خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشعری مجموعہ – سوچ سفر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقید

شعری مجموعہ – سوچ سفر

از گل بخشالوی مئی 5, 2024
از گل بخشالوی مئی 5, 2024 0 تبصرے 44 مناظر
45
 شعری مجموعہ ” سوچ سفر” روایتی شاعرانہ اظہار کی حدود سے ماورا ایک پشتون شاعر کی اردو شاعری ہے۔
گل بخشالوی کی خواہش تھی کہ میں ان کے مجموعہ کلام پر سیر حاصل تبصرہ لکھوں ، ادب دوست گل بخشالوی کی اس خواہش کا احترام لازم تھا ، میں بخشالوی کی ادبی خدمات کا شیدائی ہوں ایک پختو ن اردو ادب سے اپنے پیار میں اس قدر صادق اور امین ہے ، میں جانتا ہوں ہم پختونوں کو اپنے پختوں بھائی پر ناز ہے
 گل بخشالوی کی ادبی خدمات کا معترف تو میں ہوں ،میں انکی شاعری بھی پڑھتا اور سنتا رہتا ہوں لیکن میری آسانی کے لئے بخشالوی نے شعری مجموعہ "سلگتے خواب” میں اپنی شاعری مجھے ارسال کی اور میں نے گہرائی میں بخشالوی کی شاعری کو پڑھا اور ان کی شاعری کو پرکھا ، تب میں قلم اٹھایا اور لکھنے لگا
شعری مجموعہ "سلگتے خواب” میں گل بخشالوی نے شاعرانہ شکلوں کی متنوع رینج کو شامل کیا ہے "سلگتے خواب” میں ، حمد، نعت، غزل، نظم، اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے دل سے لکھی گئی شاعری ہے۔ کتاب کا آغاز ایک دل کو چھونے والی حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے اس کے بعد نعت رسول مقبول کو شامل کیا گیا ہے، جس میں گل بخشالوی کی روحانی گہرائی اور تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔ شاعر کی داستان حیات سےgul bakhshalvi میں بخوبی واقف ہوں ، اس کی پیدائش بخشالی ضلع مردان، خیبر پختونخواہ سے لے کر اپنی ماں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کے لیے اس کی گہری محبت تک کی کہانی کو شاعری کے انداز میں اس کتاب ”سلگتے خواب” میں شامل کیاگیا ہے۔ وہ اپنی ایک تالیف میں اپنی ماں کو اپنی پہلی محبت قرار دے کر لکھتے ہیں کہ ”میری پہلی محبت میری ماں ہے۔ شعور کی دہلیز پر پاکستان کی سوہنی دھرتی نے میرا استقبال کیا، ماں اور ماں دھرتی سے میری محبت میری زندگی کا حسن ہے۔صوبہ خیبر پختون خوا کا باشندہ ہوں، مردان کے مضافاتی گاﺅں بخشالی میں 30 مئی 1952ءکو پیدا ہوا، والدین نے میری شناخت کیلئے میرا نام سبحان الدین رکھا اور گلشن ادب میں آ ج میری پہچان گل بخشالوی ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ میں آ ٹھویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی میرے والد محترم اسرار الدین (مرحوم)، اے سی سینٹر نوشہرہ کے چونگی نمبر2میں عبدالحکیم خان کے مال گودام میں ملازم تھے غربت کو میں نے سنا نہیں بلکہ انتہائی قریب سے دیکھا ہے”۔
گل بخشالوی کی ابتدائی زندگی پاک فوج میں ان کے دور میں ایک بیداری سے گزری۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انکاو ¿نٹر نے مارشل لاءاور جمہوریت کے درمیان فرق کے بارے میں ان کی بیداری کو ہوا دی، جس سے ان کے اندر شاعرانہ اظہار اور مزاحمتی شاعری کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ایک سپاہی سے شاعر میں اس کی تبدیلی ان سماجی اور سیاسی اثرات کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے اس کی شاعرانہ شناخت کو تشکیل دیا۔وہ لکھتے ہیں۔ ”میں پاک فوج کی دادِ شجاعت پر میرا دل دھڑکنے لگا میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر 1966ءمیں وطن عزیز کا سپاہی بن گیا لیکن شعور کی پرواز کچھ اور تھی ذہن نے پاک فوج میں مزدور سپاہی اور افسربادشاہ کے فرق کو تسلیم نہیں کیا، جون 1968ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوبی مارشل لاءکے خلاف تحریکجمہوریت کا عَلم بلند کردیا تو مارشل لاء اور جمہوریت میں فرق کے احساس نے میرے شعور وفکر کو جھنجھوڑا میرے وجود میں لفظوں کے رِدم میں کہنے کا جذبہ مچلنے لگا۔ میں ا ±س وقت کھاریاں چھاﺅنی میں پاکستان فوج کا سپاہی تھا سخت پابندیوں کے باوجود میں کھاریاں شہر میں جی ٹی روڈ پر کاروانِ جمہوریت کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی استقبال کو دیکھنے چلا آ یا، اور بھٹو صاحب سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا ، جمہوریت کے علمبردار نے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور میں نے اپنی مادری زبان پشتو میں پہلی نظم کہی جو میں نے اپنے والد صاحب (مرحوم )کو سنائی جو نیشنل عوامی پارٹی کے سرخ پوش بنیادی رکن تھے۔ میری نظم سے میرے والد صاحب کی سوچ میں تبدیلی نے مجھے حوصلہ دیا 1971ءکی جنگ سے پہلے پاک فوج کو میں نے خیر باد کہہ دیا اور واہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کر لی واہ فیکٹری سے ہفت روزہ پرچہ واہ کا ریگر شائع ہوتا تھا اس پرچے کے ایک شمارے میں استاد دامن کی ایک نظم کے جواب میں ایک مزاحیہ نظم کہی جو بغیر کسی سے اصلاح لیے میں نے ہفت روزہ واہ کاریگر کے ایڈیٹر کو دی اور وہ شائع ہوگئی یہ میری ا ±ردو کی پہلی نظم تھی”۔
گل بخشالوی کے ادبی سفر میں زبان اور تعلیم اہم چیلنج بن کر ابھرے۔ان کی مادری زبان پشتو ہے اور لسانی رکاوٹوں کی وجہ سے نامکمل رسمی تعلیم کے باوجود گل بخشالوی کی اردو ادب سے وابستگی غیر متزلزل رہی۔ ان کی ابتدائی تحریریں، خاص طور پر پشتو اور بعد میں اردو میں ان کی ادبی خدمت کی آئینہ دار ہیں۔ اپنی تعلیم کے ادھوری رہنے کے بارے میں گل بخشالوی رقمطراز ہیں۔ ” واہ فیکٹری میں ملازمت کے دوران( پرائیویٹ ) میٹرک کا امتحان پہلی پوزیشن میں پاس کیا تو حوصلہ ملا اور ایف کا امتحان دیا لیکن انگریزی میں تین نمبر کم ہونے کی وجہ سےفیل کر دیا گیا انگریزی نہ تو میری مادری زبان تھی نہ قومی اس طرح میری خواہش کے باوجود میری تعلیم انگریزی کی و جہ سے ادھوری رہ گئی”۔
 گل بخشالوی کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ادب کی خدمت کے لیے ‘بزم گل’ کے نام سے ادبی تنظیم بنائی ، لیکن ادب دوستوں کے مشورے پر نام تبدیل کر کے ”قلم قافلہ” رکھ دیا ، استاد ِ محترم علامہ انیس لکھنوی کی سرپرستی میں قلم قافلہ کی پہچان نے ادبی سفر میں آگے آنے میں اہم کردار ادا کیا۔
گل بخشالوی نے ممتاز شاعروں کے قلمی تعاون سے 1984 میں غزل انتخاب "سوچ ر ±ت”کی اشاعت کا اہتمام کیا ایک سال کی بھر پور محنت سے 376 شعراءاور شاعرات کے کلام پر مشتمل غزل انتخاب سوچ رت 1984ءشائع ہوا جو دنیائے اردو ادب میں آ ج بھی میری پہچان ہے”۔تاہم ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ گل بخشالوی کی زندگی کا سفر مشکلات سے خالی نہیں تھا۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہجرت اسے سعودی عرب، برطانیہ اور بالآخر امریکہ تک لے گئی۔ شاعر نے اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی بھرپور انداز میں خدمت کرتے رہے۔ معاون ادبی حلقوں کی مدد سے امریکہ میں ادبی دنیا میں اپنا نام بنایا اور پاکستان واپسی نے کھاریاں میں آکر بحر اوقیانوس کے اس پار ان کی اہمیت کو اپنے سفرناموں کے ذریعے بیان کیا۔ گل بخشالوی کی تحریروں میں نیک بختوں کے ساتھ ساتھ کچھ بدبختوں کا ذکر جا بجا ملتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ”کچھ بدبخت لوگ خوش بختوں کے زوال کے دل وجان سے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں ایسے ہی کچھ بدبختوں کے ہاتھوں گر پڑا تھا لیکن میرے ذہن میں سعدی ؒ کا یہ قول دمک رہا تھا۔”لوگوں کے ہاتھوں سے کوئی تکلیف پہنچے تو رنجیدہ نہ ہو کیونکہ راحت اور رنج آ دمی کے بس میں نہیں ،دوست اور دشمن کی طرف سے آ نے والی مخالفت اور تکلیف کو خدا ہی کی طرف سے سمجھ اس لیے کہ ان دونوں کے دل ا ±سی کے قبضہ قدرت میںہیں ‘ بخت اور دولت کا انحصار لیاقت اور تجربے پر نہیں ،یہ تو تائید یزدانی کے کرشمے ہیں اگرروزی کا انحصار عقل ودانش پر ہوتا تو مجھ جیسے ناداں بھوکے مرجاتے۔مصائب ٹوٹ پڑنے سے قبل آ دمی زندگی کے آ رام کی قدروقیمت نہیں جانتا ،اسی طرح کسی چیز کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ا ±س وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جائے”۔
گل بخشالوی کا امریکہ میں ایک جنرل اسٹور میں انتھک محنت کرنا، مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کے غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی پاکستان واپسی اردو ادب سے ان کی وابستگی کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت ہے، جو اپنی ثقافتی جڑوں سے ان کے غیر متزلزل تعلق کو تقویت دیتا ہے۔امریکہ میں قیام کے دوران اردو ادب کی خدمت کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ” امریکہ میں ایک جنرل سٹور سیون الیون میں ملازمت ملی تین سال تک قلم اور کا غذ کو چھوڑ کر پہلے خود کو اور پھر خاندان کے بچوں کوپاﺅں پہ کھڑا کیا ، تین سال بعد امریکہ میں ادب دوستوں سے رابطہ کیا ادب دوستوں سے رابطے میں ممتاز کالم نگار اشرف سہیل اور ممتاز شاعر مامون ایمن نے بھر پور ساتھ دیکر ادبی دنیا میں لا کھڑا کیا ، نیو یارک میں ادب دوستوں نے میرے اعزاز میں محفل سجائی اور مختصر عرصہ میں ، میں امریکہ میں کھاریاں کی پہچان بن گیا میرے دونوں بچے شاہد بخشالوی اور امجد بخشالوی ساوتھ افریقہ گئے اللہ تعالیٰ کے کرم نوازی سے جب دونوں بھائی پاﺅں پر کھڑے ہو گئے تو بچوں کی خواہش پرمیں بارہ سال بعد ( 2010امریکہ سے ساﺅتھ افریقہ گیا ایک ماہ اپنے بچوں کے ساتھ قیام کے بعد مستقل طور پر پاکستان چلا آ یا اور ادبی زندگی کے لئے ایک بار پھر خود کو وقف کر دیا ہے۔ ان شاءاللہ جب تک صحت ، انگلیوں، اور ا ٓنکھوں کا ساتھ ہے ، جب تک وجود میں صحت مند زندگی دوڑ رہی ہے ارودو ادب سے وابستہ رہوں گا اس لئے کہ میری پہچان اردو ، اور اردو کے قدر دان ہیں”۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ "سلگتے خواب” صرف ایک شعری مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ گل بخشالوی کی اردو ادب کے لیے ان کے غیر متزلزل جذبے اور اپنے وطن سے ان کی گہری محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ یہ شاعر کے ادبی سفر کی آئینہ دار ہے – یہ ایک پشتو بولنے والے اردو شاعر کی ایک ایسی تاریخ ہے جو مشکلات، استقامت، اور شاعری کے فن کے لیے ایک انتھک لگن سے لکھی گئی ہے۔
کتاب کا عنوان، "سلگتے خواب” شاید گل بخشالوی کے ا ±ن سلگتے خوابوں کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے ان کی شاعرانہ شوق کو ہوا دی- ایک ایسا سفر جو خوبصورت افکار و خیالات سے بھڑکایا گیا ہو اور مشکلات سے آزمایا گیا ہو اور تخلیقی صلاحیتوں کے نہ ختم ہونے والے شعلے سے روشن ہوا ہو۔
بخشالوی کی داستان حیات ان کی شاعری میں بھی نظر آرہی ہے، ان کی جدوجہد اور کامیابیوں کا ذکر ان کے شعرے مجموعہ "سلگتے خواب” میں بہترین اردو شاعری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اشعار کے مجموعے کے طور پر اردو کے ادبی منظر نامے کا حصہ بنا ہے بلکہ ایک ایسے پشتون شاعر کی اردو زبان میں شاعرانہ اظہار اور غیر متزلزل جذبے کا ثبوت ہے جس کی زندگی کی کہانی ہر بند میں نظر آتی ہے۔ میں شاعر کو "سلگتے خواب” کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ باتیں کرے
  • دل اب اُس کو ہار رہا ہے
  • اول پوزیشن
  • انار کلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
گل بخشالوی

اگلی پوسٹ
نعت ﷺ مبارکہ برنگ آزاد نظم
پچھلی پوسٹ
قیس بنی عامر اور لیلیٰ کی ماں

متعلقہ پوسٹس

وارسا کی شرارتی دیویاں – پہلی قسط

جنوری 20, 2025

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

سالار کی شادی

جنوری 5, 2022

اپنا ملن کسی کی دلی

نومبر 11, 2025

خواب سہانے بیچ رہی ہوں

اکتوبر 12, 2025

علمی احتیاط

جنوری 17, 2026

زندگی کا دائرہ محدود ہے

مئی 5, 2020

شاخ سے شاخ جڑی رہتی ہے

جون 26, 2024

یہ جو ہو جانے کے احساس سے

نومبر 11, 2025

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چھوٹا منہ بڑی بات

اکتوبر 3, 2021

نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ...

نومبر 29, 2020

بُھلا دیا نا ۔ ۔ ۔...

مئی 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں