خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبچنی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بچنی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 622 مناظر
623

بچنی

بھنگنوں کی باتیں ہورہی تھیں۔ خاص طور پر ان کی جو بٹوارے سے پہلے امرتسر میں رہتی تھیں۔ مجید کا یہ ایمان تھا کہ امرتسر کی بھنگنوں جیسی کراری چھوکریاں اور کہیں نہیں پائی جاتیں۔ خدا معلوم تقسیم کے بعد وہ کہاں تتر بتر ہو گئی تھیں۔ رشید ان کے مقابلے میں گجریوں کی تعریف کرتاتھا۔ اس نے مجید سے کہا۔

’’تم ٹھیک کہتے ہوکہ امرتسری بھنگنیں اپنی جوانی کے زمانے میں بڑی پرکشش ہوتی ہیں، لیکن ان کی یہ جوانی کھترانیوں کی طرح زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔ بس ایک دن جوان ہوتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ادھیڑ ہو جاتی ہیں۔ ان کی جوانی معلوم نہیں کون سا چور چرا کے لے جاتا ہے۔ خدا کی قسم۔ ہمارے ہاں ایک بھنگن کوٹھا کمانے آتی تھی۔ اتنی کڑیل جوانی تھی کہ میں اپنی کمزورجوانی کو محسوس کرکے اس سے کبھی بات نہ کرسکا۔ عیسائی مشنریوں نے اسے اپنے مذہب میں داخل کرلیا تھا۔ نام اس کا فاطمہ تھا۔ پہلے گھر والے اسے پھاتو کہتے تھے۔ مگر جب وہ عیسائی ہوئی تو اسے مس پھاتو کے نام سے پکارا جانے لگا۔ صبح کو وہ بریک فاسٹ کرتی تھی، دوپہر کو لنچ اور شام کو ڈنر۔ لیکن چند مہینوں کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ اس کی ساری کڑیل جوانی جیسے پگھل گئی ہے۔ اس کی چھاتیاں جو بڑی تندخو تھیں اور اس طرح اوپر اٹھتی رہتی تھیں جیسے ابھی اپنا سارا جوان بدن آپ پر داغ دیں گی، اس قدر نیچے ڈھلک گئی تھیں کہ ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا تھا۔ لیکن اس کے مقابلے میں ہمارے گھر میں وہ گجری جو اُپلے لے کر آتی تھی، تیر کی طرح سیدھی تھی۔ اس کی عمر بھی اتنی ہو گی جتنی اس بھنگن کی تھی۔ مگر وہ تین برس کے بعد بھی ویسی ہی جوان تھی۔ سروقد۔ اُپلوں کا ٹوکرااس کے سر پرہوتا تھا۔ ایک پہاڑ سا بنا ہوا۔ مگر مجال ہے کہ اس کی گردن میں ہلکی سی جنبش آجائے یا اس کی کمر میں خفیف سا خم آجائے۔ تین برس وہ ہمارے یہاں آتی رہی۔ اس کے بعد اس کی شادی ہو گئی۔ اس کے یکے بعد دیگرے تین لڑکے پیدا ہوئے۔ اور مجید! میں خدا کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ اس کی کمر ویسی ہی مضبوط تھی۔ تم میری مان لو کہ بھنگنیں، گوجریوں کا مقابلہ کسی صورت بھی نہیں کرسکتیں۔ ‘‘

مجید تلملا رہا تھا۔ اس نے پان کی گلوری چُندنیا میں سے نکال کر اپنے کلّے میں دبائی۔ چھوٹی ڈبیا سے ماچس کی تیلی کی مدد سے تھوڑا سا قوام نکالا اور منہ میں ڈال کر بڑے تحمل سے کہا۔

’’رشید بھائی۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن جس بھنگن کا تصور میرے دماغ میں ہے، اور جس کی دراصل میں بات کرنا چاہتا تھا۔ ایک فتنہ تھا۔ اب تم ایسا کرو کہ میری ساری داستان سُن لو تاکہ تمہیں اس فتنہ و قیامت کے متعلق کچھ معلوم ہوسکے۔ جوبن ڈھلنے کی تم جو بات کرتے ہو، اس کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ گجریوں کاقد لمبا ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر انھیں جلدی ڈھلنا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ ننگے پاؤں رہتی ہیں اور اپنے سر پر بقول تمہارے پہاڑ سا اُپلوں کا ٹوکرا اٹھائے اٹھائے پھرتی ہیں۔ لیکن لعنت بھیجو فی الحال گجریوں پر، کیوں کہ مچھے بچنی کی بات کرنا ہے جو ہمارے محلے کی بڑی کراری بھنگن تھی۔ اس کا قد تو انگشتانہ بھرکا تھا مگر زبان اسکندری گز تھی۔ شادی شدہ تھی، مگر خاوند سے ہر روز لڑتی جھگڑتی رہتی تھی۔ ہمارے کمپاؤنڈ میں یہ دونوں میاں بیوی ہر روز صبح سویرے آتے اور ایک بڑکے درخت کے ساتھ جھولا لٹکا دیتے۔ اس میں وہ اپنا لڑکا ڈال دیتے تھے۔ مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کو جھلانے والا کوئی نہیں تھا، چنانچہ دونوں میاں بیوی جھاڑو چھوڑ کر اسے جھولا جھلاتے یا گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔ ‘‘

رشید نے مجید سے کہا۔

’’یہ جھولے کی بات کہاں سے آگئی۔ تم تو ایک کراری بھنگن کی بات کررہے تھے۔ جو بقول تمہارے بہت خوبصورت تھی۔ ‘‘

مجید نے فوراً کہا۔

’’یار تم جھولے کے ساتھ کیوں اٹک گئے۔ میری پوری کہانی تو سن لو۔ یہ جھولے کی نہیں بچنی کی بات ہے۔ اس بچنی کی جسے میں ساری عمر فراموش نہیں کرسکتا۔ وہ ایک آفت تھی۔ صبح اپنے خاوند کے ساتھ آتی تھی۔ ہاتھ میں لمبی سی جھاڑو لیے۔ ماتھے پرسینکڑوں تیوریاں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ ابھی جھاڑو آپ کے سر پر دے مارے گی۔ مگر ایسا موقع کبھی نہیں آیا۔ میں نے ہزاروں بار اس کو گھورا، لیکن اس نے میرے سر پر جھاڑو نہیں ماری۔ اس کی تیوریاں اس کے ماتھے پر بدستور قائم رہیں اور وہ حسب سابق اپنا کام کرتی رہیں۔ اس کا خاوند جس کا نام معلوم نہیں کیا تھا، اول درجے کا زن مرید تھا۔ اس کا قد اپنی بیوی سے بھی چھوٹا تھا۔ وہ اس کو کام کے دوران میں ہمیشہ گالیاں دیا کرتی تھی۔ محلے کے سب لوگ سنتے تھے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرتے تھے۔ ‘‘

رشید اتنی لمبی داستان سن کر بھنا گیا۔

’’تم اصل بات کی طرف آؤ۔ یہ کیا چہ مے گوئیاں بک رہے ہو۔ بچنی نام بڑا اچھا ہے، ورنہ خدا کی قسم! میں تمہاری یہ خرافات کبھی نہ سنتا۔ معلوم نہیں یہ تمہاری جوڑی ہوئی کہانی ہے۔ بہر حال، تمہیں چند منٹ دیتا ہوں۔ سنالو۔ ‘‘

مجید تاؤ میں آگیا۔

’’الو کے پٹھے۔ تم نے صرف بچنی کا نام سنا ہے، کبھی تم نے اسے دیکھا ہوتا تو دل نکال کر اس کے ٹوکرے میں ڈال دیا ہوتا۔ میں تم سے اگر ایک واقعہ بیان کررہا ہوں تو اس میں نمک مرچ لگانے کی مجھے اجازت ہونی چاہیے۔ تم اگر اکتا گئے ہو تو جہنم میں جاؤ۔ ‘‘

رشید کو اور کوئی کام نہیں تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ کسی سینما میں چلا جاتا، اس لیے اس نے مناسب سمجھا کہ مجید کی داستان سن لے۔

’’جہنم میں جانے کا سوال نہیں۔ تم ذرا اختصار سے کام لو۔ اصل میں مجھے بچنی سے دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ ‘‘

مجید غصے میں آگیا۔

’’تمہاری دلچسپی کی ایسی کی تیسی۔ سالے، تم کون ہوتے ہو اس میں دلچسپی لینے والے۔ اس میں دلچسپی لینے والے تم ایسے ہزاروں تھے، مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ میں تم سے کروڑ مرتبہ زیادہ خوبصورت ہوں، لیکن میں اس نگہ التفات کا ہروقت منتظر رہتا تھا۔ وہ بڑی ہٹیلی تھی۔ میرے دوست رشید خدا کی قسم! اس جیسی لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ نام اس کا بچنی تھا۔ یعنی بچن سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر وہ تو پھاپھا کٹنی تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اس کو اپنے قبضے میں لے آؤں، پرناکام رہا۔ وہ پٹھے پر ہاتھ ہی نہیں دھرنے دیتی تھی۔ ‘‘

یہ سن کر رشید بولا۔

’’تم یار ہمیشہ ایسے معاملوں میں کور ے رہے ہو۔ ‘‘

مجید کے گہری چوٹ لگی۔

’’بکواس کرتے ہو۔ میں نے ایک روز اسے پکڑ لیا۔ میرے گھر کے باہر وہ جھاڑو دے رہی تھی کہ میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ ‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

رشید نے ازراہ مذاق سگریٹ سلگایا اور ماچس کی تیلی بجھا کر اس کے کئی ٹکڑے کرکے ایش ٹرے میں ڈال دیے۔ مجید کو ایسا محسوس ہوا کہ رشید نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ہیں۔ بہت جزبز ہوا، لیکن آدمی سچا تھا اس لیے جھوٹ نہ بول سکا۔

’’یار رشید! تم مذاق اڑاتے ہو۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ اس روز ہوا، اس کا مذاق اڑانا ہی چاہیے۔ میں نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ لیکن اس حرامزادی نے کھینچ کے اپنی جھاڑومیرے منہ پر دے ماری۔ میں شرم کے مارے اندر بھاگ گیا۔ لیکن فوراً باہر نکلا۔ دیکھا کہ وہ میرے مکان کے باہر جھاڑو دے رہی ہے۔ میں نے اسے پھر پکڑا۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ میں نے سوچا۔ ‘‘

رشید نے مجید کا فقرہ مکمل کردیا۔

’’کہ معاملہ درست ہو گیا ہے۔ ‘‘

مجید بوکھلا گیا:

’’خاک درست ہوا۔ وہ میری گرفت سے نکل کر سیدھی میری بیوی کے پاس چلی گئی۔ لیکن اس سے کوئی شکایت نہ کی۔ میں ڈر کے مارے دبکا ہوا تھا۔ میں نے صرف یہ سنا اور میری جان کا بوجھ ہلکا ہوا۔

’’بی بی جی آج پانی نہیں آیا۔ یہ ان لوگوں کو جو آپ سے ہر مہینے دس روپے وصول کرتے ہیں، کیا ہو گیا ہے۔ کیوں وہ اتنا خیال نہیں کرتے کہ آپ کو ہر روز ماشکی کو دس مشکوں کے چار آنے فی مشک کے حساب دو روپے آٹھ آنے دینا پڑیں۔ ‘‘

میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے میری عزت و آبرو رکھ لی۔ لیکن میں نے بعد میں سوچا کہ میری عزت و آبرو رکھنے والی اصل میں بچنی۔ لیکن جب زیادہ سوچا تو احساس ہوا کہ ایسا سوچنا کفر ہے۔ ‘‘

رشید قریب قریب تنگ آچکا تھا۔ اس نے اپنے دوست کی خاطر آواز دبا کرکہا۔

’’کافر کے بچے۔ بات تو کر کہ تیرا اس بچنی کی بچنی سے کیاہوا۔ کیا تم نے اسے پٹالیا؟‘‘

مجید نے رشید کی چندنیا میں سے ایک گلوری لی اور کہا۔

’’دیکھو رشید۔ تم بچنی کو جانتے نہیں۔ افسوس ہے کہ میں افسانہ نگار نہیں ورنہ میں اس کا کردار بہت اچھی طرح۔ جیتا جاگتا پیش کرسکتا۔ وہ معلوم نہیں شے کیا تھی۔ عمر اس کی زیادہ سے زیادہ۔ یہ سمجھو کہ سترہ اٹھارہ برس کے قریب ہو گی۔ قد اس کا ساڑھے چار فٹ ہو گا۔ چھاتی ایسی تھی جیسے لوہے کی بنی ہے، حالانکہ ایک بچے کی ماں تھی۔ ‘‘

رشید بہت تنگ آگیا۔

’’ایک بچے کی ماں کے بچے۔ تو اپنی داستان کے انجام کوپہنچ۔ مجھے ایک بہت ضروری کام سے جانا ہے۔ ساڑھے سات بج چکے ہیں، لیکن تمہاری د استان ہی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ ‘‘

مجیدسنجیدہ رہا۔

’’رشید لالے۔ معاملہ بڑا نازک ہے۔ ‘‘

’’کس کا۔ تمہارا یا میرا؟‘‘

’’میں نہیں کہہ سکتا، لیکن جس وقت کی میں بات کررہا ہوں، اس وقت معاملہ میرا تو بہت نازک تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کروں، کیا نہ کروں۔ اب تم یہ خیال کرو کہ میں ہزاروں کا مالک تھا۔ تم جانتے ہو کہ ماں باپ مر کھپ چکے تھے۔ ساری جائیداد کا میں وارث تھا۔ جہاں چاہتا، لٹا دیتا۔ اس روز جب میں نے بچنی کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچا اور وہ میری گرفت سے یوں الگ ہٹی جیسے میرا کام تمام کردے گی، لیکن میری بیوی سے اس نے اس سلسلے کا ذکر تک نہ کیا تو مجھے امید ہو گئی کہ چند ایسے معاملوں کے بعد میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ ‘‘

رشید نے اس سے پوچھا۔

’’تجھے کامیابی ہوئی؟‘‘

’’خاک۔ تم اسے جانتے ہی نہیں۔ بڑی تیزخو لڑکی ہے۔ اپنے خاوند کو کچھ نہیں سمجھتی۔ لیکن ایک عجیب بات ہے کہ میں نے اس سے اتنی چھیڑ خانی کی، لیکن اس نے کسی سے بات تک نہ کی، ورنہ اگر چاہتی تو میرا گھر نکالا کرسکتی تھی۔ ‘‘

رشید مسکرایا۔

’’میں تمہاری بچنی کو جانتا ہوں!‘‘

مجید نے بڑی حیرت سے پوچھا۔

’’تم کیسے جانتے ہو اس کو؟‘‘

’’جس طرح تم جانتے ہو۔ کیا تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ وہ تمہارے ہی محلے کے کام کیا کرے۔ میں اس کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ ‘‘

مجید کو یقین نہ آیا۔

’’بکواس کرتے ہو۔ اس کی عمر ہی کتنی ہے کہ تم اسے جانو۔ دو برس سے کچھ مہینے اوپر ہو گئے ہیں کہ وہ ہمارے محلے میں بلاناغہ آتی ہے۔ اس کے لڑکے کی عمر بھی دو سال کے قریب ہو گی۔ یعنی جب وہ ہمارے ہاں ملازم ہوئی تو اس کے کوئی بچہ نہیں تھا۔ لیکن دو تین مہینے کے بعد اس کی گود میں ایک لڑکا تھا۔ ‘‘

رشید پھر مسکرایا۔

’’تمہارا؟‘‘

’’میرا‘‘

مجید گھبرا گیا، لیکن فوراً سنبھل کر اس نے مذاق کا جواب مذاق میں دیا۔

’’میرا ہوتا تو کیا کہنے تھے۔ کم از کم میں یہ تو کہنے کے قابل ہو جاتا کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ ‘‘

رشید کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب رنگ اختیار کرگئی۔

’’تمہیں اپنی بچنی کے شوہر کا نام معلوم نہیں؟‘‘

’’نہیں!‘‘

’’میں بتاتا ہوں تمہیں۔ اس کے شوہر کا نام رشید ہے۔ ‘‘

مجید بوکھلا گیا۔

’’رشید۔ کیا اس کا نام رشید ہے؟‘‘

رشید نے بڑے وثوق اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’ہاں۔ اس کا نام رشید ہے۔ اصل میں وہی اس کا شوہر ہے۔ ‘‘

’’وہ جو اس کے ساتھ ہمارے محلے میں جھاڑو دیتا ہے اور اپنے بچے کو جھولا جھلاتا ہے؟‘‘

مجید کی بوکھلاہٹ اسی طرح قائم تھی۔ رشید کی سنجیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔

’’وہ الو کا پٹھا اپنے بچے کو جھولا نہیں جھلاتا!‘‘

’’تو کسے جھلاتا ہے۔ کیا وہ اس رشید کا بچہ نہیں؟‘‘

’’نہیں!‘‘

’’تو کس کا بچہ؟‘‘

’’ایک غریب اور نادارآدمی کا۔ جو خوبصورت بھی نہیں۔ تم سے ہزاروں درجے نیچے ہے۔ ‘‘

’’کون ہے وہ؟‘‘

’’پوچھ کے کیا کرو گے؟‘‘

’’کروں گا کیا۔ بس ایسے ہی جاننا چاہتا ہوں۔ ‘‘

رشید نے ایک سگریٹ سلگایا اور بڑے اطمینان سے کہا۔

’’جاننا چاہتے ہو تو جان لو۔ وہ رشید میں ہوں۔ تمہاری بچنی سے میری آشنائی بچپن کی ہے۔ وہ گیارہ برس کی تھی۔ میں تیرہ برس کا۔ جب سے میرا اس کا معاملہ چل رہا ہے۔ وہ لڑکا جو تم اس کی گود میں دیکھتے ہو اور جسے اس کا الو کا پٹھا شوہر ہر روز جھولا جھلاتا ہے، اس خاکسار کی اولاد ہے۔ شکر ہے خداوند کریم کا کہ لڑکی نہ ہوئی، ورنہ میں تو اسے دوسرے ہی روز مار ڈ التا۔ ‘‘

یہ کہہ کر رشید فوراً اٹھا اور چلا گیا۔ مجید سوچتا رہ گیا کہ خدا وند کریم نے اس پر کون سا کرم کیا تھا جو وہ اس کا شکر گزار تھا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سمندر کی گہرائیوں میں
  • پرورش کے امتحان
  • سینما کا عشق
  • پرسکون ترتیب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
باسط
پچھلی پوسٹ
آشیانہ

متعلقہ پوسٹس

وہ ایک مونگ پھلی

مئی 24, 2024

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

مئی 9, 2020

نظام عدل

جولائی 19, 2020

نازیہ کی کہانی

اپریل 1, 2023

جنم ورودھی

ستمبر 24, 2021

پچھتاوا

دسمبر 10, 2021

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جہاں پریاں اترتی ہیں

جون 15, 2025

خواجہ غلام فرید

نومبر 25, 2025

یوگا اور ورزش زندگی کی نئی توانائی

ستمبر 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گستاخانہ خاکے اور امت ِ مسلمہ!

نومبر 28, 2020

کورونا اوراُم مسائل آبادی کا عفریب

جولائی 10, 2020

ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘

اپریل 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں