خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامجشن آزادی کی شرعی حیثیت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

جشن آزادی کی شرعی حیثیت

از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026 0 تبصرے 3 مناظر
4

پاکستان بننے سے لے کر اب تک ہر سال 14 اگست کو ہم اپنے ملک کی ازادی کا جشن مناتے ہیں جسے جشن ازادی کا نام دیا جاتا ہے اس سال یعنی 14 اگست 2026 کو ہم پاکستان کا 79 واں جشن ازادی منا رہے ہیں ہر سال اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے ملک میں جشن ازادی کی تیاریاں بڑے زور و شور سے شروع ہو جاتی ہیں تمام سرکاری عمارتوں پر چراغاں ہوتا ہے پرچم لہرانے کی تقریب کا انتظام کیا جاتا ہےpakistan flag جو کہ عین 14 اگست کو فضا میں بلند کیا جاتا ہے قومی لیول پر ملک کے صدر کے سامنے چاروں افواج کے جوان سلامی پیش کرتے ہیں اور فضا میں اپنے کارنامے دکھا کر اپنی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں اسکولوں میں بچوں کے درمیان مختلف قسم کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں جس میں جشن ازادی اور ازادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں دی انہیں اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ بچوں کو یہ علم ہو کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے کیا کیا قربانیاں دی اور کتنی محنت کوشش اور تق و دو کے بعد ہمیں یہ ملک حاصل ہوا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس طرح سے ہم اپنے ملک کی ازادی کا جشن مناتے ہیں کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟ یا حقیقت میں کیا شریعت میں یوم آزادی منانا جائز ہے ؟ کیا قران و حدیث سے یوم آزادی منانے کا کہیں ہمیں کوئی ثبوت ملتا ہے تو سب سے پہلے قران مجید میں ارشاد باری تعالی ہے سورہ ابراھیم آیت نمبر 7
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
” اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا "۔ خلاصہ :
مفسرین نے اس کا خلاصہ کچھ یوں کیا ہے کہ ہمیں وطن کا ملنا یعنی ملک کا حاصل ہونا خدا کی نعمت ہے اور یہ اللہ رب العزت کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے اور اگر ہم نے اس نعمت کا اس رب الکائنات کے حضور شکر نہ کیا تو یہ نعمت ہمارے لیئے زحمت بن سکتی ہے اور اگر اس نعمت کا ہم نے شکر ادا کیا تو اس رب تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اور دے گا بس اس نعمت پر ہمیں اس رب کی بارگاہ میں اس کا یہ احسان ماننا ہوگا اور شکر ادا کرنا ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک کا یوم آزادی منانا یعنی خوشی منانا جائز ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے ہمیں ایک آزاد ملک نعمت کے طور پر عطا کیا ایسی جگہ جہاں ہم آزادانہ طور پر اسلامی احکامات پر عمل کرکے اللہ تعالی کا شکر ادا کرسکیں یہ واقعی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا خوشی منانا بلکل جائز ہے بلکہ نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم خداوندی بھی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں لیکن شریعت کے حدود کی پامالی کرتے ہوئے کوئی بھی خوشی منانا بلکل ناجائز و حرام ہے عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ خوشی کے موقع پر ناچ گانے کی محافل سجائی جاتی ہیں جہاں مرد اور عورت ساتھ ڈانس کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں شراب نوشی بھی کی جاتی ہے ہوائی فائرنگ ، آتش بازی ، بے پردگی ، فحاشی اور نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑک پر اس طرح دوڑاتے ہیں جو ان کی جان کے لیئے بھی خطرہ ہوتی ہیں اور قانون کی خلاف ورزی بھی جبکہ خلاف شرع بھی اس طرح کی خلاف شرع حرکت کرکے کوئی بھی خوشی ہو چاہے آزادی کی ہی خوشی کیوں نہ ہو ناجائز و حرام ہےملک کی آزادی کی خوشی میں اللہ تعالی کے احکامات کی نافرمانی کرکے ہم گویا اس رب ذوالجلال کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری کررہے ہیں جو سراسر گناہ عظیم ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جس ملک کی آزادی کے لیئے ہمارے آبائواجداد نے اپنے مال اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کی قربانیاں دیں آج انہی کی نسل اس نعمت کی ناشکری کرکے اپنے رب کو ناراض کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں یوم آزادی منانے کا سب سے اچھا اور اعلی طریقہ یہ ہے کہ ہم اس دن کو شکرانے نعمت کے طور پر منائیں یعنی ہم شکرانے کے نوافل اد کریں قران خوانی اور ذکر و نعت کی محافل منعقد کی جائیں درود پڑھکر ان لوگوں کو ایثال ثواب کریں جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیئے قربانیاں دی ایسے پروگرام ترتیب دیئے جائیں جو بلکل شریعت کے دائرے میں ہوں اپنی نئی نسل کو وطن سے محبت کرنے کا سلیقہ سکھائیں اچھا شہری بننے کی تربیت دی جائے اور نعمتوں کے شکرانے ادا کرنے کے اسلامی طور طریقوں سے انہیں آشناء کیا جائے ۔خوشی کا کوئی بھی موقع ہو چاہے خوشی وطن کی آزادی کی ہو یا گھر میں شادی بیاء کی دیکھا گیا ہے کہ ڈھول باجے اور گانوں کا کھلم کھلا استعمال ہوتا ہے آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ باجے کی آواز کو دنیا و آخرت کی ملعون آواز قرار دیا گیا گیا چنانچہ حدیث مبارکہ ہے کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمعہ :
دو آوازیں دنیا وآخرت میں ملعون ہیں:خوشی کے وقت گانے بجانے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگایئے کہ خوشی منانے کا ایسا طریقہ جو سراسر خلاف شرع ہو وہ خوشی کیا خوشی ہوسکتی ہے ؟
اسی طرح سنن ابی دائود کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ،
” گانا دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے ”
یعنی گانا سننا اور اس کا گانا دونوں خوشی کے وقت نعمت کی ناشکری میں آتے ہیں اور یہ بلکل ناجائز و حرام ہے یہ ہی مسئلہ ہے کہ ہم خوشی کے موقع پر ساری شرعی حدود کو پار کرکے شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی مرضی سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور نعمت خداوندی میں ہم ناشکری کرجاتے ہیں جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں یہ بات یاد رکھیئے کہ آزادی کا جشن خالصتاً کوئی مذہبی فریضہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی تہوار ہے قومی جشن ہے یہ اللہ تبارک و تعالی کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں ایک ایسا ملک نعمت کے طور پر عطا کیا ہے جہاں ہم آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں گھوم پھر سکتے ہیں کھا پی سکتے ہیں اپنے رب تعالی کی عبادات کا فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں اور شریعت پر چلنے کے لیئے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیغمبروں اور محبوب بندوں کو ہماری رہنمائی کے لیئے بھیجا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس نعمت پر اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرکے آزادی کے دن کو منانے کی ضرورت ہے ۔ آزادی کی جدوجہد اور اس کے لیئے کوشاں رہنا انسان کا صدیوں سے مقصد رہا ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ہم وطن سے محبت کا دعوہ تو کرتے ہیں اس کی آزادی کا جشن بھی دھوم دھام سے مناتے ہیں لیکن اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کو ہم کس طرف لیکر جارہے ہیں یہ سب لوگ واقف ہیں کیا ہم 79 سالوں میں اس ملک میں اسلام کا نظام نافذ کرسکے ہیں ؟ کیا اسلام کے نام پر آزاد ہونے والے اس ملک کو صحیح اسلامی ریاست بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں ؟ کیا اس ملک کی نئی نسل میں اکثریت ہمیں اسلام سے دور نظر نہیں آتے ؟ ہمیں سوچنا ہوگا سمجھنا ہوگا اور اس ملک کو ایک صحیح اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے میں اگر کوئی شخص یا جماعت سرگرم ہے تو اس کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ ہماری اصل کامیابی اور اصل آزادی اس ملک میں اسلامی اور شرعی نظام قائم کرکے اسے ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہے اگر ہم واقعی ملک سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ اس کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنا اپنا کردار بخوبی نبھانے کی کوشش کریں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں جھوٹ ، رشوت ، سود ، دھوکے بازی ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، چوری ، ڈکیتی اور کرپشن جیسی وباء سے اگر بچ کر اس نعمت خداوندی کی ہم نے قدر کی اور اس رب تعالی کا شکر ادا کیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا یہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہوجائے اور حقیقی معنوں میں ہم ایک آزاد وطن میں آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ پچھلی قومیں اوپر لکھے گئے عیبوں کی وجہ سے ہی تباہ ہوئیں لیکن اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے امتی ہونے کے سبب ہم پر وہ عذاب نازل نہیں کیئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور دشمنوں کی بری نظر سے بچاکر رکھے ان شاء اللہ۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

ہمیشہ سر بلند رہے ہمارا یہ سبز ہلالی پرچم
ہماری عزت اور وقار ہمارا یہ سبز ہلالی پرچم

چاند تاروں سے جھلملاتا ہو ا لہراتا ہوا ہوائوں میں
امن و آشتی کا ہے اک گہوارہ یہ سبز ہلالی پرچم

بچے بوڑھے اور جوان اس کو اٹھائیں ہاتھوں میں
ایک ہی صف میں کردے کھڑا یہ سبز ہلالی پرچم

سارے ملکوں کے پرچم فضا میں جب لہراتے ہیں
ہوتا ہے الگ اور سب سے جدا یہ سبز ہلالی پرچم

اس پرچم سے ہم کو ملی اس دنیا میں اپنی پہچان
بڑی شان و شوکت عظمت والا یہ سبز ہلالی پرچم

جب بھی پاکستانی نے اس ملک کا نام کیا روشن
اس نے بھی اٹھایا ہاتھوں میں یہ سبز ہلالی پرچم

ہمیں فخر ہے اپنے پرچم پر اس کے چاند تاروں پر
یاروں یوں بنارہے افتخار اپنایہ سب ہلالی پرچم

سرنگوں نہ ہو کبھی ہے رب سے دعا یہ یوسف کی
بس چھوتا رہے آسماں کو صدا یہ سبز ہلالی پرچم

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ملکی سالمیت اور سیاسی انا
  • سوت پر سوت اور جلاپا
  • پاکستان کا مضبوط مؤقف
  • شعری مجموعہ – سوچ سفر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان کی آزادی میں مکالمے کی اہمیت
پچھلی پوسٹ
14 آگست اور ایک عام آدمی

متعلقہ پوسٹس

کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

دسمبر 10, 2025

آئیے کوئٹہ چلیں

فروری 9, 2019

اے دشتِ بے اماں اب پیچھا نہ کر ہمارا

دسمبر 17, 2025

عالمی فلوٹیلا

اکتوبر 2, 2025

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

اگست 15, 2025

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

حافظ نعیم صاحب کو سلام

جنوری 30, 2026

ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے

مارچ 15, 2026

آدم بو

نومبر 26, 2020

حج اکبر

دسمبر 10, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حسینیت کا پیغام – انسانیت کے...

ستمبر 7, 2021

آفتاب گردان کی پناہ گاہ

دسمبر 12, 2024

بے نام

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں