خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختصاریئےچائے چاہیے ؟؟
اختصاریئےاردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر وحید احمد

چائے چاہیے ؟؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 25, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 25, 2022 0 تبصرے 81 مناظر
82

کون سی جناب ؟ لپٹن عمدہ ہے۔۔۔۔ !!! بچپن کے یاداشت ایک دیوار ہے جس پر یہ اشتہار آج بھی چسپاں ہے۔ چائے کی قصیدہ خوانی کرتا یہ دوگانا ریڈیو پر اکثر بجا کرتا تھا۔ لائل پور کے ریلوے اسٹیشن سے جب گاڑی لاہور کی جانب رواں ہوتی اور تیزی سے پٹڑیاں بدلتے ہوئے طارق آباد سے گزرتی تو چائے کی فیکٹری کی لمبی دیوار نظر آتی۔ ساٹھ کی دہائی میں میرے والد یہاں مینیجر تھے۔ پوری دیوار پر جلی حروف میں "لپٹن” لکھا ہوا تھا۔ وہ لفظ اب بھی دل کی دیوار سے لپٹا ہوا ہے۔ یادوں کے گرد اب بھی اس کی لپٹن ہے۔
شاعر اور ادیب چائے خانوں کے دیوانے ہیں۔ لکھاریوں کا چائے خانوں سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگرچہ اب یہ رواج کم ہوتا جا رہا ہے مگر ایک زمانے میں تو شاعر حضرات چائے خانے کے بغیر محفل کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے ناصر کاظمی کا ایک انٹرویو یاد آ رہا ہے جس میں وہ استعجابیہ انداز میں گلہ کر رہے تھے کہ یہ دوستوں کو کیا ہو گیا ہے۔ یعنی انہوں نے گھروں میں ڈرائینگ روم بنا لئے ہیں اور چائے پلانے کے لئے ٹی سیٹ خرید لئے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!!
چائے خانوں کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ یہ 1830 کی بات ہے۔ یورپ میں شراب نوشی کے خلاف تحریک چلی جسے Temperate movement کہتے ہیں۔ رد عمل کے طور پر لوگوں نے مے خانوں (pubs) کی جگہ چائے خانے کھول دئیے۔ اول اول سکاٹ لینڈ میں چائے خانوں کا آغاز انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہوا جبکہ امریکہ میں یہ کام 1880 میں شروع ہوا۔
1940 میں بوٹا سنگھ نے لاہور میں انڈیا ٹی ہاوس کھولا۔ 1948 میں یہ سراج الدین احمد کو الاٹ ہوا اور اس کا نام پاک ٹی ہاوس رکھا گیا۔
"ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا”۔ ممکن ہی نہیں کہ بیان چائے کا ہو اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بات نہ ہو۔ مولانا اس میدان میں سند رکھتے ہیں۔ آپ کی مشہور کتاب "غبار خاطر” میں کس سرشاری سے چائے کی مدح بیان کی گئی ہے۔۔۔ سبحان اللہ۔ یہ کتاب دراصل خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا نے 1942 سے 1945 میں دوران اسیری قلعہ احمد نگر سے مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے تھے۔ مولانا کا انداز تحریر بے مثال تھا۔ غبار خاطر کے جستہ جستہ شہ پارے دیکھئے:
"ایک مدت سے جس چائے کا عادی ہوں وہ وہائٹ جیسمن کہلاتی ہے یعنی "یاسمین سفید” یا ٹھیٹ اردو میں یوں کہیے کہ "گوری چنبیلی”۔ اس کی خوشبو جس قدر لطیف ہے، اتنا ہی کیف تند و تیز ہے۔ رنگت کی نسبت کیا کہوں، لوگوں نے آتش سیال کی تعبیر سے کام لیا ہے:
مے میان شیشہ ء ساقی نگر
آتشے گویا بہ آب آلودہ اند
لیکن آگ کا تخیل پھر ارضی ہے اور اس چائے کی علویت کچھ اور چاہتی ہے۔ میں سورج کی کرنوں کو مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یوں سمجھئے جیسے کسی نے سورج کی کرنیں حل کر کے بلوریں فنجان میں گھول دی ہیں۔ مولانا محمد مازندانی صاحب بت خانہ نےtea اگر یہ چائے پی ہوتی تو خانخاناں کی خانہ ساز شراب کی مدح میں ہرگز یہ نہ کہتا:
نہ می ماند ایں بادہ اصلا” بہ آب
تو گوئی کہ حل کردہ اند آفتاب ”
"چائے چینیوں کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کی مطابق پندرہ سو سال سے استعمال کی جا رہی ہے۔ لیکن وہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہر لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جا سکتا ہے۔ سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم کہ ان کو کیا سوجھی، انہوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی۔اب ہندوستان کے لوگ چائے میں دودھ ڈالنے کی جگہ دودھ میں چائے ڈالنے لگے۔ لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں، کھانے کی جگہ پیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ ان نادانوں دے کون کہے کہ:
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں”
راولپنڈی آرٹ کونسل میں پنجاب ٹی ہاوس کا آغاز بہت خوش آئند ہے۔ یہ اسی دیرینہ روایت کی توسیع ہے جو ادیبوں کو مل بیٹھنے کا بہترین موقعہ فراہم کرتی ہے۔ اس چائے خانے کے قیام پر ممتاز شاعر انجم سلیمی اور ناصر علی ناصر کو بہت بہت مبارک۔ اس ٹی ہاوس میں ایک کنویں کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے جسے گوشہ ء مجید امجد کا نام دیا جائے گا۔ اس ماڈل کو دیکھتے ہی مجید امجد کی مشہور نظم "کنواں” یاد آ جاتی ہے:
کنواں چل رہا ہے مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں
نہ فصلیں نہ خرمن نہ دانہ
نہ شاخوں کی باہیں نہ پھولوں کے مکھڑے نہ کلیوں کے ماتھے نہ رت کی جوانی
گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو جب چیرتا تیز خوں رنگ پانی
کہ جیسے ہو زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی
ادھر دھیری دھیری
کنویں کی نفیری
ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہ
پراسرار گانا
اس تمام پس منظر کا احاطہ بھائی جاوید احمد کا ایک دلآویز شعر کرتا ہے:
چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ہے کہ دل بیٹھتے ہیں

وحید احمد
21 جولائی 2022

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منٹو کی شادی
  • تجربے کی طاقت اور ٹیکنالوجی کی غلامی
  • رمضان ٹرانسمیشن یا ریٹنگ کا کھیل؟
  • قرطبہ کا قاضی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے
پچھلی پوسٹ
سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

متعلقہ پوسٹس

میری شادی کرادو

جولائی 16, 2022

رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

مئی 20, 2020

مسکراہٹ کے رنگ

فروری 10, 2023

معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!

اگست 15, 2020

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

میرا جسم میری مرضی

مارچ 10, 2020

منتشر کرنے والا شاعر

ستمبر 15, 2016

بھارتی توپیں

اکتوبر 28, 2023

سفر نامہ بھارت – دوسری قسط

نومبر 2, 2019

نہ سنوائی، نہ تحفظ

اگست 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

توبۃ النصوح – فصل پنجم

اکتوبر 30, 2020

جھلّی چلی گئی

جنوری 28, 2020

اُردو منقبت کی روایت

جنوری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں