خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےباردہ شمالی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

باردہ شمالی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 524 مناظر
525

باردہ شمالی

دوگوگلز آئیں۔ تین بش شرٹوں نے ان کا استقبال کیا۔ بش شرٹیں دنیا کے نقشے بنی ہوئی تھیں، ان پرپرندے، چرندے، درندے، پھول بُوٹے اور کئی ملکوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔ دونوں گوگلز نے اپنی کتابیں میز پررکھیں۔ اپنے ڈسٹ کور اتارے اور بش شرٹوں کے بٹن بن گئیں۔ ایک گوگل نے اس بش شرٹ سے جو خالص امریکی تھی، کہا

’’آپ کا لباس بڑا واہیات ہے۔ ‘‘

وہ بش شرٹ ہنسا۔

’’تمہارے گوگلز بڑے واہیات ہیں۔ اسے لگا کرتم ایسی دکھائی دیتی ہو جیسے روشن دِن اندھیری رات بن گیا ہے۔ ‘‘

اس اندھیری رات نے اس بش شرٹ سے کہا۔

’’میں تو چاندنی رات ہوں۔ ‘‘

امریکی بش شرٹ نے اس کو ایک کوہ ہمالہ پیش کیا جو بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ اس نے چمچ سے اس کوہ ہمالہ کو سر کرلیا۔ لیکن اس مہم کے دوران میں اس کو بڑی کوفت ہوئی۔ وہ برفوں کی عادی نہیں تھی۔ وہ مجبوراً اپنی سہیلی دوسری گوگلز کے ساتھ آگئی تھی کہ وہاں اس کا چہیتیا بش شرٹ مل گیا۔ دوسری گوگلز اپنے بش شرٹ سے علیحدہ باتیں کررہی تھی۔

’’آج تم اتنی حسین کیوں دکھائی دے رہی ہو‘‘

’’مجھے کیا معلوم‘‘

’’اپنی چقیں اتار دو‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’مجھے تمہاری آنکھیں نظر نہیں آتیں۔ ‘‘

’’میرا دل تو تمہیں نظر آرہا ہو گا۔ ‘‘

’’نظر آتا رہا ہے۔ نظر آتا رہے گا۔ لیکن مجھے تمہاری آنکھوں پر یہ غلاف پسند نہیں۔ ‘‘

’’تیز روشنی مجھے پسند نہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس نہیں۔ تمہاری بش شرٹ بھی مجھے پسند نہیں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ اس کا ڈیزائن بہت بے ہودہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئس کریم میں کیڑے مکوڑے چل رہے ہیں۔ ‘‘

’’تم کھا تو چکی ہو۔ ‘‘

’’میں نے تو صرف چکھی ہے، کھائی کب ہے؟‘‘

’’آپ ’باردہ شمالی‘ میں صرف آئس کریم چکھنے کے لیے ہی آتی ہیں‘‘

’’آپ مجبورکرتے ہیں تو میں آتی ہوں، ورنہ مجھے اس جگہ سے کوئی رغبت نہیں۔ ‘‘

’’میں یہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں مل کر کوئی مہم سر کریں۔ ‘‘

’’کون سی مہم؟‘‘

’’بے شمار مہمیں ہیں۔ لیکن ایک سب سے بڑی ہے۔ ‘‘

’’کون سی؟‘‘

’’کسی آتش فشاں پہاڑ کے اندر کود جائیں اور وہاں کے حالات معلوم کریں۔ ‘‘

’’میں تیار ہوں۔ لیکن پھر میں یہاں آکر آئس کریم ضرور کھاؤں گی۔ ‘‘

’’میں کھلاؤں گا تمہیں‘‘

دونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک ایسی دوزخ میں چلے گئے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اس گوگلز کی ساری کتابیں اس بش شرٹ کی لائبریری میں داخل ہو گئیں۔ دوسری گوگلز نے اپنی بش شرٹ کو اپنے بلاؤز کی ساری کتابیں پڑھائیں مگر اس کی سمجھ میں نہ آئیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بش شرٹ کسی گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی ہے۔ اس نے

’’باردہ شمالی‘‘

میں اس سے کہا۔

’’تم آئس کریم نہ کھایا کرو۔ ہم آئندہ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں جایا کریں گے۔ ‘‘

دوسری گوگلز گلگبا نے لگی۔ اس گلگاہٹ میں اس نے اپنی بش شرٹ کے کاج بنانے شروع کردیے اور ان میں کئی پھول ٹانک دیئے۔ یہ بش شرٹ گھٹیا قسم کے درزی کی سلی ہوئی نہیں تھی، اصل میں اس کا کپڑا کھردرا تھا، جیسے ٹاٹ ہو، اس میں دوسری گوگلز نے اپنی مخمل کے کئی پیوند لگائے، مگر خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ وہ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں بھی کئی مرتبہ گئے، وہاں انہوں نے کئی گلاس پگھلی ہوئی آگ کے پئے۔ مگر کوئی تسکین نہ ہوئی۔ دوسری گوگلز حیران تھی کہ اس کا بش شرٹ جس کے لیے اس نے اپنے بلاؤز کے تمام بخیے ادھیڑ دیے، اس سے ملتفت کیوں نہیں ہوتا۔ وہ اس کی ہر سلوٹ سے پیار کرتی تھی۔ لیکن وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں اور

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں اس کے خوبصورت فریم سے کوئی دلچسپی لیتا ہی نہیں تھا۔ عجیب بات ہے کہ وہ باردہ شمالی میں گرم ہو جاتا اور آتشیں ہاؤس میں اولاسا بن جاتا۔ دوسری بش شرٹ بہت حیران تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے! اس نے پہلی گوگلز کو جو اس کی سہیلی تھی، ایک خط لکھا اور اس کو اپنا سارا دُکھ بتایا۔ اس نے جواب میں یہ لکھا۔

’’تم کچھ فکر نہ کرو۔ یہ بش شرٹ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کبھی سکڑ جاتے ہیں۔ کبھی پھیل جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری لانڈری میں بھی کوئی نقص ہے۔ اِسے دُورکرنے کی کوشش کرو۔ تمہاری استری بھی ایسا معلوم ہوتا ہے، خراب ہو گئی ہے، اسے ٹھیک کراؤ۔ کہیں کرنٹ تو نہیں مارتی؟ دوسری گوگلز نے اسے لکھا۔

’’کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری استری کرنٹ مارتی ہے۔ میرا بش شرٹ گیلا ہو چکا ہوتا ہے کہ میری استری گرم ہوتی ہے، میں جب اس پر پھیرتی ہوں تو مجھے بجلی کے دھچکے لگتے ہیں۔ ‘‘

جواب میں اس کی سہیلی نے لکھا۔

’’میں تمہاری استری کی خرابی سمجھ گئی ہوں۔ نیا پلگ بھیج رہی ہوں، اس کو لگا کر دیکھو، شاید یہ خرابی دور ہو جائے۔ ‘‘

وہ پلگ آیا۔ بڑا خوبصورت تھا۔ مگر جب اس نے اپنی استری میں لگانا چاہا تو فٹ نہ ہوا۔ کنڈم کرکے اُس نے واپس کردیا، اور اپنے بش شرٹ کی رفو گری شروع کردی۔ یہ کام بڑا نازک تھا مگر اس دوسری گوگلز نے بڑی محنت سے کیا پر نتیجہ پھر بھی صفر رہا۔ وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں گئی۔ وہاں اس نے پانچ کوہ ہمالہ چمچوں سے سر کیے۔ وہاں سے یخ بستہ ہو کے اٹھی اور ایک نہایت واہیات بش شرٹ کے ساتھ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

جا کر اس نے دس جوالا مکھی نگلے اور واپس اپنے چمڑے کے تھیلے میں آگئی۔ دوسرے دن وہ پھر اپنے چہیتے بش شرٹ سے ملی۔ اس کو اس نے بتایا کہ وہ رات ایک نہایت لغو قسم کے بش شرٹ کے ساتھ

’’آتشیں ہاؤس‘‘

گئی تھی، اس نے قطعاً بُرا نہ مانا، وہ سوچنے لگی کہ یہ کیسا کلف لگا بش شرٹ ہے جس کی جیبوں میں رشک اور حسد کے سکے کھنکھناتے ہی نہیں۔ اس نے پھر اپنی سہیلی گوگلز کو خط لکھا اور سنایا۔

’’تمہارا بھیجا ہوا پلگ میری استری میں لگا ہی نہیں۔ میں نے واپس بھیج دیا تھا۔ امید ہے کہ تمہیں مل گیا ہو گا۔ اب مجھے تم سے یہ پوچھنا ہے کہ میں کیا کروں۔ وہ میرا بش شرٹ۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا شے ہے۔ خدا کے لیے آؤ۔ میں بہت پریشان ہوں، اپنے بش شرٹ کو میرا سلام کہنا، میرا خیال ہے کہ تم اس کو ہر رات پہنتی ہو۔ اس کا کپڑا بڑا ملائم ہے۔ ‘‘

اس کی سہیلی، اس کے بُلاوے پر آگئی، اس کے ساتھ کا اپنا بش شرٹ نہیں تھا۔ دونوں بہت خوش تھیں، ان کے شیشے آپس میں ٹکرائے۔ بڑی کھنکیں پیدا ہوئیں، جیسے کئی کانچ کی چوڑیاں ایک کلائی میں پڑی بج رہی ہیں۔ اس کی سہیلی گوگلز کا فریم سنہرا تھا۔ اسے دیکھ کر دوسری کو تھوڑا سا رشک ہوا، مگر اس نے اس جذبے کو فوراً دُور کردیا اور اس سنہرے فریم کا تعارف اپنے

’’بش شرٹ‘‘

سے کرایا تاکہ وہ اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرئے اور بتائے کہ اس پر استری کس طرح کرنی چاہیے۔ تاکہ اس کی سلوٹیں دُورہو جائیں۔ وہ اپنی سہیلی کے بش شرٹ سے بڑے تپاک سے ملی، اس نے بڑے غور سے اس کا ٹانکہ ٹانکہ دیکھا، مگر اسے کوئی عیب نظر نہ آیا وہ اس کے اپنے بش شرٹ کے مقابلے میں کئی درجے اچھا سلا ہوا تھا۔ ان دونوں کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، آخر ایک دن انہوں نے

’’باردہ شمالی‘‘

جانے کا پروگرام بنایا وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ اس بش شرٹ کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنی سہیلی گوگلز سے کہہ گئی تھی کہ وہ اپنے شیشوں میں سے اس کے بش شرٹ کو دیکھنا چاہتی ہے۔ جب وہ

’’باردہ شمالی‘‘

میں گئے تووہاں اس بش شرٹ کو آگ لگ گئی جس میں اس نے اپنی ساتھی گوگلز کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ دونوں دیر تک اس آگ میں جلتے رہے۔ اور اسے بجھانے کے لیے

’’آتشیں ہاؤس‘‘

میں چلے گئے۔ چونکہ آبلے زیادہ پڑ گئے تھے، اس لیے وہ کئی دن ان کا علاج باہر ہی باہر کرتے رہے۔ دوسری گوگلز حیران تھی کہ یہ دونوں کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ اس کے دونوں شیشے دُھندلے ہوتے جارہے تھے کہ اچانک اس کی سہیلی کا بش شرٹ آگیا۔ اس نے اس کو نہ پہچانا اور کہا۔

’’معاف کیجیے گا میرے شیشے دھندلے ہو گئے ہیں۔ ‘‘

اس نے فوراً اس کے شیشے نکالے، ان کو اپنی سانسوں سے پہلے گرم، پھر نم آلود کیا، اور اپنے دامن سے پونچھ کر صاف کردیا۔ وہ حیرت زدہ ہو گئی۔ اس کی زندگی میں اس کے شیشے کبھی اتنے صاف نہیں ہوئے تھے۔ دونوں

’’باردہ شمالی‘‘

میں کوہ ہمالہ کھانے کے لیے گئے۔ وہ یہ کھا ہی رہے تھے کہ پہلا بش شرٹ دوسری گوگلز کے ساتھ آگیا۔ دونوں خاموش رہے۔ انہوں نے دل ہی دل میں محسوس کرلیا کہ وہ غلط چوٹیوں پرچڑھ رہے تھے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زندگی کی فلاسفی
  • کینوس پر چہرے اور میں
  • دنیا میں کچھ لوگ
  • والد صاحب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شیدا
پچھلی پوسٹ
بادشاہت کا خاتمہ

متعلقہ پوسٹس

مالٹے کی خوشبو اور پانی کا قطرہ

دسمبر 10, 2024

آلو بخارا، فرحت بخش اور قبض کشا

نومبر 14, 2021

ڈھکا چہرہ

جنوری 24, 2020

عالمگیریت کے اثرات اور چیلنجز

اکتوبر 24, 2025

سال 2025

دسمبر 29, 2025

صنوبر کے نایاب جنگلات

مئی 19, 2024

چچا چھکن نے تصویر ٹانگی

اگست 9, 2022

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

اپریل 21, 2020

سیب کا درخت

مئی 20, 2020

تمنا وصل حسرت بن کہ رہ گئی

دسمبر 17, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گل عباس

دسمبر 7, 2019

محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں...

اپریل 29, 2026

ذمہ دار کون؟

مئی 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں