خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادو گولی ویاگرا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

دو گولی ویاگرا

از سائیٹ ایڈمن فروری 15, 2023
از سائیٹ ایڈمن فروری 15, 2023 0 تبصرے 56 مناظر
57

اس کی زندگی میں وصل کی رت کم ہی آتی تھی؛ کبھی کبھار ملاپ کا چاند نکلتا تو وہ مد و جذر سے لطف اندوز ہو لیتی۔ نواب اختر کا دیا کرنے کو دل چاہتا تو ایک دو راتیں دان کر دیتے ورنہ تنہائیوں میں اس کا بدن چونے کی بھٹی کی طرح دہکتا رہتا۔ نواب اختر سر شام باہر جانے لگتے تو مہرالنساء کئی بار روکنے کی کوشش کرتی۔ وہ اپنی برائی کو اس کے سر منڈھ دیتے۔

”اس گھر کی عورتیں اسرار عشق سے واقف نہیں، یہ جوانی کے حال زار سے آگاہ ہی نہیں، ان کے پاس مردانگی کے درد نہاں کا کوئی علاج نہیں۔“

اسے شادی کے پہلے دن ہی دو عجیب ہدایات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دونوں ہی اس کی سمجھ سے بالا تھیں۔
پہلی بات نواب زادہ اختر علی شاہ نے کی تھی۔

”تم پڑھی لکھی ہو۔ پہلے تو میرے پلے ان پڑھ باندھی گئی تھی۔ وہ نواب زادی تھی لیکن حویلیوں کے ادب آداب سے بالکل ناواقف۔ تقسیم کے بعد جاگیریں تو گئی ہی تھیں خاندان اپنی پہچان بھی بھول گئے۔ تم نواب واجد علی شاہ کی کتاب ’پری خانہ‘ پڑھ لو، تمہیں نواب خاندان کے مردوں کی ضروریات اور خواہشات کا پتا چل جائے گا۔“

دوسرا مشورہ گھر کی پرانی ملازمہ چھنو کا تھا
”کسی طریقے سے نواب زادہ کو ملازم خاص گونی ’حرام کے جنے‘ سے دور کر دو۔“

شروع شروع میں دونوں میں محبت کا وہ ارتباط رہا جس کا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اسے نواب زادہ میں کوئی برائی نظر نہیں آئی۔ بس عمر زیادہ تھی لیکن وہ اس کی زلف گرہ گیر کا ایسا اسیر ہوا کہ کاروبار اور زمینیں بھی بھول گیا۔ سیاست بھی ان دنوں ٹھنڈی ہی تھی۔ حلقہ میں کبھی کبھی چکر لگانے چلا جاتا تو سورج ڈھلنے سے پہلے ہی واپس آ جاتا۔ پینا پلانا تو نوابوں کا شوق ہوتا ہے، یہ قابل قبول تھا۔ تھوڑی بہت پی لیتا تو مزید مست ہوجاتا۔

دو چار ماہ گزرے تو بوڑھی عورتوں کی باتیں سمجھ آنا شروع ہوئیں۔ چھنو اس کی ہم راز بن چکی تھی۔
”بٹیا، مرد ساون بھادوں کے بادلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں خوب برستے ہیں۔“
وہ حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

چھنو چالیس کے پیٹے میں تھی۔ گندمی رنگ، سڈول جسم، آنکھوں میں ہمیشہ شرارت آمیز شوخی چھائی رہتی تھی۔ بڑی طرح دار اور خوش مزاج عورت تھی۔

”کیا کہنا چاہتی ہو؟“

”سمجھا رہی ہوں۔ سوکھے کا موسم آتا ہے تو آسمان آگ برسانے لگتا ہے۔ مرد پت جھڑ کے سوکھے پیڑ بن جاتے ہیں۔ کبھی گھٹائیں امڈتی ہیں تو عورت کی انکھیوں میں بدرا جگہ بنا لیتا ہے۔ پھر عورت کو ہی حیلے بہانے تراشنے پڑتے ہیں۔“

چھنو نے ساری جوانی اسی حویلی میں بتائی تھی۔ ازدواجی گٹھ بندھن میں نہیں بندھی تھی لیکن صاحب اسرار تھی اور بھوگ بلاس کے سارے رموز سے واقف بھی۔ چھنو جب شب زفاف کی صبح کو سٹھورے کے ساتھ پان کے مرکب عرق کا شیشہ اس کے پینے کے واسطے لائی تھی تو اس وقت اس کو کہنی مار کر کہا تھا

” بٹیا، سارا پی لو! تم کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ کچھ دنوں کے بعد یہ حلق سے نیچے نہیں اترا کرے گا۔“

چھنو اسے وہ بات یاد دلا کر کہنے لگی ”نواب صاحب کی پہلی بیوی بھی بنا سیاں کے سیج سجائے بیٹھی رہتی تھی۔ وہ پیاسی مر گئی۔ جوانی کی پیاس تو تنبول کے پیالے چڑھانے سے بھی نہیں بجھتی، کبھی کبھار ملنے والے دو گھونٹ اسے کیا کم کریں گے؟ وہ تو اسے مزید بھڑکاتے ہیں۔“

چھنو کی ساری باتیں سچ تھیں۔
مہرالنساء کا ذہن بھٹک رہا تھا۔ اسے چھنو ہی کوئی راستہ دکھا سکتی تھی۔
”بتاؤ، پھر میں کیا کروں؟“
” یہ گونی، حرام کا جنا، تمہارے خصم کی راکھیل بنا ہوا ہے اس سے جان چھڑاؤ۔“
”وہ ان کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔ نواب صاحب کھانا بھی اکثر اسی کے ہاتھ کا پکا کھاتے ہیں۔“
”بٹیا! وہی ساری برائی کی جڑ ہے۔ میں نے تمہیں پہلے دن ہی سمجھایا تھا کہ اس کو لگام ڈالو۔“
وہ دریائے تفکر میں ڈوب کر اپنا ہاتھ دانتوں سے کاٹنے لگی۔
”کیسے؟“
”میں کیا بتا سکتی ہوں؟“
”تم کل اسے میرے پاس بلا کر لانا۔“

”وہ حرامی مرغی خانے میں پڑا رہتا ہے۔ اس کے پاس کون جائے؟ کھڑے کھڑے آنکھوں کے بالشتوں سے اونچ نیچ ماپنا شروع کر دیتا ہے۔ اصیل مرغوں کے درمیان اصیل گھوڑا بنا پھرتا ہے۔ حرکتوں سے لگتا ہے وہ انہیں نوابوں میں سے کسی کا نطفہ ہے۔“

اگلے دن وہ اس کے سامنے نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔
”جی، بی بی جی!“

وہ اس سے باتیں کرتی رہی۔ نواب زادہ کی پسند ناپسند کے بارے میں پوچھتی رہی۔ وہ واقعی بہت حرامی تھا۔ پکڑائی ہی نہیں دیتا ہے۔ اس کی کسی بات کا سر تھا، نہ پاؤں۔ کھوچل، جھلا ہونے کی اداکاری کرتا رہا۔

مہرالنساء نے واجد علی خاں کی پری خانہ بھی منگوا لی۔ عجیب و غریب کہانیاں تھیں۔ پوری کتاب میں نواب ناچ گانے، پریوں اور بیگمات کے ناز و اغماض میں کھویا نظر آتا ہے۔ جو جو حاملہ ہوتی جاتی اسے پردے میں بٹھا دیتا، اس کی اپنی رنگ رلیاں جاری رہتیں۔

اب بات کچھ حد تک سمجھ آ گئی تھی۔
اگلے دن چھنو اس کی ٹانگیں دباتی ہوئی پھر راز و نیاز کر رہی تھی۔
”ہائے ہائے یہ سڈول پنڈلیاں، یہ رانیں۔“
”خبردار! اوپر ہی بھاگتی جاتی ہو۔ صرف پنڈلیاں دباؤ۔“
”بٹیا! تمہاری رگوں میں اینٹھن ہے کہو تو مالش کردوں۔“
ساتھ ہی بھاگ کر گرم تیل پکڑ لائی اور شروع ہو گئی۔
”تم مالش کی بہت ماہر لگتی ہو۔“
”ایک یہی ہنر تو حویلی میں کام آتا ہے۔“
”کس کس پر آزما چکی ہو؟“
چھنو نے سنی ان سنی کر کے اپنی بات جاری رکھی۔
”جسے یہ کام آتا ہے وہ بھوکا نہیں مرتا۔“ آنکھیں مٹکاتی ہوئی بولی۔

مہرالنسا کے ذہن میں پری خانہ کی کہانیاں گھوم رہی تھیں۔ وہ سوچتے جا رہی تھی اور چھنو زور زور سے رگڑا جاری رکھے ہوئے تھی۔

”تو کسی دن اپنا یہ فن اس حرام زادے پر بھی آزما کر دکھاؤ۔“

چھنو کے ہاتھ یک دم رک گئے۔ تھوڑی دیر اس کی طرف دیکھتی رہی۔ مہرو نے زور سے ایک دھپا اس کی کمر پر لگایا تو چھنو پھر شروع ہو گئی۔

”وہ حرامی تو صرف ایک اشارے پر میرے پاؤں چاٹنے لگے گا۔ آپ کے لیے یہ بھی کر گزروں گی۔“
کچھ دیر خاموش رہی۔

”کل ہی وہ آپ کے قدموں میں پڑا کتے کی طرح دم ہلا رہا ہو گا۔ اس کے پیٹ سے سارے راز یوں نکلیں گے جیسے اس کی چاتر ماں نے حرامی کو کسی دائی کی اعانت کے بغیر، بنا دردیں لیے، شتابی جنا تھا۔“

چھنو نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔ بڑے آرام سے بات الٹا دی۔
اسی وقت پاس سے ایک ملازمہ گزری۔
مھرو نے اس کی طرف دیکھا تو چھنو بولی۔

”بٹیا اس بت طناز کو دیکھو۔ اس کی دادی جونا گڑھ کے محلات میں خدمت گزاری کرتی رہی ہے۔ دیکھیں! عجب ناز و انداز سے چلتی ہے۔ کنیزیں ختم ہو گئی ہیں لیکن عادات تو نسل در نسل ساتھ نبھاتی ہیں۔“

”سکھ بدن، ادھر آؤ۔“ مہرالنساء نے اسے بلایا
”میرا سر دبانا۔“
”میں تیل لگا دوں۔“ چھنو کہنے لگی۔

”نہیں۔ تم تھک گئی ہوگی۔ جاؤ! آرام کرو، کب سے مالش کر رہی ہو۔ ہاں! تم اس کے ساتھ ایک دو اور لڑکیوں کو بھی یہ کام سکھا دو۔“

***

اگلے دن ہی گونی حرام کا جنا اپنی بک بک سنا رہا تھا۔ وہ سنتی اور سوچتی جا رہی تھی۔ اس کا دماغ نواب واجد علی شاہ کی ’پری خانہ‘ میں الجھا ہوا تھا۔ کنیزوں اور داسیوں کی کہانیاں۔ بیگمات کا جلاپے کے مارے جل کر کباب ہو جانا اور آتش رشک کا بھڑکنا۔ بادشاہوں کی موجیں، بیگمات کا مشکلات کا حل ڈھونڈنا۔

نوابی تو چلی گئی تھی عادات چھوڑ گئی تھی۔
اگلی صبح وہ نواب زادہ اختر کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ کھڑی تھی۔

”مجھے ڈھول باجوں کے ساتھ بیاہ کر لایا گیا ہے۔ میں خاندانی عورت ہوں۔ آپ کی بتائی کتاب پڑھ چکی ہوں۔ نواب خاندان کے آخری چشم و چراغ کی امیدوں پر پوری اتروں گی۔“

”مجھے تم سے یہی امید تھی۔“
”آپ میرے ہیں، میرے ہی رہیں گے۔ ہاتھی پھرے گاؤں گاؤں، جس کا ہاتھ اس کا ناؤں۔“
”واہ! خوش کر دیا۔“
”میری جاں آپ پر تصدق۔ اس لونڈی کو خدمت کا موقع دیں۔“

وہ خوش ہو رہا تھا کہ اس کی بیگم جان گئی ہے اس کو خوش رکھے بغیر کسی کا بھی خوش و خرم زندگی گزارنا محال ہے۔

”آپ حکم فرمائیں۔ نواب واجد علی خاں کی محلات کی طرح میں بھی وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کا جس پر بھی دل آئے اس سے عشق کیجئے، میں ہرگز مزاحم نہ ہوں گی بلکہ آپ کی رازدار رہوں گی۔“

”کیا خدمت کر سکتی ہو؟“

”آپ حکم فرمائیں آپ کی پسند کے مطابق بہت کچھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب دور بھی بدل گیا ہے بازاروں کی خجل خواری سے بہتر ہے کہ آپ کا ستارہ اقبال اسی حویلی میں جلوہ افروز ہو۔“

***

راہداریوں کی تزئین و آرائش کے لیے خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ فرشوں پر گدگدے سرخ قالین بچھائے گئے تھے۔ چھت پر لٹکتے فانوس معشوق اصلی کی تصویر کی مانند روشن تھے۔ حویلی کے اس حصے کو خصوصی طور مکلف و آراستہ کیا گیا تھا۔ کمرے کو بھی کسی نو عروس کی طرح سجایا گیا تھا۔

کمرے سے متصل طعام خانے کے بیچوں بیچ نفیس شیشے کی میز بچھائی گئی تھی۔ جس پر شیشے، پتھر اور سونے چاندی کے برتنوں میں طرح طرح کے کھانے پروسے گئے تھے۔ میز کے مرکز میں پڑی سونے کی رکابی میں موجود مرغ مسلم کی اشتہا انگیز خوشبو روح کو اسیر کر رہی تھی۔ اس کے پاس موجود آبگینہ مے سے صہبائے ارغوان چھلک رہی تھی۔ میز کے چاروں کونوں میں ریشمی ظروف اور گلدانوں میں جوان ہونٹوں کی پنکھڑیوں کے ہم رنگ گلاب، نازک و ملائم گیندے، مثل آفتاب و مہتاب چمکتے زرد و سفید رنگ کے گل داودی اور جنسی اشتہا کو بھڑکانے والے اسطخودوس کی اودی اودی ٹہنیوں کے درمیان چمبیلی کے پھول سجا کر عاشق کی گود میں محبوب کو بٹھا دیا گیا تھا۔ پورا طعام خانہ رشک ارم تھا۔

میز کے ایک کونے میں دو جواہر نگار اور مرصع کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔ اس مہتاب اغذیہ کے اطراف گل رخ پریاں اور کنیزیں ہالہ بنائے کھڑی تھیں۔

نواب زادہ اندر داخل ہوا تو ایک سیمی تن، سرو چمن ملازمہ عرق گلاب سے بھرا پیالہ جس میں پھولوں کی پتیاں اور لیموں کی کاشیں تیر رہی تھیں، اٹھا لائی۔

نواب زادے نے ہاتھ دھوئے تو ایک اور حور بدن، گل پیرہن کنیز نے اپنا معطر دوپٹہ پیش کیا۔ اس نے ہاتھ صاف کیے تو کنیز نے وہ دوپٹہ چوم کر اپنی صراحی دار گردن اور تجمل حسن کی غمازی کرتے سینے کے ابھار پر سجا لیا۔ مہرالنساء نے خود بھی اودے اطلس کا پاجامہ اور سرخ رنگ کا دیدہ زیب ریشمی انگرکھا پہن رکھا تھا۔ زریں دوپٹہ پیچ دار زلفوں کے پیچھے چھپتا ہوا کندھے پر پڑا ہوا تھا۔ رنگ کندن کی مثل چمک رہا تھا۔ وہ عشوہ و ناز اور شوخی و طرازی میں ایک دنیا کو اپنے دام تزویر میں صید کیے ہوئے تھی۔

”میرے آقا! صہبائے کہن کے جام حاضر ہیں۔“ ہلاکت آفرین زہر پلانے کو تیار آنکھیں مٹکاتی ہوئی بولی۔

”مرغ مسلم بھی خصوصی طور پر آپ کے لیے تیار کیا گیا ہے اسے تناول فرمائیے۔“ نشتر زنی کرتی لمبی پلکیں جھپکاتی ہوئی گویا ہوئی۔

***

کھانے سے فارغ ہو کر نواب زادہ بستر پر گر گیا۔ ایک شوخ، عشوہ پرداز و دلنواز خادمہ گرم پانی کا تسلہ لے آئی۔ انگوچھے کو اس میں ڈبو کر نچوڑا۔ پاپوش اتار کر برہنہ پاؤں کو صاف کیا۔ نیا تولیہ لیا، پنڈلیوں کی بھی ٹکور کی اور دابنے بیٹھ گئی۔ ایک اور ملازمہ جس کے ہاتھ برق تپاں کی مثال تھے جھک کر اس کے سر اور کندھے کو سہلانے لگی۔ اس کے گیسوے دراز جن کی سیاہی رشک دہ شب دیجور تھی، نواب اختر کے منہ اور سینے سے ٹکرا رہے تھے۔

وہ جھک کر اس کا بوسہ لینے سے بھی نہیں کتراتی تھی۔ یہ ٹہل سیوا جاری تھی اور مہرالنساء ہلکا سا میوزک آن کر کے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ نواب پر آتشیں سیال اور اصیل مرغ کی گرمی کا جادو اثر کر رہا تھا۔ جس نے آگ بھڑکائی تھی وہ پرسکون، لطف اندوز ہو رہی تھی۔ جب دیکھا کہ اس ہنگامہ نشاط میں نواب تیر عشق سے گھائل ہو کر تڑپنے لگا ہے تو کہنے لگی

”میں زندگی بھر اسی طرح آپ کی تابع فرمان رہوں گی۔ حکم فرمائیں آج کس کو شرف صحبت بخشیں گے؟“
نواب میں ضبط کا یارا نہیں تھا۔
”تم اور صرف تم۔ کیونکہ تمہارے بنا خواب و خور حرام ہے۔“
***

آواز مرغ اور اللہ اکبر کا غلغلہ بیدار بلند ہوا۔ نواب کے خراٹے صدائے نوبت کی طرح شور مچا رہے تھے۔ وہ اس کے پہلو سے جدا ہوئی تو بھی پورے ماحول میں کوئی ہل جل نہ ہوئی۔ اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے انگڑائی لی۔ زیر لب مسکرائی

”جنسی بھوک کے دریا میں نواب غوطے کھائے گا۔ اس کے پیدا کیے ہوئے منجدھار میں میں نہیں، وہ ڈوبے گا۔ اس کے ہتھیار اس پر ہی آزمائے جائیں گے۔ گونی حرام کا جنا اب ایک نہیں دو گولیاں ویاگرا کھلا کر اصیل مرغ ذبح کیا کرے گا۔ میں دیکھوں گی اسے کھا کر نواب میرے کمرے کی چوکھٹ کیسے پار کرے گا؟“

دن چڑھے وہ دالان میں کھڑی آواز دے رہی تھی۔
”چھنو کو بلاؤ۔ آج نواب زادے کا مساج کس لڑکی نے کرنا ہے؟“

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کسی کی بات کے زیرِ اثر نہیں آیا
  • عمران خان کا فاشسٹ رویہ
  • مجھے میرے بزرگوں سے بچاؤ
  • پیار جو اک حسین سپنا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گل ِ رنگيں
پچھلی پوسٹ
کیلیں

متعلقہ پوسٹس

ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا

مارچ 19, 2022

المانیہ او المانیہ ۔ جرمنی کی سیر

جون 7, 2026

شعلۂ عشق کے اسرار

دسمبر 25, 2024

روح افزا

مئی 9, 2020

کتنے سورج تراشے مگر

اپریل 20, 2025

زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

اکتوبر 12, 2025

جس ایک پل میں جدا ہو گیا تھا تو مجھ...

اپریل 14, 2020

تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے

مئی 2, 2020

بے اختیار، بے بس،مجبور

مئی 4, 2020

یہ حقیقت ہے مری ذات کا نقصان کیا

فروری 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یوم کشمیر اور ہمارا کردار

فروری 5, 2020

ستاروں سے آگے

دسمبر 29, 2019

بیگانگی

جنوری 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں