خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختصاریئےچائے چاہیے ؟؟
اختصاریئےاردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر وحید احمد

چائے چاہیے ؟؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 25, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 25, 2022 0 تبصرے 42 مناظر
43

کون سی جناب ؟ لپٹن عمدہ ہے۔۔۔۔ !!! بچپن کے یاداشت ایک دیوار ہے جس پر یہ اشتہار آج بھی چسپاں ہے۔ چائے کی قصیدہ خوانی کرتا یہ دوگانا ریڈیو پر اکثر بجا کرتا تھا۔ لائل پور کے ریلوے اسٹیشن سے جب گاڑی لاہور کی جانب رواں ہوتی اور تیزی سے پٹڑیاں بدلتے ہوئے طارق آباد سے گزرتی تو چائے کی فیکٹری کی لمبی دیوار نظر آتی۔ ساٹھ کی دہائی میں میرے والد یہاں مینیجر تھے۔ پوری دیوار پر جلی حروف میں "لپٹن” لکھا ہوا تھا۔ وہ لفظ اب بھی دل کی دیوار سے لپٹا ہوا ہے۔ یادوں کے گرد اب بھی اس کی لپٹن ہے۔
شاعر اور ادیب چائے خانوں کے دیوانے ہیں۔ لکھاریوں کا چائے خانوں سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگرچہ اب یہ رواج کم ہوتا جا رہا ہے مگر ایک زمانے میں تو شاعر حضرات چائے خانے کے بغیر محفل کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے ناصر کاظمی کا ایک انٹرویو یاد آ رہا ہے جس میں وہ استعجابیہ انداز میں گلہ کر رہے تھے کہ یہ دوستوں کو کیا ہو گیا ہے۔ یعنی انہوں نے گھروں میں ڈرائینگ روم بنا لئے ہیں اور چائے پلانے کے لئے ٹی سیٹ خرید لئے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!!
چائے خانوں کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ یہ 1830 کی بات ہے۔ یورپ میں شراب نوشی کے خلاف تحریک چلی جسے Temperate movement کہتے ہیں۔ رد عمل کے طور پر لوگوں نے مے خانوں (pubs) کی جگہ چائے خانے کھول دئیے۔ اول اول سکاٹ لینڈ میں چائے خانوں کا آغاز انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہوا جبکہ امریکہ میں یہ کام 1880 میں شروع ہوا۔
1940 میں بوٹا سنگھ نے لاہور میں انڈیا ٹی ہاوس کھولا۔ 1948 میں یہ سراج الدین احمد کو الاٹ ہوا اور اس کا نام پاک ٹی ہاوس رکھا گیا۔
"ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا”۔ ممکن ہی نہیں کہ بیان چائے کا ہو اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بات نہ ہو۔ مولانا اس میدان میں سند رکھتے ہیں۔ آپ کی مشہور کتاب "غبار خاطر” میں کس سرشاری سے چائے کی مدح بیان کی گئی ہے۔۔۔ سبحان اللہ۔ یہ کتاب دراصل خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا نے 1942 سے 1945 میں دوران اسیری قلعہ احمد نگر سے مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے تھے۔ مولانا کا انداز تحریر بے مثال تھا۔ غبار خاطر کے جستہ جستہ شہ پارے دیکھئے:
"ایک مدت سے جس چائے کا عادی ہوں وہ وہائٹ جیسمن کہلاتی ہے یعنی "یاسمین سفید” یا ٹھیٹ اردو میں یوں کہیے کہ "گوری چنبیلی”۔ اس کی خوشبو جس قدر لطیف ہے، اتنا ہی کیف تند و تیز ہے۔ رنگت کی نسبت کیا کہوں، لوگوں نے آتش سیال کی تعبیر سے کام لیا ہے:
مے میان شیشہ ء ساقی نگر
آتشے گویا بہ آب آلودہ اند
لیکن آگ کا تخیل پھر ارضی ہے اور اس چائے کی علویت کچھ اور چاہتی ہے۔ میں سورج کی کرنوں کو مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یوں سمجھئے جیسے کسی نے سورج کی کرنیں حل کر کے بلوریں فنجان میں گھول دی ہیں۔ مولانا محمد مازندانی صاحب بت خانہ نےtea اگر یہ چائے پی ہوتی تو خانخاناں کی خانہ ساز شراب کی مدح میں ہرگز یہ نہ کہتا:
نہ می ماند ایں بادہ اصلا” بہ آب
تو گوئی کہ حل کردہ اند آفتاب ”
"چائے چینیوں کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کی مطابق پندرہ سو سال سے استعمال کی جا رہی ہے۔ لیکن وہاں کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہر لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جا سکتا ہے۔ سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم کہ ان کو کیا سوجھی، انہوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی۔اب ہندوستان کے لوگ چائے میں دودھ ڈالنے کی جگہ دودھ میں چائے ڈالنے لگے۔ لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں، کھانے کی جگہ پیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ ان نادانوں دے کون کہے کہ:
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں”
راولپنڈی آرٹ کونسل میں پنجاب ٹی ہاوس کا آغاز بہت خوش آئند ہے۔ یہ اسی دیرینہ روایت کی توسیع ہے جو ادیبوں کو مل بیٹھنے کا بہترین موقعہ فراہم کرتی ہے۔ اس چائے خانے کے قیام پر ممتاز شاعر انجم سلیمی اور ناصر علی ناصر کو بہت بہت مبارک۔ اس ٹی ہاوس میں ایک کنویں کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے جسے گوشہ ء مجید امجد کا نام دیا جائے گا۔ اس ماڈل کو دیکھتے ہی مجید امجد کی مشہور نظم "کنواں” یاد آ جاتی ہے:
کنواں چل رہا ہے مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں
نہ فصلیں نہ خرمن نہ دانہ
نہ شاخوں کی باہیں نہ پھولوں کے مکھڑے نہ کلیوں کے ماتھے نہ رت کی جوانی
گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو جب چیرتا تیز خوں رنگ پانی
کہ جیسے ہو زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی
ادھر دھیری دھیری
کنویں کی نفیری
ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہ
پراسرار گانا
اس تمام پس منظر کا احاطہ بھائی جاوید احمد کا ایک دلآویز شعر کرتا ہے:
چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ہے کہ دل بیٹھتے ہیں

وحید احمد
21 جولائی 2022

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غالب افسانہ
  • غیر منظم منصوبہ بندیاں!
  • وجود ایک وہم ہے
  • مذہب کی اصل روح
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے
پچھلی پوسٹ
سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

متعلقہ پوسٹس

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

جنوری 15, 2021

سلام اردو مشاعرہ سیالکوٹ 2025

اکتوبر 8, 2025

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اپریل 15, 2020

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

 سمینٹ میں دفن آدمی

دسمبر 7, 2019

منظروں کی ڈھیری پر شام کا بسیرا ہے

جون 3, 2020

سیر زندگی

جنوری 16, 2026

رازکی بات ہے کسی کو بتایئے گا نہیں

ستمبر 1, 2024

سیاہ جھیل سی آنکھیں

جولائی 31, 2022

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ

ستمبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی...

ستمبر 29, 2021

سرودِعشق

مئی 20, 2020

بروٹس سے میر جعفر تک

اکتوبر 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں