خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلام12 سالہ تنازع
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

12 سالہ تنازع

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025 0 تبصرے 46 مناظر
47

shahid naseem chaudhry

کاش دکاندار نسیم صادق کی بات مان لیتے…!
فیصل آباد سرکلر روڈ اورریلوے روڈ کا 12 سالہ تنازع — ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
فیصل آباد میں ریلوے روڈ، چارٹر بینک چرچ سے لے کر سرکلر روڈ اور چنیوٹ بازار کے کونے تک پھیلا ہوا وہ علاقہ ہے جہاں برسوں سے سرکاری نالے کی زمین پر تعمیر شدہ دکانیں، شاپس اور کثیر منزلہ پلازے کھڑے ہیں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں؛ بلکہ اس کی جڑیں 2012 تک جاتی ہیں، جب ایک سرگرم، جرات مند اور اصلاحاتی ذہن رکھنے والے ڈپٹی کمشنر نسیم صادق نے پہلی بار اس بڑے قبضہ مافیا کے خلاف عملی قدم اٹھایا۔ وقت کی طاقتوں، سیاسی دباؤ اور دکانداروں کی مزاحمت نے اُس اقدام کو روک تو دیا، لیکن آج حالات نے ثابت کردیا کہ ریاستی ادارے جب کسی معاملے کو اصل روح میں لیں، تو تاخیر ضرور ہوتی ہے، مگر عمل درآمد رکتا نہیں۔ آج جب فیصل آباد کی انتظامیہfaisalabad دوبارہ اس نالے کی اصل گزرگاہ بحال کرنے کی تیاری کررہی ہے، تو نسیم صادق کے وہ تاریخی جملے کانوں میں گونجتے ہیں: “میں شاید آج یہ دکانیں نہ گرا سکوں… لیکن یاد رکھیں، ایک وقت آئے گا کہ یہ لازماً گرائی جائیں گی۔ اور آپ لوگ میری متبادل جگہ کی پیشکش یاد کریں گے۔” یہ جملے اس وقت شاید سخت لگے ہوں، لیکن بارہ سال بعد ان کی پیشگوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ نسیم صادق نے جو سچ کہا تھا، وہ آج حقیقت بن رہا ہے 2012 میں ہونے والا وہ سروے، وہ نوٹسز، اور وہ متبادل جگہ کی پیشکش — یہ سب کسی ذاتی انا یا طاقت کا کھیل نہیں تھا۔ یہ ایک منظم کوشش تھی کہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ رہے، نالہ اپنی اصل حالت میں سانس لے سکے، اور شہریوں کو سیلاب، گندے پانی اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل سے بچایا جاسکے۔ تاہم دکانداروں نے اس وقت اس آپریشن کو اپنی معاشی تباہی سمجھا، سیاسی عناصر نے اسے اپنی سیاسی گرفت مضبوط رکھنے کا ذریعہ بنایا، اور عدالتوں نے اسٹے دے کر کارروائی روک دی۔

یہی وہ لمحات تھے جن میں شہر کے اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد کو ترجیح دی گئی، اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج دوبارہ وہی مسئلہ کئی گنا بڑھ کر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز — بلا خوف، بلا تفریق آپریشن کر رہی ہیں۔ آج پنجاب میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بغیر کسی سیاسی مصلحت، سفارش یا دباؤ کے پورے صوبے میں صفائی ستھرائی، انکروچمنٹ کے خاتمے اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کو اپنی پہلی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ان کا پیغام صاف ہے: “قانون سب کے لیے برابر ہے۔ قبضہ مافیا، ناجائز تعمیرات، یا سیاسی سفارش — کسی چیز میں اب برداشت نہیں۔” یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد میں بارہ سال سے رکے ہوئے اس بڑے مسئلے کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ: کارروائی منظم ہے ریکارڈ مکمل طور پر اپڈیٹ کیا جاچکا ہے رجسٹری کے بغیر تعمیرات کی نئی فہرست تیار ہے، جس کے تحت وہ دوکانیں گرائی جا رہی ہیں۔ کسی بھی سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جارہا یہ ایک نئی سوچ اور نئی طرز حکمرانی کی دلیل ہے۔ نالہ عوامی ملکیت ہے — اور عوامی ملکیت پر سمجھوتہ نہیں ہوتا دنیا کا کوئی بھی ترقی یافتہ ملک بنیادی ڈھانچے پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ نالے، سڑکیں، پارکس، پل، اور سیوریج سسٹم شہر کا دل ہوتے ہیں۔ ان پر تجاوزات دراصل شہر کے مستقبل پر تجاوزات ہوتی ہیں۔ ریلوے روڈ کے اس نالے پر دکانوں کی تعمیر نے: گٹروں اور نکاسی آب کو بند کیا بارشوں میں شہر کو ڈبو دیا بدبو اور گندگی کا مرکزی راستہ بنادیا پیدل چلنے والوں کی سہولت ختم کردی ٹریفک کے اژدہام کو بڑھایا یہ سب اس لیے ہوا کہ ایک وقت میں چند لوگوں کے مفاد کو پورے شہر کے مفاد پر ترجیح دی گئی۔ آج کا حقیقت پسندانہ سوال — اگر دکاندار نسیم صادق کی بات مان لیتے؟ یہ سوال آج پورے فیصل آباد میں گردش کر رہا ہے۔ کاش وہ نوٹسز سنجیدگی سے لے لیے جاتے… کاش وہ متبادل جگہ قبول کرلی جاتی… کاش سیاسی مداخلت کو ہیرو نہ سمجھا جاتا… اگر اس وقت قانونی راستہ اختیار کرلیا جاتا تو: آج دکاندار اپنی قانونی دکانوں کے مالک ہوتے اتنی بڑی سرمایہ کاری خطرے میں نہ پڑتی عدالتی کیسز اور چپقلشیں نہ ہوتیں نالہ برسوں پہلے بحال ہوجاتا پورا شہر سیوریج کے عذاب سے محفوظ رہتا لیکن افسوس کہ بہت سے فیصلے جذبات سے ہوتے ہیں، عقل سے نہیں۔وقت ہمیشہ سبق دیتا ہے، اور آج ایک بار پھر وقت نے ثابت کیا کہ قانون کو روکنا وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر مستقل نقصان ضرور دیتا ہے۔

متاثرہ افراد کی ذمہ داری — صرف حکومت نہیں، شراکت داری ضروری تھی یہ درست ہے کہ کاروبار کسی کی زندگی کا سہارا ہوتا ہے۔ متاثرہ دکانداروں کی پریشانی حقیقی ہے۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ: انہوں نے غیرقانونی تعمیرات میں سرمایہ لگایا رجسٹری یا اصل مالکانہ حقوق کے بغیر کاروبار بڑھایا اصل مالک یعنی حکومت کے نوٹسز کو نظر انداز کیا سیاسی پناہ کو قانونی دستاویز سمجھ لیا وقت پر اپنا معاملہ حل نہیں کیا یہی غلطیاں آج ان کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت میں واپس کھڑی ہوچکی ہیں۔ اگر وہ وقت پر نسیم صادق کے ساتھ بیٹھ کر قانونی متبادل جگہ قبول کرلیتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ یہ آج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ کارروائی محض عمارتیں گرانے کا نام نہیں — یہ مستقبل درست کرنے کا عمل ہے حکومت کی حالیہ سرگرمیاں محض تجاوزات کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں۔ یہ ایک بڑے شہری منصوبے کا حصہ ہے: سیوریج کے نظام کی بہتری بارشوں کے پانی کی نکاسی ٹریفک فلو کی بحالی شہری ماحول کی بہتری تجاوزات سے پاک نظام کی بنیاد یہ فیصل آباد ہی نہیں، پورے پنجاب کی ترقی کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔ پنجاب بدل رہا ہے — اور بدلتے پنجاب میں قانون سب کے لیے یکساں ہونا ہوگا پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ: سفارش ختم دوغلا نظام ختم ،قبضہ مافیا کی سرپرستی ختم بلا تفریق کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ایسے ماحول میں فیصل آباد ریلوے روڈ کا آپریشن محض ایک علاقائی کارروائی نہیں بلکہ پورے صوبے میں شفافیت اور قانون کی بالادستی کی علامت ہے۔وقت نے ثابت کردیا کہ قانون سب سے بڑا ہوتا ہے وہ دکاندار جو نسیم صادق کے وقت میں طاقتور سیاسی ہاتھوں پر اعتماد کرتے تھے، آج گھبراہٹ میں ہیں۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ حکومت کبھی ہاتھ نہیں ڈالے گی، آج پریشان ہیں۔ لیکن قانون نے اپنا راستہ بنالیا۔ آج اگر کوئی سب سے مضبوط موقف رکھتا ہے تو وہ حکومت ہی ہے، کیونکہ: نالہ عوامی ملکیت ہے،تجاوزات غیرقانونی ہیں شہری مفاد سب سے مقدم ہے مریم نواز کی حکومت بلا تفریق کارروائی پر قائم ہے نسیم صادق نے جو بات بارہ سال پہلے کہی تھی، آج وہ صرف سچ ہی نہیں بلکہ حقیقت کا قانون بن چکی ہے۔آخری بات یہ ہے کہ وقت بدل رہا ہے۔پنجاب بدل رہا ہے۔اور فیصل آباد کا وہ نالہ جو برسوں ملبے کے نیچے دب گیا تھا،اب نئی زندگی پانے والا ہے۔ یہ کالم سچائی کے تناظر میں اسی حقیقت کا عکاس ہے کہ:اجتماعی مفاد پر قانونی عملدرآمد رکوا کر اپنی جیت سمجھنے والے لوگ کبھی جیت نہیں پاتے۔

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منافقت سے بھری محبت
  • اچھے دن آنے والے ہیں
  • ”جہیز“
  • گلگت خان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے
پچھلی پوسٹ
لاھوربورڈ میٹرک رزلٹ 2025

متعلقہ پوسٹس

پانی کے آئینے میں قید دیوی

جنوری 16, 2025

دو گولی ویاگرا

فروری 15, 2023

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

کھجور ٹانک، دوا اور غذا

اکتوبر 19, 2021

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

جنوری 13, 2020

پاکستان میں بے روزگاری

نومبر 27, 2025

صدیوں سے عورت کی زبوں حالی!!

ستمبر 7, 2021

سبق آموز واقعات ( دوسرا اور آخری حصہ)

جولائی 30, 2025

زندگی اک کھلی کتاب ھے

دسمبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اظہر عباس – شعری دشت کا...

اکتوبر 16, 2025

اچھوں کی تلاش

جون 28, 2021

آنے والے دور کی پیشن گوئیاں

فروری 17, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں