408
کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب
کوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب
دل سوز کب ہوئے ہیں کہ جب خاک ہو گیا
تربت پہ میری شمع جلائی تمام شب
اے وائے تلخ کامیٔ روز بد فراق
ناصح نے جان غم زدہ کھائی تمام شب
از بس یقین وعدۂ دیدار خواب تھا
کیا خوش ہوئے کہ نیند نہ آئی تمام شب
اک آہ دل نشیں سے وہ بت منفعل ہوا
واللہ کیا ندامت اٹھائی تمام شب
لگتے ہی آنکھ دیکھ لیا جلوۂ نہاں
پیش نظر تھی شان خدائی تمام شب
اسماعیلؔ میرٹھی
