خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےدفن
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

دفن

ایک اردو افسانہ از ڈاکٹر نور ظہیر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 358 مناظر
359

ہوری کو دفن میں جانے سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے وہ کسی کی موت کی خبر ملنے کے دو تین دن بعد اس کے گھر والوں کے یہاں افسوس کرنے جاتی تھی۔ لیکن آج شام وہ ایک دفن میں گئی تھی۔ دامنی کو اپنے ہاتھوں سے اس نے قبر میں اتارا تھا۔ چونکیے مت! ٹھیک ہی سمجھ رہے ہیں۔ دامنی نام کی لڑکی ہندو ہی تھی اور اسے جلایا نہیں گیا۔ دفن کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہاں موجود ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ دامنی زندہ ہے۔ پھر بھی سب نے مل کر اسے دفن کردیا۔
دامنی! ہوری کی بچپن کی دوست، ہوری کی سب سے اچھی دوست۔ دامنی! جس کی ایک پکار پر پورا جونیئر کالج اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا، بجلی گزرتے ہوئے تاروں کی طرح سنسنانے لگتا تھا۔ پڑھائی میں اچھی، کھیل کھود میں آگے، سنسکرتک پروگراموں کی جان، مگر سب سے تیز ڈبیٹ میں۔ اتنی مشق جو کرتی تھی۔ کسی بھی خالی وقت میں اسے بحث کرتے پایا جاتا۔ ہوری اسے چڑاتی — ”تیرا تو مستقبل پالیٹکس ہے، وہ بھی لیڈر آف دی اپوزیشن۔“ لیکن اس میں متاثر کرپانے کی صلاحیت تھی اور صرف اپنی بات منوا لینے بھر سے خوش نہیں ہوجاتی تھی، اسے عمل میں لاکر چھوڑتی۔ اسے یقین تھا کہ زیادہ تر لوگ سماجی یا گھریلو دباؤ میں آکر ایسے فیصلے لیتے ہیں جو اگر وہ خود آزادی سے سوچیں تو کبھی نہ لیں۔ کم سے کم ہوری کے معاملے میں اس کا یہ وشواس صحیح ثابت ہوا۔
وہ دونوں ہی سینٹ میریز جونیئر کالج میں پڑھتی تھیں۔ جب سینئر سیکنڈری کے ریزلٹ آئے تو اسی نے زبردستی ہوری کو کوایجوکیشنل کالج کے فارم بھروائے۔ جب داخلہ مل گیا تو اسی نے ہوری کی دقیانوس امّی سے بات کرکے انھیں یقین دلایا کہ کالج میں لڑکے ہونے کی وجہ سے ہوری کسی کے ساتھ بھاگ جائے گی ایسی لڑکی وہ نہیں ہے۔ دامنی خود بھی اسی کالج میں تھی اور پانچویں دن سے پورا کالج اسے ’ناستِک بجلی‘ کے نام سے پکارنے لگا تھا۔ وہ کسی دھرم کو گالی دینے سے نہیں چوکتی۔ ہندوؤں کے ورت، تیرتھ، ہون، جگراتوں کا مذاق اڑاتی تو مسلمانوں کی چار شادیاں، تین بار طلاق طلاق اور وِدھوا سے شادی کرکے جنّت میں ستّر حوروں کے وعدے پر بھی پھبتیاں کستی۔ مگر سب سے زیادہ نفرت اسے برقعے سے تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی — ”عورت کو عورت ہونے پر ہی اگر شرم آنے لگے تو بھلا اور کیا بات کی جائے۔ تب تو وہ مردوں کے سماج کو ظلم کرنے کی چھوٹ دے رہی ہے۔“ ہوری سے اس کی دوستی کی کئی وجوہات میں سے سب سے بڑا شاید یہی تھا کہ نہ وہ، نہ ہی اس کی ماں اور بھابھیاں پردہ کرتی تھیں۔
کالج کے دوسرے سال سے ہی وہ ہوری کے پیچھے پڑگئی تھی کہ وہ ودیش کی اسکالرشپ کے لیے درخواست بھیجنا شروع کردیں۔ ہفتے میں دو بار سائبر کیفے جاکر، انٹرنیٹ پر وِدیشی یونیورسٹیوں کی سائٹ دیکھتی اور ہوری کو بتاکر ای میل کرواتی۔ جب ہوری کا داخلہ برٹین کی ایک یونیورسٹی میں ہوا تو اس نے ہی پیچھے پڑکر اسے جانے کے لیے راضی کیا۔ اس نے خود کہیں باہر درخواست نہیں دی تھی۔ اکثر بیمار رہنے والی ماں یہاں اکیلی پڑجاتیں۔ ایک چھوٹی بہن تھی جو ابھی سکول میں تھی اور دونوں کے بیچ میں ایک بھائی تھا جو مندبدھی تھا۔ وہ ان سب کو چھوڑکر کیسے جاسکتی تھی۔ وہ تو گھر کی مرد تھی۔

یہ سات سال پہلے کی بات تھی۔ ہوری ایم بی اے کے بعد دو سال نوکری کرکے واپس لوٹ آئی تھی اور اسی ایم این سی، جہاں وہ برٹین میں نوکری کرتی تھی، اسے ممبئی کا ریجنل منیجر بناکر بھیجا تھا۔ دامنی نے زولوجی میں ایم ایس سی کرلیا تھا۔ تین چار جگہ لیو ویکنسی میں نوکریاں بھی کرچکی تھی۔ لیکن کہیں پرماننٹ نوکری نہیں مل رہی تھی۔ ممبئی میں زولوجی پڑھانے والے کے لیے نوکریاں تھیں کہاں اور جو تھیں ان کے برابر نہ تو دامنی کے پاس ’سورس‘ تھا اور نہ وہ کسی کوٹے میں فٹ ہوتی تھی۔
دھیرے دھیرے کارپوریٹ کی دنیا نے ہوری کو اپنے اندر کھینچ لیا۔ شام کی پارٹیاں بزنس میٹنگز، سمینار، ورک شاپ، ورکنگ لنچ۔ دامنی سے ملنا اب کبھی کبھار ہی ہوتا اور جب بھی ملتی تو ہوری کی کامیابی پر بہت خوش ہوتی۔
پچھلے تین مہینے سے ملنا نہیں ہوا۔ آج اچانک دوپہر کو دامنی کا فون آیا۔ ہوری خالی بیٹھی تھی، سوچا لمبی بات کرتے ہیں۔ لیکن دامنی فون پر بات نہیں بلکہ شام کو اس سے ملنا چاہ رہی تھی۔ ہوری اپنے دفتر کی باس تھی، ایک شام تو وہ بِنا کسی نوٹس کے غائب ہوہی سکتی تھی۔ جہانگیر آرٹ گیلری میں ملنا طے ہوا۔ ہوری کو کافی دن ہوگئے تھے کسی آرٹ ایگزی بیشن میں گئے۔ اچھی شام گزرے گی۔
دامنی باہر ہی کھڑی تھی۔ اندر بڑھتی ہوئی ہوری کو روکتے ہوئے بولی — ”نہیں، اندر نہیں جائیں گے۔“

ہوری نے ذرا حیران ہوکر پوچھا — ”تو جہاں جانا ہے وہاں بلاتی، پارکنگ میں کتنی مشکل ہوتی ہے معلوم ہے۔“
وہ ذرا شرمندہ ہوکر بولی — ”جہاں جانا ہے وہاں کافی بھیڑ ہوتی ہے۔ ملنا ذرا مشکل ہوتا اس لیے سوچا یہیں سے ساتھ چلیں تو اچھا ہے۔“
”ٹھیک ہے۔ بتا چلنا کہاں ہے؟“
”محمد علی روڈ“۔ دامنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
”کیوں بھئی، پائے اور شاہی ٹکڑے اچانک کیسے یاد آگئے؟“ ہوری نے ہنستے ہوئے کالج کے دنوں کو یاد کیا، جب دامنی بے دھڑک اس کے ساتھ بڑے کے گوشت کے پائے اور شاہی ٹکڑے کھانے مسلمان علاقوں میں جایا کرتی تھی۔
”نہیں یار، کچھ اور لینا ہے۔“ دامنی نے اس انداز سے کہا جیسے اپنا راز کھولنا وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک ٹالنا چاہتی ہو۔
”محمد علی روڈ پر اور ایسا کیا ملے گا جو ممبئی میں دوسری جگہ نہیں مل سکتا؟“

دامنی کچھ پل چپ رہی پھر بہت دھیرے سے بولی — ”ایک برقعہ!“ ہوری نے اتنی زور سے بریک لگائی کہ پیچھے کی گاڑی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ اسے گالیاں دیتا جب وہ نکل گیا تو ہوری نے دامنی کی طرف دیکھا اور زور سے ہنس پڑی۔
”تو بھی نا ، مذاق کرنے سے باز نہیں آئے گی۔“
”مجھے سچ مچ برقعہ چاہیے۔“ دامنی نے ٹھہراؤ سے کہا۔
”کیوں، سائنس چھوڑکر ناٹک کرنا شروع کردیا ہے کیا؟“
”نہیں، ایسا تو نہیں۔“ دامنی کچھ پریشان لگ رہی تھی۔
”تو پھر کیا نیرس زندگی میں رنگ بھرنا چاہ رہی ہو — کالا!“ ہوری اب بھی ہنس رہی تھی۔
”نہیں! مرتی ہوئی ڈگریوں کو زندگی دینے کی کوشش کررہی ہوں۔ مسلم گرلس جونیئر کالج میں نوکری مل گئی ہے۔ پرماننٹ!“
”یہ تو بڑی اچھی خبر ہے۔“
”ہے ناں؟ اسی لیے برقعہ چاہیے۔“
”نوکری کا برقعے سے کیا مطلب؟“ ہوری کی ہنسی غائب ہوکر تیوری کے بل آگئے تھے۔
”وہاں کا ڈریس کوڈ ہے۔ ہر ٹیچر اور ہر لڑکی کو برقعہ پہننا پڑتا ہے۔“
”پر تو ہندو ہے۔ تجھ پر پردے کی کوئی بندش تیرا دھرم نہیں لگاتا“
”پر یہ کالج لگاتا ہے۔ سائنس میں اتنی پڑھی لکھی ٹیچر، مسلمانوں میں کم ہی ملتی ہیں۔ اس لیے کالج بورڈ کو یہ فیصلہ تو کرنا پڑا کہ ہندو یا کرشچن ٹیچر رکھیں، مگر شرط یہ ہے کہ ان پر بھی ڈریس کوڈ لاگو رہے گا۔ انٹرویو میں ہی انھوں نے صاف صاف بتا دیا تھا۔ جی میں تو آیا کہ نوکری لینے سے انکار کردوں۔ مگر ہوری، خود بھوکے رہنا آسان ہے، اپنوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے تڑپتے دیکھنا بہت مشکل ہے۔ پانچ سال ہوگئے مجھے ایم ایس سی کیے ہوئے۔ ان پانچ سالوں میں مَیں نے صرف 14 مہینے نوکری کی ہے۔ بھائی اور ماں کی دوائیاں اور علاج تو دور، میں تو بہن کو بی اے کروانے کی بھی حالت میں نہیں ہوں۔ جہاں نوکری کے لیے جاتی ہوں، لوگ کہتے ہیں، آپ کا تو تجربہ ہی نہیں ہے۔ سچ بھی ہے۔ میری جانکاری کو زنگ لگتا جارہا ہے، میری وِدھا ہر دن گھٹ رہی ہے۔ ڈگریاں پرانی ہورہی ہیں اور میری ہمت ٹوٹ رہی ہے۔ میں تھک گئی ہوں!“
مول بھاؤ کرکے، کئی برقعے پہن کر، ایک سستا سا برقعہ ان دونوں نے خریدا۔ ہوری کو یاد آیا، ایک بار دامنی نے کہا تھا، ”کیسا لگتا ہوگا اپنے چاروں طرف اندھیرا لپیٹے ہوئے چلنا۔ جیسے اپنی قبر ساتھ لیے چل رہے ہوں۔ بِل لے کر ہوری نے دکاندار کو پیسے پکڑائے۔ پیکٹ لیتے ہوئے اسے لگا جیسے اپنے کسی بہت قریبی کے لیے کفن خریدا ہو۔
ہر دن دامنی جیسی کتنی لڑکیوں کو ایسے کالے کفن پہناکر، بے چہرہ اور بِن پہچان بنا دیا جاتا ہے۔ سماج ان قبروں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہر دس سال پر جمہوریت کے رکھوالے ہندوستانی آئین کی ہدایت پر جب عددشماری ہوتی ہے تو ان قبروں کو بھی زندہ میں گنا جاتا ہے۔ اس بار کی جن گننا میں ایک ہندو کی قبر بھی گنی جائے گی۔ سماج اسے بھی زندہ کہے گا۔ تعجب ہے

 

ڈاکٹر نور ظہیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے
  • پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں
  • اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری
  • سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بے نام
پچھلی پوسٹ
اُڑان

متعلقہ پوسٹس

فوبھا بائی

جنوری 15, 2020

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ

دسمبر 13, 2025

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

ایکسپورٹ امپورٹ

جنوری 3, 2020

کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

فروری 6, 2026

تاریخ کے وارث – چوتھی قسط

جنوری 17, 2025

حضرت امام جعفرصادقؓ اورخلیفہ منصور

جنوری 29, 2024

حوصلہ افزائی کی ترغیب!

اکتوبر 23, 2020

رتی، ماشہ، تولہ

جنوری 12, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بارش – رحمت یا زحمت

ستمبر 17, 2025

تاج ہاؤس

جنوری 6, 2026

قبروں کے بیچوں بیچ

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں