359
پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ
رستے سے جو بھٹک گیا وہ قافلہ بھی دیکھ
میں نے تو آسمان کو ٹھوکر پہ رکھ لیا
ذرے میں کائنات کا یہ زاویہ بھی دیکھ
کب تک تو سارے شہر کو بونا بتائے گا
خود پر بھی کر نگاہ کبھی آئینہ بھی دیکھ
میرے لبوں پہ دیکھ نہ تو خامشی کی مہر
تو اپنی حرکتوں کا ذرا سلسلہ بھی دیکھ
شہر انا میں آئنے کے رو بہ رو ہوں میں
احساس کی نظر سے مرا حوصلہ بھی دیکھ
عالمؔ نئے جہان کی سطوت بیان کر
صدیوں سے جس پہ نور ہے وہ راستہ بھی دیکھ
افروز عالم
