426
جہاں سے بھی آئے
مگر روشنی اور خوابوں کے سب رنگ نظموں میں ہیں
( کسی گل بدن سے چرائے نہیں )
بچا کر مری آنکھ ِ ِ ِ ان میں سے کچھ کو
زمیں سے دھنک تک
بہت کھل کے برسی ہوئی تیز بارش کی
رقصاں ہوا لے گئی
جو باقی بچے ہیں
انہیں چار سُو ہاتھ پھیلائے
بے رنگ پھولوں کو دے دوں
چلو ان پہ کچھ دن بہاروں کا موسم تو آئے
جہاں سے بھی آئے
فیصل عجمی
