ آیا وہ اس کے اپنے بش شرٹ کے مقابلے میں کئی درجے اچھا سلا ہوا تھا۔ ان دونوں کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، آخر ایک دن انہوں نے

’’باردہ شمالی‘‘

جانے کا پروگرام بنایا وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس بش شرٹ کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی سہیلی گوگلز سے کہہ گئی تھی کہ وہ اپنے شیشوں میں سے اس کے بش شرٹ کو دیکھنا چاہتی ہے۔ جب وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں گئے تووہاں اس بش شرٹ کو آگ لگ گئی جس میں اس نے اپنی ساتھی گوگلز کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ دونوں دیر تک اس آگ میں جلتے رہے۔ اور اسے بجھانے کے لیے

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں چلے گئے۔ چونکہ آبلے زیادہ پڑ گئے تھے، اس لیے وہ کئی دن ان کا علاج باہر ہی باہر کرتے رہے۔ دوسری گوگلز حیران تھی کہ یہ دونوں کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ اس کے دونوں شیشے دُھندلے ہوتے جارہے تھے کہ اچانک اس کی سہیلی کا بش شرٹ آگیا۔ اس نے اس کو نہ پہچانا اور کہا۔

’’معاف کیجیے گا میرے شیشے دھندلے ہو گئے ہیں۔ ‘‘

اس نے فوراً اس کے شیشے نکالے، ان کو اپنی سانسوں سے پہلے گرم، پھر نم آلود کیا، اور اپنے دامن سے پونچھ کر صاف کردیا۔ وہ حیرت زدہ ہو گئی۔ اس کی زندگی میں اس کے شیشے کبھی اتنے صاف نہیں ہوئے تھے۔ دونوں

’’باردہ شمالی‘‘

میں کوہ ہمالہ کھانے کے لیے گئے۔ وہ یہ کھا ہی رہے تھے کہ پہلا بش شرٹ دوسری گوگلز کے ساتھ آگیا۔ دونوں خاموش رہے۔ انہوں نے دل ہی دل میں محسوس کرلیا کہ وہ غلط چوٹیوں پرچڑھ رہے تھے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ
  • بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے
  • فلسطین میں امن کو موقع دو
  • رشتوں کی حقیقت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شیدا
پچھلی پوسٹ
بادشاہت کا خاتمہ

متعلقہ پوسٹس

ہالی ووڈ کا فریب – دوسری قسط

جنوری 19, 2025

دودھ کی قیمت

اگست 10, 2018

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول

مئی 21, 2024

مشہور علماء کے تعارف

دسمبر 6, 2025

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل

ستمبر 2, 2025

کراچی کا جلتا ہوا سوال

جنوری 21, 2026

قدرت سے قیمت تک

مارچ 20, 2025

لباسِ ارغوانی

دسمبر 18, 2024

نوجوان اور رہنمائی

مارچ 4, 2026

آمنہ

نومبر 5, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

توبہ شکن

نومبر 3, 2019

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں...

مارچ 30, 2026

کورونا اوراُم مسائل آبادی کا عفریب

جولائی 10, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں